Latest News

Featured
Featured

Gallery

Technology

Video

Games

Recent Posts

Thursday, 8 February 2018

پولس کے خطوط کا مبینہ ربائی انداز

پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "
The Myth maker Paul & the Invention of Christianity" کے باب نمبر7"Alleged Rabbanical Style in Poul’s Epistles" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی نے  مقدس پولس کے دعویٰ فریسی تربیت کاتحقیقی جائزہ مقدس پولس کے انداز تحریر کومدنظر رکھتے ہوئے لیا ہے کہ آیا ان کا طرزکلام ایک باعمل یہودی ربائی کے طرزتحریر سے مماثلت رکھتا ہے یا نہیں۔ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخانددان ہے۔ان کے دادا مشہور ربی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔
            یہ ترجمہ میری اور محترمہ صباخان صاحبہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ہم اپنی اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے یہ تو بعدازمطالعہ آنے والی آپ کی قیمتی آرا ء سے ہی علم ہوسکے گا۔آپ کی رائے کا منتظر۔عبداللہ غازیؔ
پولس کے خطوط کامبینہ ربائی اندازتحریر
فریسی اور دوسرے یہودیوں کے لیے یسوع کو خدائی مرتبہ سے منسوب کرنا بت پرستی جیساتھا۔یہودیت نے ہمیشہ انسانوں کے خدائی مرتبہ کا انکار کیاحتی کہ اپنے عظیم ترین نبی موسیٰ کو بھی کسی خدائی مرتبہ سے نہیں نوازا،بلکہ ان کی انسانی کمزوریوں اور خامیوں کو صحائف مقدسہ میں زوردے کر بیان کیا۔ یہودیت کو اپنی پوری تاریخ میں خدائی مرتبہ کی حامل انسانی شخصیات سے پالاپڑتارہا،کبھی فرنوعوں کی خدائی کی صورت میں توکبھی یونان اورروم کے خدائی بادشاہوں کی شکل میں۔انہوں نے اس قسم کے انسانوں کے پوجنے کوظلم وناانصافی اور غلامانہ ذہنیت سے جوڑا۔یہودیوں نے اپنے ممسوح بادشاہوں کو ہمیشہ ایسے انسان سمجھاجن کے اعمال وافعال نہ صرف پرکھے جاسکتے تھے بلکہ ان پر تنقید واعتراض بھی کیاجاسکتا تھا۔ لہٰذا کسی"مسیح"کو خدائی درجے سے نوازنے  کےنظریہ نے نہ صرف بت پرستی ہونے کی وجہ سے ان یہودیوں میں غصہ کو ابھارا بلکہ ادارتی مخالفت اورتنقیدواعتراض کے ممکنہ حدف بن  جانے کے پیش نظر ،ان میں گہرے سیاسی غم وغصہ کو بھی پروان چڑھایا۔جبکہ یہود ایک مسیح کے منتظر تھے تاہم ان کا خیال یہ نہ تھا کہ وہ مسیح کوئی خدائی درجہ بھی رکھنے کے ساتھ ساتھ تنقید سے بالاتربھی ہوگا،بلکہ اس کے مقابلے میں مسیح ایک نبی کے ساتھ نمودار ہوگایاایلیاہ جیسے کسی نبی کے ساتھ جو اس مسیح کو اس کی کوتاہیوں پر اس وقت سرزنش بھی کرسکے گا جب وہ "استثناء "کے ان الفاظ کو نظرانداز کردے گا "کہ اس کادل اپنے بھائیوں کے دلو ں سے زیادہ فوقیت نہ رکھتا ہوگا"(استثناء 17:20)
            غرض پولس نےخدائی درجہ کے مفہوم کے لیے جو لفظ"کرائسٹ"(عبرانی کے "مسیح" کا یونانی ترجمہ)استعمال کیاتو یہودیت میں اس کی پہلے کوئی مثال نہ تھی اور کسی بھی یہودی کو یہ محسوس کروانے کے لیے بالکل کافی تھا کہ یہ "مسیح" کے بارے میں یہودی فکر سے بالکل الگ استعمال تھا۔اسی طرح پولس کے خطوط میں"مسیح میں ہونے" کے تصورکاباربار ذکر آیا ہے،اس کی یہودی ادب میں کوئی مثال نہیں ملتی،خواہ وہ فریسی ہو یا کسی دوسرے فرقے کا یہودی ادب ہو۔اس سے مراد، یسوع کی خدائی شخصیت سے،ایک قسم کا وصل واتحاد ہے،یا انفرادیت کا اس میں ڈوب جانا ہے،اور صلیب پانے اور دوبارہ جی اٹھنے کے تجربہ میں عام انسان کی شراکت داری ہے۔ یسوع کو خدائی مرتبہ تفویض کیے جانے سے ہٹ کر ،یہ تصور خداسے ایک ایسے ربط کا وتعلق کااظہار کرتا ہے جس کا یہودیت میں نام ونشان نہیں ، جس میں انفرادی انسان کی شخصیت کی خودمختیاری کو پیش کیا گیا اور اسکے قائم رہنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ "مسیح میں ہونے" کاتصور بہرحال"پراسرار عبادتوں" کے قدیم مسالک میں بآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔
            مذہبی طورپرمحتاط یہودی کے لیے مزیدچونکادینے والی بات،پولس کا ،خدائی درجہ پانے والے یسوع کے لیے "لارڈ"(یونانی کیوریس) کا لفظ استعمال کرنا ہے۔ یہی لفظ عبرانی بائبل کے یونانی اور ہفتادی تراجم میں ،خدائے عظیم،زمین وآسمان کے خالق کے مقدس نام کے لیے استعمال کیا گیاہے۔لہٰذا کیوریس یالارڈ کے نام کو اس کے خدائی مفہوم میں کسی ایسے انسان کے لیے استعمال کرنا جو ابھی زندہ تھا اور پھر زمین پر اس کی وفات بھی واقع ہوگئی ہو،کسی بھی فریسی یایہودی کے لیے انتہائی گستاخانہ تھا۔ جبکہ پولس کے خطوط پانے والوں کے نزدیک یسوع کے لیے لارڈ(خداوند) کالفظ استعمال کرنا بالکل بھی ہلادینے والا نہ تھا،کیونکہ دیومائی (یونانی قبائل) رسوم وعبادات کی خدائی ہستیوں کےلیے یہ عام لفظ تھا، جن کے نجات دہندہ  خداؤں کے ساتھ ان کے معتقدین،خیالی وفات اور دوبارہ جی اٹھنے کی رسومات میں اپنی روحوں کو یکجاومتحد کرلیتے تھے۔
            غرض پولس کے خطوط کا مذہبی طرزوانداز یہودیوں کے لیے چونکادینے والا تھا لیکن یونانی ہیلینی ثقافت کے غیریہودی لوگوں کے لیے بالکل نامانوس تھا۔ اس کے باوجود پولس نے نے جب اس قسم کے تصورات کو ایک ایسے شخص(یسوع) پر منطبق کیا جو یہودی سیاق وسباق میں زندہ رہاتھا،تواسے اچھی طرح علم تھا کہ وہ سب کو چونکادینے والا ایک انوکھاسامان کررہاہے، جبکہ اس نے بالکل واضح انداز میں اس بات کا ایک جگہ اظہار بھی کردیا ہے۔ لیکن یہ چیز بھی بعض علماء کو،پولس کے نہایت غیریہودی تصورات کو قبول کرنے کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش سے باز نہ رکھ پائی اور انہوں نے یہودیت اور پولس کے تصورات کے درمیان تسلسل کو اس حل کے لیے تلاش کیا۔حتی کہ وہ علماء بھی جوپولس کے تصورات اور یہودیت کے درمیان ایک ناقابل قبول خلیج کا اعتراف کرتے،وہ بھی اس کے باوجود اصرار کرتے ہیں کہ پولس نے اپنی مذہبی زندگی ایک فریسی کی حیثیت سے شروع کی تھی۔ چنانچہ اس کی وجہ سے انہیں ایک اور مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ پھرآخرکیسے ایک تربیت یافتہ اوراعلانیہ فریسی پولس نےفریسی ازم سے اس قددر دورپرے کے تصورات تک رسائی حاصل کی۔اس کا حل دمشق کے راستہ پر پولس کے تبدیلی مذہب کی نوعیت میں  پایا جاتا ہے۔یہ کوئی تدریجی ترقی وارتقاء نہ تھا بلکہ ایسا شدیدمکاشفہ تھا جس نے پچھلے تمام تصورات اورعقائد پر جھاڑوپھیر دیا،نتیجہ یہ ہوا کہ پولس کےعلم وعرفان مسیح میں اور  اس کے پچھلے مذہبی مؤقف کے درمیان ،جوبالکل مخالف سمت میں واقع تھے، کسی تسلسل وتعلق کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
            اب یہ نقطہ نظر بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اپنی تبدیلی کے بعد بھی پولس ویسا ہی تھا جیسا کہ تبدیلی سے قبل تھا اور وہ اپنی تعلیم وتربیت کی تمام علامات نہیں چھپا سکتا تھا،لہٰذا اس کو مسلمہ سمجھا گیا کہ پولس کی تحاریر اس کی تعلیم کے پختہ نقوش ظاہر کریں گی ،کہ پولس(اس کے فریسی ہونے کے دعویٰ کے بالکل مخالف سوچتے ہوئے) فریسی ازم کے مخصوص دلائل وطریقہ اظہار کی پیچیدگیوں کو مستقل استعمال کرسکے گایا نہیں بصورت دیگر مزید کوئی اور شخص اس کے خود کے نقوش کو چھپاسکتا ہے۔پھر پولس کےمبینہ  خطوط ،پولس کی ابتدائی زندگی کے عہدجدید کے قصے کی تصدیق کرتے ہوئے غیرفریسی نظریات کو فریسی انداز میں ظاہر کرتے ہیں ۔
             بہت سے مصنفین پراعتماد بیان کرتے ہیں کہ پولس کے خطوط فریسی دلائل اور تاثرات سے لبریز ہیں اور پولس کی دی گئی مثالوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کرچکے ہیں ۔ان کا اس طرح کرنا کتناناقابل یقین اور بظاہر  چونکا دینے والا ہے۔درحقیقت بلاخوف وخطر کہاجاسکتا ہے کہ اگر لوگوں کو پہلے ہی یقین نہیں دلایاجاچکا ہو کہ پولس فریسی تھا(جیساکہ اس کا خود کا دعویٰ ہے اور اسی کو اعمال کی کتاب میں بھی گھڑا گیا ہے)اس کے خطوط کے مطالعہ کے بعد کوئی شخص بھی اسے فریسی نہیں کہے گا نہ ہی ایسا شخص سمجھے گا جسے ربائی دماغ کا ذرا بھی ادراک ہو۔اس کے بجائے وہ  فریسی رببائیوں کے نظریات کی خصوصیات سے ناواقف فلو کی مانند ایک ہیلینی مصنف سمجھا جائے گاجس کی تحاریر میں بائبل کے یونانی ترجمے کا گہراا ثر ہو۔
            اگر ہم خود کو اس مفروضے سے آزاد کر لیں کہ پولس ایک فریسی تھا تو پھر ہمیں یہ شناخت کرنے کے لیےمجبور نہیں کیاجاسکتا کہ پولس کے خطوط کاانداز وہی ہے جو فریسی ازم کا ہے، اور ہم ان (خطوط)کو ان کی ہیلی نیازم  کے ادب کی مقررہ جگہ متعین کرسکتے ہیں ۔یہودی اور مسیحی دونوں  اسکالرز کی طرف سے خطوط میں فریسی نقوش تلاش کرنے کی کوشش  کو علماء کی ایک غیریقینی صورتحال کے طور پر کیاجاسکتا ہے جو ہمیشہ متن میں وہ  تلاش کرنے کی کوشش کریں گےجس پر خارجی وجوہات کی موجودگی کے سبب اعتقاد کیاگیا ہے خواہ متن خود اسے سہارادینے کا ارادہ کرتا ہویانہیں۔
            چنانچہ ہمیں عام طور پر ان لوگوں کی طرف سے دی جانے والی  چند مثالوں کا تجزیہ کرنے دیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے ہر طرح سے  زحمت کرتے  ہوئے مثالیں پیش کرتے ہیں کہ پولس کا فریسیانہ دماغ کیسا تھا۔فریسی افکار کی بنیادی  تشریحانہ منطق کی  ایک مثال کے ساتھ ہم اس امر کی ابتداء کرسکتے ہیں۔
            فریسیانہ دلائل کا ایک  اہم ہتھیار کال واہومر(qal va-homer)دلیل کے طور پر شناخت کیا جاتا تھا ۔مغربی تہذیب میں یہ  فورتوری(fortiori)دلیل کی حیثیت سے معروف ہے،لیکن یہ ارسٹاٹل کی منطق پر قائم مغربی افکار میں تالمود اورفریسی سوچ سے زیادہ کم اہمیت کاکردارکرتی ہے۔قل ہوامیر(لغوی معنیٰ ہلکااوربھاری) کامطلب کچھ یوں بنتاہے اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں کچھ معلوم ہوجو اپنی مخصوص نوعیت میں لطیف شکل رکھتی ہو تویہ ایک دوسری مشابہ ہیئت یاچیز کے بارے میں بھی بعینہ درست ہوگا جووہی قدرکثافت میں رکھتی ہو۔ایک پیچیدہ مثال بائبل میں پائی جاتی ہے جہاں مریم کوتنقید کرنے کے باعث گناہگار قرار دے کرکوڑھ کے مرض کی سزا دی جاتی ہے جہاں خدا موسیٰ سے کہتا ہے اور موسیٰ خداسے دعاکرتا ہے کہ وہ شفاء یاب ہو۔اگر اس کے باپ نے اسے چہرے پر تھوک دیاتھا توکیا اسے سات دن تک شرمسار نہ ہوناچاہیے تھا؟سووہ سات دن تک لشکرگاہ کے باہر بند رہے اس کے بعد وہ پھراندرآپائے۔(گنتی12:14) یہ مثال دراصل ربائی تحاریروں میں بطورایک نمونے کے اس وجہ سے حوالہ دی گئی ہے جو پولس کے بارے میں  ہمارے دلائل میں اہمیت ثابت کرے گی۔اگرایک باپ کےگناہگارقرار دینے (نسبتاًلطیف شے ہے)پرسات دن کی بےدخلی کی سزا دی جاتی ہے ،توخداکا کسی کو گناہگارقرار دینے(نسبتاًکثیف شے )پر اس طرح کی سزا سے زیادہ سزاملنی چاہیے۔(اسی وجہ سے مریم کو فی الفورشفاء نہیں دی گئی)جدیدزندگی سے مزیدآسان قابل تفہیم مثال یہ ہے :اگر ایک شخص ہلکی شراب کی کچھ مقدار پینے کے بعد کار چلانانہیں چاہتا توپھر سب سے زیادہ اسے کار نہ چلانا چاہیے جس نے نشہ آورشراب کی اتنی ہی مقدار پی رکھی ہو۔
            اب پولس اپنے خطوط میں،بالکل یہی فورتوری دلیل استعمال کرنے کا شوقین ہے اور اسے پولس کی فریسیانہ تربیت کا ناقابل تردید ثبوت سمجھا جاتا ہے جواسے دلیل کے لیے اس طرح کا ایک انداز فراہم کرتا ہے اُس وقت بھی جب وہ ایسے نظریہ کے لیے بحث کررہاتھا جس کو فریسی شدت سے رد کر چکے تھے۔پولس کا 'قل ہوامیر'استعمال کرنے کی مثال درج ذیل ہے۔
            کِیُونکہ جب باوُجُود دُشمن ہونے کے خُدا سے اُس کے بَیٹے کی مَوت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اُس کی زِندگی کے سبب سے ضرُور ہی بچیں گے۔ (رومیوں5:10)
کِیُونکہ جب ایک شَخص گُناہ کے سبب سے مَوت نے اُس ایک کے زرِیعہ سے بادشاہی کی تو جو لوگ فضل اور راستبازی کی بخشش اِفراط سے حاصِل کرتے ہیں وہ ایک شَخص یعنی یِسُوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زِندگی میں ضرُور ہی بادشاہی کریں گے۔ (رومیوں5:17)
            کِیُونکہ جب اُن کا خارِج ہوجانا دُنیا کے آ مِلنے کا باعِث ہُؤا تو کیا اُن کا مقبُول ہونا مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے برابر نہ ہوگا؟۔ (رومیوں11:15)
            اِس لِئے کہ جب تُو زَیتُون کے اُس دَرخت سے کٹ کر جِس کی اصل جنگلی ہے اصل کے برخِلاف اچھّے زَیتُون میں پیَوند ہوگیا تو وہ جو اصل ڈالِیاں ہیں اپنے زَیتُون میں ضرُور ہی پیَوند ہوجائے گی۔ (رومیوں11:24)
            رومیوں کے خط میں شامل ان چار 'قل ہوامیر'دلائل سے باہر،تین ،فریسی منطق کے کینن کی روشنی میں بےبنیاد ہیں۔کیونکہ اُس منطق کا بنیادی یہ ہے جو 'قل ہوامیر'دلیل میں ہے۔ اور اختتامیہ درستگی سے اس سے آگے نہیں جاسکتا ہے جو مقدمہ میں شامل ہے۔(اسے ڈایو کا اصول بھی کہاجاتا ہے)اس اصول کی توضیح کرتے ہوئے ہم اپنی پہلی مثال کی طرف رجوع کرسکتے ہیں جہاں بائبلی دلیل مریم کے لیے استعمال کی گئی ہے۔فریسی منطق میں اس طرح دلیل دینا ناقابل قبول شمار ہوگا۔"اگرباپ کو ناراض کردینے سے سات دن کی بےدخلی مقدر بنتی ہے تو خدا کو ناراض کرنے پر چودہ دن کی بےدخلی کامستحق ہوگا۔"اس طرح کابیان اپنے بارے میں کوئی دلیل نہیں رکھتا کیونکہ نتیجہ تک پہنچنے کے لیے ہم کیسے معلوم کرسکتے ہیں کہ مقدمہ میں دیئے گئے مواد میں کتنا اضافہ کرناہے؟اس بیان کی صحیح شکل صرف یہی ہے کہ "اگروالد کو ناراض کردینے سے سات دن کی بےدخلی کا مستحق ہوجاتا ہے تووہ سب جو اس  طرح خدا کا ناراض کرتے ہیں وہ سات دن کی بےدخلی کے حقدار ہیں۔"یہ اس بیان کی وہ شکل ہے جو بائبل میں پائی جاتی ہےجس کی طرف فریسیوں نے اپنی تشریح کو سہارادینے کے لیے نشاندہی کی ہے۔
            چاروں بیانات جو اوپر رومیوں کے خط سے پیش کیے گئے ہیں ان میں سے فقط چوتھا قل ہوامیر کے صحیح نمونے کی تصدیق کرتا ہےجبکہ دوسرے اپنے مقدمہ سے ثابت شدہ نتائج سے بالکل الگ ہیں۔ایک شخص کو نتیجہ اخذ کرلینا چاہیے کہ پولس اس طرح کے دلائل کی صحت کی شرائط سے واقف نہیں تھا ،چار میں سے  فقط ایک بیان کی درستگی اتفاقی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔
            'قل ہوامیر'بیان تمثیل کی ہی ایک شکل ہے۔ یونانی منطق میں تمثیل منطقی شکل کے قابل یا درست کبھی نہیں سمجھی گئی۔نتیجتاً یونانی منطق نے خود کوفقط اس چیز تک محدود رکھاجسے آج کل set-theory کہاجاتاہےاور اس وجہ سے انہوں نے منطقی قیاس کو باضابطہ بنایا۔یہ سائنس میں مفید ہے جہاں انسانی تعلق کے بجائے گروہ بندی کی فکر کی جاتی ہے جہاں اکثر منطق کی شکل تمثیل کو استعمال کیاجاتاہے۔
            فریسی،جنہیں انسانی تعلق کے ان تانے بانوں کی فکرلاحق تھی جسے شریعت کہاجاتا تھا،کوتمثیل کی منطق کی ضرورت محسوس ہوئی۔پس انہوں نے ایک قانونی منطق کو ترقی دی جس کی بنیادفورتوری دلیل پر قائم تھی۔ڈایوکااصول بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے رسمی درستگی حاصل کی گئی مگر اس نے انہیں مزیدآگے جانے اور یہ سمجھنے کے قائل بنایا کہ قل ہوامیردلیل کے لیے کس طرح کے اعتراضات پیش کیے جاسکتے ہیں اور اس طرح کے اعتراضات کےکس طرح جواب دیئے جاسکتے ہیں۔ قانونی منطق کا طاقتور ہتھیار صرف یہی ہے جسے مغربی مفکروں اورمناطقہ کی جانب سے سراہاجارہاہے۔
            دوسری طرف یونانی مصنف اکثر فورتوری دلیل استعمال کرتے تھےلیکن ان کایہ استعمال رسمی صحت کوسمجھے بغیر پریشان کن اور مبالغہ آمیز طریقے سے ہوا کرتاتھا۔یہ وہی طریقہ ہے جس میں پولس دلائل دیتا ہے اورخودپر ایسے شخص کی مہرلگاتا ہے جس نے کبھی فریسیوں سے تربیت حاصل ہی نہیں کی۔ایک تربیت یافتہ فریسی اپنی تعلیم اس حد تک نہیں بھول سکتاتھا کہ اس میدان میں پیچید ہ اور غیر صحیح استدلات کرے جہاں ایک فریسی کسی بھی یونانی دان سے زیادہ اپنے اصولوں پر تکبر کرے۔پولس کی طرف سے فورتوری دلائل کااستعمال اکثراس لیے استعمال ہوتا ہے کہ پولس کو تعلیم کے لحاظ سے فریسی ظاہرکیاجاسکے لیکن درحقیقت یہ ثابت کرنے کی کوشش اسی پر الٹ جاتی ہے۔فورتوری دلیل کے استعمال کے سوا کوئی بھی چیز اس کی فریسی تعلیم کی کمی کوظاہر نہیں کرسکتی جسے وہ مبالغہ آمیزانداز میں بیان کرتاہے اوروہ یونانی دنیاکے منادوں کے مماثل توہوسکتا ہے مگر لیکن ربائیوں کے مشابہ نہیں۔
            اب اپنے دلائل کی مضبوطی کےلیے پولس کے عہدعتیق کی تفسیر کے استعمال کی طرف آتے ہیں۔پولس کے ربائی انداز کو ظاہر کرنے کےلیے ایک مثال اکثر بیان کی جاتی ہے جوکہ درج ذیل ہے:"مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایاکیونکہ لکھا ہے کہ جوکوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔"(گلتیوں3:13) یہاں پولس استثناء کی کتا ب سے ایک آیت لے کر یسوع کی قربانی کو عظیم ثابت کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی موت کے ذریعے  اپنے اوپر لعنت لے لیتا ہےتاکہ انسان گناہوں کی لعنت سے چھٹکارا پاسکے۔
            بہت سے علماء نے یہ قبول کیا ہے کہ پولس کی استثناء کی آیت کی تشریح اس کے ہم عصر فریسیوں کی اس آیت کی تفسیر کا حصہ تھی لہٰذا پولس نے اس کو فریسی ذخیرہ ادب سے دلیل کی بنیاد کے طور پر لیا اگرچہ اس نے اس خیال کا اظہار  اپنے انداز سے کیا۔تاہم یہ ایک غلطی ہے۔لکڑی پر لٹکائے جانے والے شخص کےملعون ہونے کا خیال فریسی افکار کے لیے اجنبی تھااورفریسی استاد استثناء کی اس آیت کی تشریح اس طرح سے نہیں کیا کرتے تھے۔فریسی تحریک کے بہت سے معزز ارکان یسوع کی طرح مصلوب کیے گئے تھے اور انہیں اس طرح کی موت کے باعث کبھی بھی ملعون خیال نہیں کیاگیابلکہ وہ شہید وں میں شمار کیے جاتے تھے۔یہ خیال کہ ایک بے گناہ آدمی فقط اس لیے خدا کی طرف سے لعنت  مول لیتا ہے کہ وہ اتنا بدقسمت تھا کہ صلیب پر اذیت ناک موت مرا،کبھی بھی فریسیانہ خیالات کا حصہ نہ رہا تھا ۔فریسیوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ خدا بےوقوف یابےانصاف ہوسکتاہے اور اسے بےقصور مظلوم پر لعنت ڈالنے کے لیے بے وقوف اور بےانصاف ہونا پڑے گا۔
            حتی کہ مصلوب شخص کتنے ہی کبیرہ جرائم کامرتکب ہوتوبھی وہ کبھی بھی لعنت ذدہ نہیں سمجھا جاتاتھا۔(استثناء 21:23) کی آیت کی تشریح ربیوں کی طرف سے اس طرح کی گئی "شریعت کے  حکم کی تعمیل کے بعدمجرم کی لاش تھوڑی دیر کے لیے اونچی جگہ لٹکائی جاتی تھی لیکن پھر لاش کونیچے اتار لیاجاتاتھا اور بلاضرورت اونچا لٹکنے نہیں دیاجاتاتھا کیونکہ دوسرے الفا ظ میں لعنت متاثرہ شخص پر نہیں پڑتی تھی بلکہ ان لوگوں  پر پڑتی تھی جو لاش کی توہین اور بے قدری کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ایک تشریح یہ تھی کہ مجرم کی لاش کو لٹکانے کی اجازت دیناکفرتھایالعنت تھی کیونکہ انسانی جسم خداکی صورت پر بنایاگیاتھا۔انگلش بائبل میں اس آیت کا ترجمہ کچھ اس  طرح سے ہے"اوراگرکسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو تواُسے مار کر درخت پر لٹکا دے تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے تواسے اسی دن دفنائے گا کیونکہ خدا کی نظر میں لٹکاہواآدمی ناپسند ہوتاہے۔" یہ اس قضیہ کی فریسی تشریح کے مطابق ہے جوکہ اصل عبرانی کے مفہوم کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
            پولس کی تشریح کسی بھی فریسی  ذرائع سے ماخوذ نہ تھی بلکہ یونانی صحیفے میں دیئے  گئے مبہم ترجمہ کے برعکس اس کا ذاتی ردعمل تھا۔فریسی مدراش کی ایک مثال مہیا کرنے کے لیے پولس گلتیوں کے خط کے اس مقام پر خود کو مدراشی تشریح کے مفہوم سے دورنکلا ہوا ظاہر کرتاہے۔مبہم تصورات، جیساکہ کسی کی موت کا طریقہ مہلک جادوکےاثر کی وجہ سے بعدازموت لعنت کے ماتحت ہونا ،یہودیت کے بجائے بت پرستی سے تعلق رکھتا ہے ۔ جہاں تک یہ تصور کہ یسوع نے خود پر لعنت لے کر دوسرے لوگوں سے لعنت کو دور کیا ،یہ بھی یہودی تصور میں ایک انوکھی اور اجنبی بات تھی لیکن بےشک یہ پولس کے دلائل کے انداز کے بجائے اس کےمرکزی علوم الٰہیات سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مابعد کے اسباق میں زیربحث ہوگا۔
            پولس کے خطوط کے کچھ حصے علامتی طور پر فریسی خیال کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کوقانون پرستانہ ہوادی گئی ہے۔لیکن جب ان مقامات کا تنقیدی تجزیہ کیا جائے تو بظاہر تشریعی رنگ فورا ظاہر ہوجاتا ہے اور یہ واضح ہے کہ شریعت سے تشریح کا استعمال بغیر کسی حقیقی شرعی باضابطگی کے فقط ایک بےسروپا ،مبالغہ آمیز دھوکہ ہے۔جیساکہ فریسی تحاریر میں اُس وقت بھی پایا جاتا ہے جب شرعی انداز بائبل کی واعظانہ تشریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔رومیوں کے خط میں اس کی مثال موجود ہے۔
اَے بھائِیو! کیا تُم نہِیں جانتے(مَیں اُن سے کہتا ہُوں جو شَرِیعت سے واقِف ہیں) کہ جب تک آدمِی جیتا ہے اُسی وقت تک شَرِیعت اُس پر اِختیّار رکھتی ہے؟۔ چُنانچہ جِس عَورت کا شَوہر مَوجُود ہے وہ شَرِیعت کے مُوافق اپنے شَوہر کی زِندگی تک اُس کے بند میں ہے لیکِن اگر شوہر شوہر مرگیا تو وہ شَوہر کی شَرِیعت سے چھُوٹ گئی۔ پَس اگر شَوہر کے جیتے جی دُوسرے مرد کی ہوجائے تو زانِیہ کہلائے گی لیکِن اگر شَوہر مرجائے تو وہ اُس شَرِیعت سے آزاد ہے۔ یہاں تک کہ اگر دُوسرے مرد کی ہو بھی جائے تو زانِیہ نہ ٹھہریگی۔  پَس اَے میرے بھائِیو! تُم بھی مسِیح کے بَدَن کے وسیلہ سے شَرِیعت کے اِعتبار سے اِس لِئے مُردہ بن گئے کہ اُس دُوسرے کے ہوجاؤ جو مُردوں میں سے جلایا گیا تاکہ ہم سب خُدا کے لِئے پھل پَیدا کریں۔ کِیُونکہ جب ہم جسمانی تھے تو گُناہ کی رغبتیں جو شَرِیعت کے باعِث پَیدا ہوتی تھِیں مَوت کا پھل کرنے کے لِئے ہمارے اعضا میں تاثِیر کرتی تھیں۔  لیکِن جِس چِیز کی قَید میں تھے اُس کے اِعتبار سے مر کر اَب ہم شَرِیعت سے اَیسے چھُوٹ گئے کہ رُوح کے نِئے طَور پر نہ کہ لفظوں کے پُرانے طَور پر خِدمت کرتے ہیں۔ (رومیوں کاخط باب7فقرہ1تا6)
            اوپر بیان کردہ قضیہ حیرت انگیز طور پر ایسے ہاتھ سے گڈمڈ کیا گیا ہے جو کسی خاص صفت سے متصف تھا۔ پولس بیوہ کی دوسری شادی کے بارے میں تورات کی منسوخی اور مسیحیت کے نئے عہد کی آمد کا موازنہ کرنے کی کوشش کررہاہے۔لیکن وہ اپنے ذہن میں یہ بات واضح کرنے کے قابل نہیں کہ کون ہے جو بیوی کے برابر ہے اور کون شوہر کے مساوی ہے؟حتی کہ شوہریابیوی میں سے کسی ایک کی موت کاتعین کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہے۔بظاہر خظ وکتابت کا مقصد یہ لگتا ہے کہ "عورت کلیساء ہے،پہلا شوہر تورات ہے  اور دوسرا شوہر مسیح ہے۔"پولس ہمیں بتاتاہے کہ پہلے شوہر کے مرنے سے دوسری شوہر سے شادی کرنے کے لیے آزاد ہوگئی ہے۔اس لیے موازنے میں ،  تورات کی موت کے بعدکلیسیاء مسیح سے شادی کے لیے آزاد تھی،پڑھنا چاہیے ۔اس کے بجائے بیوی چرچ ہے جو مرتی ہے (اے میرے بھائیوں اور بہنوں!تم بھی مسیح کے بدن کے وسیلے سے شریعت کے اعتبار سے مرچکے ہو)اور  یہاں پر اس خیال کے ساتھ کہ،نیاشوہرمسیح مرچکا ہے ،کچھ کھیل کھیلا گیا ہے۔ صرف نام جوموازنے میں موت کے لیے استعمال نہیں کیا گیا وہ تورات ہے۔اس کے باوجود صرف یہی چیز ہے جو موازنے کودرست بناسکتی ہے۔
            دوسری طرف اس قضیہ میں بالکل ہی مختلف خیال پیش کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس موت کے بعد شرعی ذمہ داریوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ یہ وہی موضوع ہے جو پہلے بیان کیاگیاتھا کہ ایک شخص جب تک زندہ رہتاہے شریعت کاپابند رہتاہے اورموت کے بعد پابند نہیں رہتا۔بیوہ کااپنے شوہر کی وفات کے بعد شادی کے لیے آزاد ہونے کاتصور اس کے بالکل متضاد ہے،اس کے باوجود پولس مکمل طورپر اس حدتک دونوں معاملات کوالجھا دیتا ہے کہ  کچھ مقامات پر وہ ایسی بیوہ  اورشوہر کے بارے میں بات کرتا نظر آتا ہے جو ایک دوسرے سے شادی کرنے کے لیے آزاد ہیں اور قابل قبول بچے رکھتے ہیں کیونکہ نیاشوہر اور بیوہ دونوں ہی مردہ ہیں۔ الجھن اس سے زیادہ بدتر اور پرلے درجے کی نہیں ہوسکتی ہے۔
            ہمارے پاس ایک ایسےشخص کا معاملہ ہے جو شرعی تمثیل قائم کرنے کی کوشش کررہاہے مگر منطقی انداز میں سوچنے کی نااہلی کی وجہ سے بری طرح ناکام ہوتا ہے ۔یہ مقام ظاہر نہیں کرتا کہ پولس نے کبھی فریسی تربیت حاصل کی تھی بلکہ وہ اس کےخلاف تھا۔تاہم ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پولس یہاں ایک تربیت یافتہ فریسی کی طرح نظرآنے کی کوشش کررہاہے ۔وہ کسی حد تک متکبرانہ (مصنوعی) اندازمیں اعلان کرتا ہے کہ وہ جوکہنے جارہاہے اس کو وہی سمجھ سکیں گے جوشریعت کاعلم رکھتے ہیں اور وہ واضح طور پر شرعی مہارت دکھانے کی کوشش کرتاہے ۔یہ فطری بات ہے کہ کثرت سے فریسی تربیت کادعویٰ کرتے ہوئے پولس خاص مواقع پر اپناکرداراداکرنے کی کوشش کرنے چاہیے بالخصوص اُن لوگوں سے بات کرتے اور لکھتے وقت جو اس کی کارکردگی میں کسی قسم کی کوتاہی پہچاننے سے قاصر تھے۔اصل میں اس نے  فریسی فکر کی تمسخرانہ بگڑی ہوئی شکل کو پیش کیا ہے۔تمام فریسی دستاویزات میں لولے لنگڑے دلائل کی نمائش کے سواکچھ موجود نہیں ہے۔
            عمومی انداز میں کیا پولس کہتاہےکہ موت شرعی پابندیوں کو ختم کردیتی ہے۔اسی لیےیسوع کی موت اورکلیساء کے اراکین کی علامتی موت،یسوع کی قربانی کے ساتھ پرانے عہد سے منسلک پابندیوں سے آزادی میں سب کے سب شریک ہیں۔یہ عام خیال کافی واضح ہے،یہ فقط اتناہے کہ جب پولس ایک خودساختہ قانون بنانے کی کوشش کرتاہے،جس کی بنیاد شادی یادوبارہ شادی کے اس اصول پر قائم ہے کہ وہ خود کو پابندی میں باندھ لیتاہے۔چنانچہ وہ اپنی معقولیت کھو دیتاہےجہاں ایک فریسی تربیت اپنی موجودگی کوخود ہی بیان کردیتی ہے اگروہ کبھی فریسی رہاہو۔ایک مرتبہ پھر وہ ربائیوں کی واضح منطق استعمال کرنے کے بجائے روایت کے مشہور یونانی مبلغین کاانداز اپناتاہوادکھائی دیتاہے۔
            اسلوب ِبیاں کے نقطہ نظر سے پولس کی تحاریر کے متعلق مزیدیقینی سوچ کی طرف یہ چیز واپس لے آتی ہے کہ یہ سب یونانی میں لکھی گئی ہیں۔یقیناً ایسا لگتاہے کہ یہ حقیقت ان لوگوں کی طرف سے نظرانداز کردی جاتی ہے جو یہ ثابت کرنے کی پرزورکوشش کرتے ہیں کہ پولس نے ایک ربائی کی مانند سوچتااور لکھتاتھا۔پولس کی یونانی زبان ایسی ہی ہے جیسے کسی زبان بولنے والے مقامی کی ہو۔بےشک یہ کلاسیکل اور ادبی یونانی زبان نہیں ہے لیکن پھر بھی لغت اور انتخاب الفاظ کے لحاظ سے اس دور کی بولے جانے والی زبان(کوئنے کے نام سے معروف) ہے۔وہ فطری طورپریونانیت ذدہ دنیاسے اس قدر متاثر ہے کہ وہ ایک طرف مینڈر(ایک یونانی مسخرہ)کو تودوسری طرف معاصرغمگین شاعر کونقل کرتاہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پولوس عبرانی زبان پر اتنی گرفت رکھتا تھا تو اسے فریسی درسگاہوں میں دی جانے والی تعلیم میں مصروف ہوجانا چاہیے تھا۔ہم جانتے ہیں کہ وہ آرامی زبان بول سکتا تھا (اعمال 21:40) لیکن اس کے لیے کسی تعلیم کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ زبان اس کے آبائی شہر ترسس میں مقامی زبان کے طور پر بولی جاتی تھی جہاں تجارتی اور مقامی زبان یونانی تھی۔ لیکن عبرانی کا معاملہ مختلف ہے۔یہ عبرانی بائبل کی زبان اور مشناح میں نظر آنے والی جدید عبرانی زبان دونوں شائستہ حالتوں میں علوم و فنون کی زبان تھی۔اصل ابتدائی عبرانی زبان میں بائبل کا مطالعہ تمام فریسی علوم وتعلیم کے لیے بنیاد تھا۔ بائبل کی عبرانی زبان کا سیکھنا پولس کے وقت میں ایک غیرمعمولی  امرتھا،جیساکہ تارگوم (بائبل کاآرامی ترجمہ)کی موجودگی سے ظاہرہوتاہے جسے ان عام یہودیوں کے فائدے کے لیے ترجمہ کیا گیا تھا جو بائبل کو عبرانی زبان میں سمجھ نہیں سکتے تھے۔
پولوس کی تحاریر سے اس بات کے بھی اشارے ملتے ہیں کہ وہ عبرانی زبان کا معمولی علم رکھتا تھا۔ پولوس کے بائبل سے لیے جانےوا لے اقتباسات (جو تقریباً 160 کے قریب ہیں) اصل عبرانی زبان کے بجائے تورات کے یونانی ترجمہ سے لیے گئے ہیں۔اس کا ادراک اس حقیقت سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ عبرانی بائبل کے جو اقتباسات یونانی بائبل سے مختلف ہیں عبرانی بائبل میں موجود نہیں ہیں۔مثال کے طور پر پولوس کا ایک بہت مشہور قول ہے (1کرنتھیوں 15:55) اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنگ کہاں رہا؟ یہ قول ہوسیع کے یونانی ترجمے سے اقتباس کیا گیا ہے (ہوسیع 13:14) لیکن عبرانی متن یہاں مختلف ہے۔ اے موت تیری وبا کہاں پر ہے؟ اے پاتال تیری ہلاکت کہاں ہے؟فریسی تحریک کاقانون بائبل چھوڑ کر کسی فریسی کا تورات کے یونانی ترجمے سے کسی قول کو اقتباس کرنا ناممکن اور خلاف قیاس بات سمجھاجاتاتھا۔

اگرچہ پولوس کی تحاریر میں  ایسی کوئی بات نظرنہیں آتی جو یہ ثابت کرےکہ پولس فریسی تھا ، لیکن ایسی بہت سی باتیں دیکھی جا سکتی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ وہ فریسی نہیں تھا۔ پولوس کے خطوط کے افسانوی مواد کا فریسی ذرائع سے تعلق جوڑنے کی خاطر بہت کھیل کھیلے گئے لیکن درحقیقت یہ افسانوی مواد فلسطین سے باہر یونانی زبان بولنے والے یہودی علاقوں سمیت تمام یہودی دنیا میں بہت مشہور تھا، جس سے کچھ بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مقام پر پولوس ایک معجزاتی کنوئیں کا افسانہ بیان کرتا ہے جو بیاباں میں بھٹکنے والے یہودیوں کے پیچھے پیچھے تھا (1 کرنتھیوں 10:4) لیکن اس قصے کا عہد عتیق کی ترتیب میں ملنے والے فریسی علوم کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں تھا، یہ اقتباس اب صرف لاطینی ترجمے میں ملتا ہے لیکن اس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پہلی صدی کے یونانی نسخے میں موجود تھا۔کسی بھی یونانی کتاب کے افسانوں تک رسائی حاصل کرنا پولوس کے لیے انتہائی آسان تھا اور وہ کسی کم علم شخص سے گفتگو کے ذریعے بھی ان داستانوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا تھا جیسے قدیم یونانی کہانیوں کا مطالعہ کیے بغیر کسی بچے کو یونانی مصنف کی لکھی مافوق الفطرت کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔پس ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پولوس کی تحاریر کے ساتھ فریسی انداز و اطوار منسوب کرنا بذات خود ایک افسانہ ہے۔

Wednesday, 12 July 2017

یہودہ اسکریوطی اور یہودی شیطان کا افسانہ

 زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "Judah Iscariot & the Myth of Jewish Eveil" کے باب نمبر4"Judah in Luke and Acts" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی  نے یہوداہ اسکریوطی کی شخصیت کا اعمال اور لوقا کی کتاب کی روشنی میں تحقیقی تجزیہ یہودی تاریخ کی روشنی میں کیا ہے جو بزرگ یہوداہ اسکریوطی کی شخصیت کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتا ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔ میں اپنی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنے والدین کی طرف انتساب کرتی ہوں جن کی شفقت ومحبت اور دعاؤں کے باعث میں نے علم حاصل کیا اور یہ ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں  اپنے سوشل میڈیاپیج وگروپ مسلم مسیحی مکالمہ آفیشل کی  پوری ٹیم کی بھی شکرگزار اورممنون ہوں جن سے مجھےبہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
اس کتاب کو پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
والسلام
صباخان
یہوداہ اسکریوطی لوقا اور اعمال کی کتاب میں
ہم دو ابتدائی اناجیل مرقس اور متی کے موازنے سے دیکھ چکے ہیں کہ یہودا کی کہانی میں مستقل ٹھہراؤ  نہیں ہے بلکہ یروشلم چرچ اور یہود کی مخالفت کے نتیجے میں پولوسی چرچ کی ضروریات کے تحت اس میں مسلسل بڑھتی ہوئی واضح تبدیلیوں کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جب ہم تیسری مرتب شدہ انجیل لوقا کی طرف آتے ہیں تو ہم اس میں نئی تفصیلات ملنے کی توقع کر سکتے ہیں۔چونکہ عام طور پر لوقا اور اعمال کی کتاب کے مصنف کے متعلق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ان دونوں کا مصنف ایک ہی شخص ہے لہذا لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب پر ایک ساتھ متفقہ طور پر غور و فکر کرنا چاہئے۔
 چرچ کی روایات کے مطابق لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف ایک غیر یہودی تھا جو پولس کا ساتھی اور شاگرد تھا جسے کلسیوں (4:14) میں لوقا کہا گیا ہے جو پولوس کا چہیتا طبیب تھا(حوالہ جات فلیمون 24،ٹھموتی دوم 4:11)۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب دونوں ہی میں لوقا کے متعلق کوئی تذکرہ موجود نہیں۔اعمال کی کتاب کے بعد کے ابواب میں اسم ضمیر 'ہم' کے استعمال سے (مصنف کا پولوس کے ساتھ شریک سفر ہونے نشان دہی کی جاتی ہے) پولوس کے ساتھی کے متعلق مصنف ہونے کا قیاس کیا جاتا ہے،لیکن یہ اعمال کی کتاب کے ابتدائی مواد میں مصنف کی طرف سے کیا گیا اضافہ ہوسکتا ہے اور کسی دوسری صورت میں غالباً اعمال کا مصنف لوقا کے بجائے پولوس کا کوئی دوسرا ساتھی ہو سکتا ہے۔ دور جدید کے بہت سے علماء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لوقا یا پولوس کا کوئی بھی ساتھی لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف نہیں ہے۔اس دعوی کے حق میں درج ذیل دلائل دئیے جاتے ہیں (1)لوقا کی انجیل اور اعمال کا مصنف پولوس کے برعکس یسوع کی موت کوحقیقی قربانی قرار دینے کے متعلق خفیف  اشارہ دیتا ہے (2)اعمال کی کتاب میں بیان کی گئی پولوس کی سوانح حیات کی تفصیلات اور پولوس کے اپنے خطوط میں اس کے بیانات کے درمیان شدید تضادات پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ تصور درست ہے تو ہم لوقا کی انجیل اور اور اعمال کی کتاب کے مصنف کے بارے میں غیر یہودی ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے (جیسا کہ فلسطین کے جغرافیہ اور سامیت سے متعلق اس کی لاعلمی سے ظاہر ہوتا ہے)۔ جبکہ دوسری طرف لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کی تالیف کے متعلق انتہائی مشکوک آراء پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور پولوس کے ساتھی لوقاطبیب کی بابت لوقا انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف ہونے کا نظریہ اب بھی مستحکم ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لوقا کی انجیل 80 تا 90 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے اور اس کا تسلسل اعمال الرسل کتاب 90 تا 100 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے۔بہت سوچ بچار کے بعد ہم اس فیصلے تک پہنچتے ہیں (مثال کے طور پر یروشلم کی تباہی کی تفصیلی معلومات لوقا باب 21 فقرہ 20 تا 24 میں بیان کی گئی ہیں اور لوقا 1:1 کے دعاوی کے مطابق انجیلی تحاریر پہلے سے موجود تھیں)کہ متی کی طرح لوقا بھی مرقس کی انجیل کا بہت سا مواد خاص تبدیلیوں کے ساتھ اپنی انجیل میں شامل کرتا ہے۔ تاہم وہ یوحنا اصطباغی کی پیدائش جیسا قصہ، مریم کا گیت، مبالغہ آرائی (خدا کی تعریف میں کہی گئی حنہ کی نظم کے انداز میں سموئیل اول باب دوم فقرہ 1 تا 10) اور یروشلم میں یسوع کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک بڑا حصہ اپنے طور پر خود سےشامل کرلیتا ہے۔ لوقا کی یونانی زبان پہلی دو اناجیل کی نسبت زیادہ شائستہ ہے، وہ اپنی انجیل کے آغاز میں بطور سابقہ ایک تعارفی تقریر شامل کرتا ہے اور اپنے زمانے کا ادبی انداز اختیار کرتا ہے۔یسوع کی زندگی کے واقعات کو دنیا کی تاریخ میں ضم کرنا اور مسیحی چرچ کے تاریخی کردار کو جائز قرار دینا لوقا کا الٰہیاتی مقصد تھا، کیونکہ وہ (متی اور مرقس کی طرح) مستقبل قریب میں یسوع کی واپسی کی توقع نہیں رکھتا۔ متی اور مرقس کی اناجیل کی طرح لوقا کی انجیل میں بھی یہودا اسکریوتی کو بارہ رسولوں میں شامل رسول کے طور پر بیان کیا گیا ہے :
 "جب دن نکلا تو اس نے اپنے شاگردوں کو پاس بلایا اور ان میں سے بارہ کو چن کر انہیں رسول کا لقب دیا، یعنی شمعون جس کا نام اس نے پطرس بھی رکھا اور اس کا بھائی اندریاس اور یعقوب اور یوحنا اور فلپس اور برتلمائی، اور متی اور توما اور حلفئی کا بیٹا یعقوب اور شمعون جو زیلوتیس کہلاتا تھا اور یعقوب کا بیٹا یہودا اور یہودا اسکریوتی جو غدار ثابت ہوا (لوقا باب 6 فقرہ 13 تا 16)۔
یہاں ہم پہلی بار یہودا نام کی دو شخصیات کو دیکھتے ہیں ان میں سے ایک یعقوب کا بیٹا یہودا ہے جبکہ دوسرا یہودا اسکریوتی ہے۔یہ قضیہ ایک جدید ارتقاء ہے جو عہدجدید کی دستیاب روایات میں دو یہوداہوں کے متعلق معمولی توضیحات کا متقاضی رہا ہے۔
متی اور مرقس کی اناجیل میں غدار یہوداکو رسول کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ  ان دونوں اناجیل میں رسولوں کے درمیان ایک سے زیادہ یہودا نام کی شخصیت ہونے کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ملتا۔تاہم اس صورتحال پر بالوثوق کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہودا نام کے شخص کی یسوع سے وفاداری کے متعلق مستحکم روایات موجود ہیں۔اختلافات کے باوجود ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں وفادار یہوداہ کو یسوع کا بھائی کہا گیا ہے۔اس الجھن سے بچنے کے لیے وفادار اور غدار یہودا نام کی دو شخصیات موجود ہونے کا دعوٰی کر دیا گیا۔دوسرا یہودا پہلے یہودا کی خیالی (جھوٹی) کہانی کی ضمنی پیداوار ہے۔تاریخی حقائق میں ایک ہی وفادار یہودا رسول  کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہترین دلائل موجود ہیں۔ دوسرا یہوداہ درحقیقت پہلے یہوداہ کی واپسی ہے جسے بعد میں مکمل طور پر قلم زد نہیں کیا جا سکا۔
لوقا کے قصے میں سردار کاہنوں کے ساتھ یہوداہ کی گفتگو میں کچھ نئی باتیں بھی شامل ہیں:
" اور شیطان یہودا میں سما گیا اسے یہودا اسکریوتی بھی کہتے ہیں اور وہ یسوع کے بارہ شاگردوں میں شمار کیا جاتا تھا، وہ سردا رکاہنوں اور ہیکل کے پاسبانوں کے سرداروں کے پاس گیا اور ان سے مشورہ کرنے لگا کہ وہ کس طرح یسوع کو ان کے حوالے کرے، وہ بڑے خوش ہوئے اور اسے روپیہ دینے کا وعدہ کیا، اس نے ان کی بات مان لی اور موقع ڈھونڈنے لگا کہ یسوع کو کس طرح ان کے حوالے کرے کہ لوگوں کو خبر تک نہ ہو (لوقا باب 22 فقرہ 3 تا 6)۔
متی کے قصے کی طرح اس قصے کاماخذبھی مرقس باب 14 فقرہ 10 تا 11 کی مختصر سی عبارت ہے،لیکن لوقا اسی اختصاراخبر کوتقریری انداز میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے ثبوت ظاہر کرتا ہے۔متی اور مرقس میں شیطان کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے جبکہ لوقا میں یہودا شیطان سے بھری ہوئی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے جس کا فریب نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان ازلی تصادم کا حصہ بن جاتا ہے۔لوقا کہانی کو خوش نما ظاہر کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور یہودا کے فریب کے عمل کرنے کی بابت کچھ بیانات شامل کرتا ہے۔ایک غدار اس حد تک ضروری کیوں ہے؟ ایک غدار کی خدمات حاصل کیے بغیر سردار کاہن یسوع کو گرفتار کیوں نہیں کر سکتے تھے؟ اس پیچیدگی کو متی اور مرقس نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔لوقا آگے چل کر مزید اس مسئلے کی عقدہ کشائی کرتا ہے۔سردار کاہن یسوع کو سر عام گرفتار کروا کر یہودی عوام کی دشمنی کو ہوا دینے پر رضامند نہیں تھے اس لیے "ہجوم کو جمع کئے بغیر" خفیہ طور پر گرفتار کروانے کا بندوبست کرنا ضروری تھا۔ تاہم روایت کی ایک پیچیدگی دوسری پیچیدگی کو جنم دیتی ہے۔ ایک جگہ یسوع کی حمایت کرتا ہوا ہجوم کسی دوسری جگہ اس کی مخالفت کرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔یہ تمام مصنفین اناجیل کے لیے ایک مشکل  مقام ہے جبکہ متی اور لوقا نے اس میں صرف معمولی وسعت پیدا کی ہے۔
متی کے برعکس لوقا کی انجیل میں یہودا کے لالچ کے قصے کو زیادہ پرزور انداز میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔انجیل مرقس (14:11)میں یہودا کے بجائے سردارکاہن رقم کی ادائیگی کی تجویز پیش کرتے ہیں جبکہ انجیل لوقا میں مرقس کے برعکس یک طرفہ معاہدے کے بجائے یہودا کی رضامندی سے معاہدہ طے پاتا ہے۔ لوقا مکمل طور پر متی کے عبارتی متن پر انحصار نہیں کرتا بلکہ متی کے متن میں اپنے طور پر براہ راست اضافے کرتا ہے چونکہ وہ یہودا کی غداری کو شیطان کی دخل اندازی کے ساتھ منسوب کرتا ہے لہذا لالچ کے معنوں میں یہودا کی رغبت کے بارے میں وضاحت کرنے سے اسے کوئی غرض نہیں ہے۔شیطان سے بھرے ہوئے شخص کے طور پر یہودا کو مادی ترغیب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم آغاز میں ہی علم الہیات کےاس مسئلے کا ادراک کر سکتے ہیں جسے مکمل طور پر بعد میں وضع کیا گیا ہے : یہودا کو کس قدر ملامت کرنی چاہیے؟ شیطانی طاقت میں جکڑے جانا اسے بے یارو مددگار بنا دیتا ہے اس لیے یہودا قابل ملامت نہیں ہے۔ اس کے باوجود بحیثیت غدار اس کی بدی اس پورےافسانے کو اثرانگیز بنانے کے لیے ضروری ہے۔یہودا جیسی کہانی میں اس طرح کی دگنی پیچیدگی کا پیدا ہونا یقینی بات ہے اس پر مزید بحث درکار ہے۔
مرقس کی طرح لوقا بھی آخری کھانے کے قصے میں یہودا کا نام لے کر تذکرہ نہیں کرتا اس کے باوجود اس کے کردار کی طرف بطور غدار سختی سے اشارہ کیا گیا ہے۔الہامی اور عشائے ربانی کے الفاظ کے بعد یسوع اعلان کرتا ہے ۔
"مگر دیکھو میرے گرفتار کروانے والے کا نام میرے دسترخوان پر ہے کیونکہ ابن آدم تو جا ہی رہا ہے جیسا کہ اس کے لیے پہلے سے مقرر ہے لیکن اس آدمی پر افسوس ہے جس کے ہاتھوں وہ گرفتار کروایا جاتا ہے، یہ سن کر وہ آپس میں پوچھنے لگے کہ ہم میں ایسا کون ہے جو یہ کام کرے گا (لوقا باب 22 فقرہ 21 تا 23)۔
شاگردوں کے درمیان بدگمانی اور بحث چھڑ جاتی ہے کہ یسوع کی بادشاہت میں کون اعلی مرتبے پر فائز ہوگا۔ یسوع انہیں یہ کہہ کر ملامت کرتا ہے کہ انہیں ذاتی عزت و وقار سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے پھر وہ ان سب سے وعدہ کرتا ہے کہ "وہ بارہ تختوں پربیٹھ کر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کریں گے"۔پھر یسوع کہتا ہے :
"شمعون، شمعون! شیطان نے گڑگڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے، لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا (لوقا باب 22 فقرہ 31 تا 32)
پس اس لحاظ سے لوقا غداری کے معاملے میں خاص نقطہ نظر رکھتا ہے جبکہ متی اور مرقس گستمنی کے باغ میں یسوع کو چھوڑ جانے پر دوسرے شاگردوں کی غداری خاص طور پر کاہنوں کے گھر پر پطرس کا اپنے استاد کے بارے میں انکار کرنے کے متعلق بیان کرتے ہیں اور صرف لوقا آخری کھانے کے قصے میں اس موضوع کو ترتیب دیتا ہے۔متی اور مرقس میں یسوع شاگردوں کے ارتداد (مرقس 14:27، متی 26:37) اور پطرس کی غداری (مرقس 14:30، متی 24:34) کی پیش گوئی پورا ہونے سے پہلے زیتون کے پہاڑ تک پہنچنے کا انتظار کرتا ہے۔متی اور مرقس آخری کھانے کے موقع پر صرف یہودا کی غداری کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں جو اسے سب سے الگ تھلگ بنا دیتی ہے جبکہ لوقا کی نظر میں صرف یہودا کے معاملے کو ہی انتہائی غداری کا معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔اس وضاحت سے تمام شاگردوں کی اخلاقی حالت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ لوقا دوبارہ شیطانی اصلاحات کا تذکرہ کرتا ہے لیکن اس کے قصے میں یہودا کے بجائے تمام شاگرد اخلاقی گراوٹ کی شیطانی مہم کا شکار ہوتے ہیں جیسا کہ یسوع کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے "شیطان نے گڑگڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے" (لوقا 22 :31)۔یہ حقیقت ہے کہ آخری کھانے کے قصے میں یہودا کا نام لے کر تذکرہ نہ کرنے سے اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ کہ اس کی دغابازی محض عام بےچینی کا نتیجہ ہے۔
لوقا عہد جدید کی کتاب اعمال کا بھی مصنف ہے جو چرچ کی ابتدائی تاریخ اور خاص طور پر پولوس اور یروشلم چرچ کے درمیان اختلافات پر بحث کرتی ہے اس تصادم میں پولوس ابتداء میں معاند اور دشمن کے روپ میں سامنے آتا ہےجبکہ پطرس یہاں یہودی قوانین سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص کے بجائے  پولوس کے نجات کے عقیدے میں تبدیل ہونے والے شخص کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ اس کہانی کی سب سے بڑی مشکل پولوس کی یسوع سے غیر واقفیت ہے جو یسوع کو کبھی جانتا بھی نہیں تھا جبکہ یروشلم چرچ کے بزرگ یسوع کے روز مرہ کے دوست اور پیروکار تھے جو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ یسوع کی خواہشات کو جانتے تھے۔اس کے باوجود شاگردوں کی تصویرکشی اس انداز میں کی گئی ہے جس میں وہ یسوع کو کبھی سمجھ نہ سکے ہوں اور اس کے مشن کے ساتھ وفادار نہ رہے ہوں۔
 آخری کھانے کی بابت لوقا کا قصہ اعمال کی کتاب میں یروشلم چرچ کی کوتاہیوں کا واجبی سا تعارف ہے۔یہ انداز متی اور مرقس کی امتیازی خصوصیت ہے لیکن لوقا آخری کھانے کے قصے کو اس لحاظ سے تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ایسا کرنے کے لیے وہ یہودا ہ کے گناہ کے ذریعے یروشلم چرچ کو داغدار کرتا ہے، تاہم وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ پولوسیت میں پطرس کی تعلیم کی کامیابی کے ذریعے یروشلم چرچ اس داغ کو اکھاڑ پھینکے گا۔تاریخی حقائق کے اعتبار سے یروشلم چرچ نے کبھی بھی پولوسی نظریات کو قبول نہیں کیا تھا لیکن اعمال کی کتاب کا سرکاری افسانہ اور بعدازاں پولوسی مسیحیت پولوس اور پطرس کے درمیان ایک مفاہمت تھی، اسی لئے لوقا یسوع سے پطرس کے بارے میں اقرار کرواتا ہے کہ "اور جب تو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا" (لوقا 22:32)۔یہ پطرس کے انکار کے فوراً بعد کی مدت میں احسان کے بجائے ایک پیشگوئی تھی جسے یروشلم چرچ میں پطرس کے کردار کے ساتھ منسوب کر دیا گیا۔اب ہم اصل غداری کی بابت لوقا کے قصے کی طرف آتے ہیں:
" ابھی وہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ آدمیوں کا ایک ہجوم آ پہنچا اور ان بارہ میں سے ایک جس کا نام یہودا ہ تھا، ان کے آگے آگے تھا. وہ یسوع کو چومنے کے لیے آگے بڑھا لیکن یسوع نے اس سے کہا :یہوداہ کیا تو ایک بوسے سے ابن آدم کو پکڑواتا ہے" (لوقا باب 22 فقرہ 47 تا 48)۔
مرقس اور متی کی طرح لوقا بھی یہوداہ اسکریوتی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ترکیب فراہم نہیں کرتاباوجودیکہ  وہ ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا کہ یہودا دوسرے شاگردوں سے کب الگ ہوا تھا۔سردار کاہن، وکلاء اور بزرگوں کی طرف سے بھیجے جانے کے بجائے (مرقس 14:43، متی 27:47) یہودا ہ کے ساتھ ہجوم میں سردار کاہن، ہیکل کے اعلی افسران، سپاہی اور بزرگ بھی شامل تھے (v. 52)۔ متی اور مرقس میں واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا کہ بوسہ پہلے سے طے شدہ ایک نشانی تھی جس کے ذریعے یہوداہ نے یسوع کی نشاندہی کرنی تھی،لیکن یہ یسوع کے بیان کا مفہوم نظر آتا ہے(جوکہ متی اور مرقس میں نہیں پایاجاتا)۔مرقس کے قصوں کو لوقا نے کسی جگہ مختصراً بیان کیا ہے جبکہ کسی دوسری جگہ تفصیل شامل کرکے درج کیا ہے۔لوقا آخری کھانے کے موقع پر شاگردوں بارے میں حقارت آمیز مواد کا اضافہ کرتا ہے جبکہ گرفتاری کے وقت کے قصے کو مختصر کرتا ہے اور کچھ مزاحمت کرنے کے بعد حواریوں کو فرار ہوتے ہوئے نہیں دکھاتا۔لوقا (خاص طور پر کٹے ہوئے کان کو شفا دیتے ہوئے5:51 ) افسانوی رنگ بھرتا ہے لیکن یہودا کی کہانی میں وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کے قصے میں کی گئی واضح تبدیلی ان حقائق کا اضافہ ہے جن کے مطابق گرفتار کرنے والے لوگوں میں ہیکل کے اعلی حکام اور سپاہی بھی شامل تھے۔یہ حقائق متی اور مرقس کے بجائے کسی دوسرے ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں،اور یہ مصنف کی ذہنی اختراع بھی معلوم نہیں ہوتے کیونکہ اس اختراع کے پیچھے مصنف کا کوئی واضح مقصد نظر نہیں آتا۔اس بات کو تاریخی طور پر سچ تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ ہجوم میں سردار کاہنوں اور بزرگوں کو شامل کرنا انتہائی نامعقول بات ہے کیونکہ اس طرح کی اعلی شخصیات ذاتی طور پر گرفتاریاں نہیں کرتی تھیں۔ہیکل کے سپاہیوں کا یسوع کو گرفتار کرنا (جو قابض رومی حکومت کے ماتحت کام کرتے تھے) تاریخی حقائق کے مطابق ہے جبکہ یہودا ہ سمیت تمام دوسرے اشخاص کو گرفتاری میں حصہ لینے والوں کے طور پر شامل کرنا ایک افسانوی اضافہ ہے۔
لوقا کی انجیل یہوداہ کے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتی،لیکن مصنف اپنے اس سلسلے کواعمال کی کتاب کے پہلے باب میں اپنی بیان کیے گئے افسانے کے ایک حصے میں مکمل کرتا ہے:
"ان ہی دنوں میں پطرس ان بھائیوں کی جماعت میں میں جن کی تعداد ایک سو بیس کے قریب تھی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے بھائیو! پاک کلام کی اس بات کا جو پاک روح نے داؤد کی زبان سے پہلے ہی کہلوا دی تھی ،پورا ہونا ضروری تھا. وہ بات یہوداہ کے بارے میں تھی جس نے یسوع کے پکڑوانے والوں کی رہنمائی کی تھی۔وہ ہمارا ہم خدمت تھا اور ہم لوگوں میں گنا جاتا تھا. اس نے اپنی بدکاری سے کمائی ہوئی رقم سے کھیت خریدا، جہاں وہ سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور ساری انتڑیاں باہر نکل پڑی۔یروشلم کے سارے باشندوں کو یہ بات معلوم ہو گئی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی زبان میں اس کھیت کا نام ہی ہقل دما رکھ دیا جس کا مطلب ہے خون کا کھیت۔کیونکہ زبور کی کتاب میں لکھا ہے : اس کا گھر اجڑ جائے اس میں کوئی بسنے نہ پائے اور اس کا عہدہ کوئی اور حاصل کر لے لہذا یہ ضروری ہے کہ یسوع کے ہمارے ساتھ آنے جانے کے وقت تک یعنی یوحنا کے بپتسمہ سے لے کر اس کے ہمارے پاس سے اوپر اٹھائے جانے تک جو لوگ برابر ہمارے ساتھ رہے ان میں سے ایک شخص چن لیا جائے جو ہمارے ساتھ اس کے جی اٹھنے کا گواہ بنے " (لوقا باب 1 فقرہ 15 تا 22)۔
یہودا کے متعلق جو افسانہ متی بیان کرتا ہے، ان دو افسانوں میں اس قدر تضاد ہونا نہایت عجیب بات ہے۔متی کی انجیل میں یہودا ہ پچھتاتا ہے اور رشوت کی رقم اعلی کاہنوں کو واپس کر دیتا ہے (جو اس رقم سے خون کا کھیت خریدتے ہیں) اور پھر یہودا کسی نامعلوم کھیت میں پھانسی لے لیتا ہے۔متی کے افسانے میں یہ کھیت پردیسیوں کے قبرستان کی زمین ہے جبکہ اعمال کی کتاب میں ایسا نہیں ہے۔متی کی انجیل میں خونی کھیت کا نام یہودا کی بے رحم موت سے اخذ کیا گیا ہے۔ابتدا میں کھیت کو کمہار کا کھیت کہنے کی بابت متی کا بیان لوقا کی انجیل میں کہیں بھی بیان نہیں کیا گیا جس کا عبرانی بائبل کے ساتھ تعلق بالکل مختلف قسم کا ہے۔ان دونوں قصوں میں کھیت کی موجودگی کی صرف ایک بات مشترک ہے جسے خون کا کھیت کہا جاتا ہے، پھر بھی صرف اعمال کی کتاب اس کے آرامی تاثر کو ظاہر کرتی ہے۔
مضبوط مطابقت پیدا کرنے والوں کی قابلیت کو آخری حد تک استعمال کرنے کے باوجود دونوں کہانیوں کے درمیان تضادات اس قدر شدید ہیں۔واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک وضع کی گئی داستان ہے جو دو متضاد سمتوں میں سفر کر رہی ہے۔اس کے باوجود منطقی اور نفسیاتی لحاظ سے دونوں کہانیاں ناقابل مصالحت ہیں اس لیے دونوں کہانیاں ایک سوال "غدار کے ساتھ کیا ہوا؟" کے جواب میں ممکنات کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود یسوع کی قربانی سے نجات کی امید لگانے والے پجاری یہودا کی کہانی میں تحریف کرنے سے خود کو مستثنٰی کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کو یہودا کی شخصیت کے ساتھ تمام ممکنہ گناہوں کو چسپاں کرنے کی ضرورت ہے۔یسوع سے غداری کے نتیجے میں یہودا کی کہانی کے موضوع کو عملی طور پر ترتیب دینے کے لیے ممکنہ نتائج(مرقس اور یوحنا اس معاملے کو نظر انداز کرتے ہیں) درج ذیل ہیں:
1.     یہوداہ  کا گناہ اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ خودکشی کر لیتا ہے۔
2.     بے ندامت یہودا کو سزا اور موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
3.     یہوداہ کو شاگردوں سے خارج دیا جاتا ہے اور وہ قابیل کی طرح اپنی غداری کے گناہ کا بوجھ اٹھائے خانہ بدوشی کا سامنا کرتا ہے۔
عہد نامہ جدید کی کتب متی اور اعمال پہلے دو امکانات پر بحث کرتی ہیں جبکہ تیسری ممکنہ صورت کا جواب یہودی قوم سے متعلق بعد کی مسیحیت میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اسے یسوع کی تصلیب میں مدد کرنے کے باعث اس کی جلا وطنی اور خانہ بدوشی کو سزا کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ یہودا کے مذہب سے ہونے کی وجہ سے یہودی قوم، یہودی آزمائش کی بابت یہودا کا افسانہ گھڑنے کے لیے مسیحی توضیحات میں شامل ہیں۔ایک یہودی کے در بدر پھرنے کی بابت مسیحی لوک داستان اس نظریہ کو بھی ظاہر کرتی ہے جس کے مطابق یہودیوں کا در بدر پھرنا ان کے گناہوں کی سزا ہے۔اس کے باوجود اس کہانی سے اس ممکنہ صورت کا گمان ہوتا ہے کہ آخری وقت میں ایک یہودی تکالیف برداشت کر کے اپنے گناہوں کی تلافی کر کے معافی حاصل کر سکتا ہے۔پہلی ممکنہ صورت متی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو یہودا کی معافی کی امید لیے ہوئے ہے۔اس کی خودکشی مایوسی میں کئے گئے عمل کے بجائے اس کی خود عائد کردہ سزا کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔وہ اپنی رشوت کی رقم سے فائدہ حاصل کرنے سے انکار کردیتا ہے اور وصول کی ہوئی رقم واپس کر دیتا ہے۔یہ بالکل ایسی ہی صورتحال ہے جب وہ شدید غضب کے دورہ کے بعد اپنے حواس میں واپس آتا ہے تو اسے اپنے کیےہوئے عمل کے متعلق کچھ سمجھ نہیں آتی۔لوقا کے برعکس متی یہودا کے چال چلن کی وضاحت کے لیے شیطانی اصلاحات کا واضح تذکرہ نہیں کرتا لیکن اس کی دستاویزات میں یہودا کی داستان سے اسی طرح کی وضاحت ظاہر ہوتی ہے۔
یہودا کی آخری تلافی کا نظریہ غیر اقوام  میں مروج قربانی سے متعلق افسانوں کے مشابہ ہے۔مثال کے طور پر یونانی اور رومی افسانوں میں ہم اکثر مجرم کے ناقابل بیان عمل کی آخری تلافی اور کفارے کی بابت سنتے ہیں۔مسیحی افسانہ نگاری میں یہوداہ کے لوگوں یا یہودیوں کی آخری تلافی اس قدر اہم ہے کہ ان کی تبدیلی کو مسیح کی دوسری آمد کا ناگزیر تعارف سمجھا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ناگزیر قربانی میں غدار نجات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کی آخری تلافی اس کی خدمات کے اعتراف کی ایک صورت مانی جاتی ہے۔اس کے کیے گئے عمل سے ناپسندیدگی اور خوف میں ڈوبے احساسات میں اس کے مقدس شخصیت ہونے کے تاثرات کو دیکھا جاسکتا ہے۔درحقیقت وہ خود ظلم کا شکار ہوا ہے کیونکہ بالضرور قتل کو انجام دینے کے لیے اسے اپنی خوشیوں اور معصومیت کی قربانی دینا پڑی۔اعمال کی کتاب میں بیان کیا گیا یہوداہ کی موت کا قصہ متی کے بیان کیے گئے افسانے سے زیادہ پیچیدہ ہے اور اس قسم کے متضاد بیانات پر تحقیق کرنا نہایت دلچسپ کام ہے۔اس کہانی میں یہودا صرف ایک مجرم نہیں ہے بلکہ وہ خود کو قربانی سے متعلقہ ٹھیک ٹھیک شخصیت ظاہر کرتا ہے۔"خون کے کھیت" میں اس کی موت اور انتڑیوں کا باہر نکل آنا جیسے بیانات قربانی سے متعلق مذہبی رسومات اور اور بت پرستی کے افسانوں میں کچھ خاص شخصیات کی موت کی یاد تازہ کرتے ہیں جو زمین کو اپنے خون سے زرخیز کرتے تھے۔ کھیت میں یہودا کی المناک موت (متی کے افسانے کے غیر تصریح کھیت کے بجائے)  کا انحصار قربانی کی زرعی روایات سے تعلق قائم کرنے والے ان افسانوی پہلوؤں پر ہے جو افسانوی مذاہب کی بنیاد ڈالتے ہیں۔"خون کا کھیت" جہاں یہودا کی موت واقع ہوتی ہے" کھوپڑی کی زمین" جہاں یسوع کی موت واقع ہوتی ہے، کی مضحکہ خیز نقل معلوم ہوتی ہے۔جب کوئی شخص یسوع کی موت سے متصل قربانی سے متعلقہ منظر کشی میں خون کو اہم تصور کرتا ہے تو عشائے ربانی سے یسوع کے خون تک ترسیمیاتی فقرہ" خون کا کھیت" میں ہم آہنگی ضرور سمجھنی چاہیے۔یہ فقرہ احساس جرم اور سزا کے طور پر قربانی کے مقام کو آسانی سے بیان کرسکتا ہے۔
یہودا کی موت بذات خود کم از کم سیاہ مسیح کی موت ہے جس کے جذبات انسان کو اس کے بدترین گناہ سے الگ کرنے کے لیے اس پر غالب آ جاتے ہیں جو وہ ان کی طرف سے انجام دیتا ہے جبکہ متی کے قصے کی نسبت اعمال کے بیان کی گئی کہانی میں افسانوی رنگ زیادہ جھلکتا ہے، مؤخر الذکر میں تمثیلی انداز بھی پایاجاتا ہے۔متی کے بیان کیے گئے قصے میں یہودا پھانسی لے لیتا ہے اور پھندے سے لٹکے ہوئے شخص کی تصویر اتس دیوتا سے یسوع تک قربانی سے متعلقہ بہت سی افسانوی شخصیات کی یاد تازہ کرتی ہے۔اعمال کی کتاب میں یہودا کی موت خدائی مداخلت سے واقع ہوتی ہے (یہ قربانی سے متعلق اس کے افسانے کا عام مرکزی خیال ہے)، جبکہ متی میں یہودا کی موت اس کے اپنے ہاتھوں ہوتی ہے جو کہ بڑے دیوتا (Odin) کی خود عائد کردہ قربانی سے متعلقہ موت کے افسانے کے مشابہ ایک کہانی ہے۔


جب تک ہم تاریخی واقعہ کے طور پر یہودا کی موت کی بابت غلط نظریہ رکھتے ہیں ہم ثبوتوں میں صرف تضادات ہی دیکھ سکتے ہیں۔اگر یہودا کی موت انتڑیاں پھٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی تھی تو یہودا نے یقیناً خود پھانسی نہیں لی تھی اور وہ کھیت میں یا کسی بھی دوسری جگہ نہیں مر سکتا تھا، اسی لیے متی اور اعمال کی کتاب میں بیان کی گئی وجوہات کی بنیاد پر کھیت کو "خون کا کھیت" نہیں کہا جا سکتا ہے۔لیکن جیسے ہی ہم اس واقعے کو تاریخی قرار دینے کے دعوے سے دستبردار ہوتے ہیں اور کہانی کو ایک افسانہ خیال کرتے ہیں تو سارے تضادات غائب ہوکر موضوع کے گھٹتے بڑھتے تغیرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ لیوی اسٹراس نے کلیت سے ایک افسانے کی مختلف صورتیں دکھائی ہیں جہاں ایک جواز فراہم کرنے کے لیے دوسرا ترک کرنا پڑتا ہے۔خودکشی کرنے اور انتڑیاں باہر نکل آنے کی وجہ سے یہودا کی موت، اور دونوں اموات میں خدائی عمل کادخل اور اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی موت ہونا وغیرہ جیسی تبدیلیاں بطور غدار، احساس جرم سے بھرپور، قربانی سے متعلقہ ظلم کا شکار شخص اور سیاہ مسیح کے طور پر اس کے کردار و اعمال میں اضافی تبدیلیاں ہیں۔متی کی انجیل کے مصنف کی طرح اعمال کا مصنف بھی یہودا کی موت کی بابت اپنی تاویلات کو عبرانی بائبل کے ساتھ منسلک کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے وہ مختلف نصوص استعمال کرتا ہے۔مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ صحیفے نے داؤد کے منہ سے یہودا کی سزا کی بابت نبوت کی ہے (v. 20)، وہ زبور کا حوالہ بیان کرتا ہے جو اس کے ذہن میں تھا۔یہ پیشگوئیاں (زبور 69:25 اور 109:8) مشکل ہی قائل کرنے والی ہیں کیونکہ یہ داؤد بادشاہ کے دشمنوں کے خلاف محض عمومی تحریک تھی۔کوئی بھی پیشگوئی یہودا کی طرف کوئی خاص اشارہ نہیں کرتی اور نہ ہی اس کے اپنے دن پر زبور نویس فیصلہ عدالت کے بجائے کسی نبوت کی نشاندہی کرتا ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ متی کا بیان کردہ افسانہ عبرانی بائبل کے کچھ خاص پہلوؤں سے اخذ کیا گیا ہے حالانکہ قدیم فرسودہ نقط نظر کے باعث عبرانی بائبل سے جداگانہ نظر آتا ہے۔اعمال کے متعلق بھی ایسا ہی نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔یہودا کا خون اور کھلے میدان میں کچی زمین پر انتڑیوں کا نکل کر گرنا ہابیل اور قابیل کی کہانی کی یاد تازہ کرتا ہے، کیونکہ ہابیل کا خون بھی کھیت میں گرا تھا (پیدائش 4 :8)۔ خدا نے قابیل سے کہا "تو نے کیا کیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے، اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا جس نے ایسا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے (پیدائش باب 4 فقرہ 10 تا 11)۔عبرانی بائبل کا نظریہ خون، جوزمین کو بنجر کردیتا ہے، انسانی تاریخ میں بہت بعد میں وضع کیا گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے بالکل مخالف نظریہ کار فرما تھا کہ قربانی کا انسانی خون زمین کو ذرخیز کرتا تھا۔زمین کی بابت اپنا منہ کھول کر خون پینے کا نظریہ انتہائی قدیم ہے۔درحقیقت یہ زمین کی دیوی اپنے حق کے طور پر اس سے اپنی بھوک مٹاتی تھی۔عبرانی بائبل میں ملنے والا ہابیل اور قابیل کا قصہ ایک عام قتل کا معاملہ ہے لیکن بہت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ یہ انسانی قربانی کے متعلق وہ تبدیل شدہ قصہ ہے جس میں زمین ملعون نہیں ٹھہرتی بلکہ ہابیل کے خون سے مقدس ٹھہرتی ہے۔

عہد نامہ جدید اکثر انسانی قربانی سے متعلق آثارِ قدیمہ کی باقیات کی یاد دلاتا ہے جو عبرانی بائبل کی شائستہ اور ثقیف کہانیوں کے نیچے آثاریاتی فریب کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں، کیونکہ یسوع کی موت کے ذریعے (اور یہودا کی موت کے ذریعے) نجات کی بابت عہد جدید کی کہانی لاپرواہی کا اعادہ ہے جس میں ماقبل تاریخ واقعات کو دہرایا گیا ہے۔کہانی کی ظاہری بساط پر یہوداہ نجات دہندہ نہیں ہے بلکہ براہ راست مخالف، ایک قاتل اور قربانی دینے والا ہے۔لیکن جیسا کہ ہم قربانی سے متعلقہ افسانوں کے مطالعے میں دیکھتے ہیں کہ مظلوم اور قربانی دینے والے کردار خلط ملط ہو جاتے ہیں۔اکثر قربانی دینے والا مظلوم کا بھائی ہوتا ہے (قابیل، ہابیل. رومولس، ریمس، اوزائرس اور سیت) اور بعض اوقات وہ جڑواں بھائی بھی ہوتا ہے جو شناخت کا تعین کرتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے  خاص طور پر اعمال کی کتاب کی پیچیدہ تاویلات میں یہودا کی موت قربانی کی خصوصیات سے بھرپور ہے اور کسی بھی وجوہات کی بنا پر یہ یسوع کی موت کی ہیبت ناک مضحکہ خیز نقل ہے۔

Saturday, 1 July 2017

یسوع کا معاصر یہودی فرقہ فریسی

زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "The Myth maker Paul & the Invention of Christianity" کے باب نمبر3"The Pharisee" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی نے یسوع کے وقت موجود فریسی جماعت کی ابتداء،ان کے مقاصد، اعتقادات ونظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جس کی مدد سے اناجیل میں پیش کی گئی فریسیوں کی تصویر کا حقیقی رخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔
            یہ ترجمہ میری اور محترمہ صباخان صاحبہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ہم اپنی اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے یہ تو بعدازمطالعہ آنے والی آپ کی قیمتی آرا ء سے ہی علم ہوسکے گا۔آپ کی رائے کا منتظر۔عبداللہ غازیؔ

The Pharisees
اگر ہم اس سوال کا جواب دیں کہ پولس فریسی تھا یا نہیں یا پھر پولس کے دعوے کی حیثیت سمجھنے کے لیے ہمیں فریسیوں کے  متعلق مکمل تفصیل جاننا ضروری ہے کہ وہ کون تھے اور کس مقصد کے لیے سرگرم عمل تھے؟ یہاں ہم فقط فریسیوں کے مخالفت انگیز رویہ پر مبنی انجیلی تصویر پر اکتفا نہیں کریں گے۔ اناجیل فریسیوں کا خاکہ کچھ اس طرح سے پیش کرتی ہیں گویا کہ وہ یسوع کے اولین مخالف، سبت کے دن یسوع کی شفاء یابی کے عمل پر تنقید کرتے اور اس شفاءیابی کی وجہ سے یسوع کے قتل کی سازش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انجیل یسوع کو بھی فریسیوں پر شدیدتنقید کرنے والا اور انہیں ریاکار و ظالم کہنے والے شخص کے طور پر پیش کرتی ہیں،کیونکہ اس انجیلی نقش کالفظ  فریسی، مغربی سوچ کے مطابق ریاکار کے مترادف معنی میں ہیں جس کے ساتھ خودپسندی، حقارت، سخت گیری، آمریت پسندی اور علیحدگی پسند جیسے نقائض منسوب کر دیئے گئے ہیں اور قوم یہود کو عمومی طور پر ایک دقیانوسی کردار سونپ دیا گیا ہے۔
موجودہ سالوں میں بہت سے مسیحی علماء یہ صاف سمجھ چکے ہیں کہ فریسیوں کی یہ انجیلی تصویر حقیقت کے بجائے فقط پروپگنڈا ہے۔فریسیوں کے متعلق مستند معلومات کا ہمارا بنیادی ذریعہ خود انکی ضخیم دستاویزات، دعائیں، مناجات، حکمت کی کتابیں، قانون کی کتابیں، خطبات، بائبل کی تفاسیر، پوشیدہ صحف تاریخی کتب اور اس طرح کی دیگر کتابیں شامل ہیں۔ رسومات پسندی سے دور وہ لوگ تاریخ میں ایک زبردست تخلیقی صلاحیتوں کی حامل جماعت کی حیثیت رکھتے تھے۔بہرحال فریسی مذہبی قوانین کے نفاذ میں سختی اور شدت پسندی سے دور تھے (جیسا کہ پہلی صدی عیسوی کا مؤرخ جوزفیس بیان کرتا ہے اور فریسی کتب کی کثرت سے تصدیق کرتا ہے) اور مروجہ قوانین اور انسانیت کے ساتھ روادار، حالات کی تبدیل ہونے پر بائبل کے قوانین میں اجتہاد کرنے میں لچکدار رویہ رکھنے والے اور اخلاقی تصور کی اصلاح کرنے والوں کی حیثیت سے معروف تھے۔وہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے کیونکہ بائبل کو خداکاالہام سمجھنے کے باوجود وہ بائبل کی تفسیر کے لفظ پرست نظریہ کے تارک تھے۔
مذہبی تعلیم کے لیے ان کے پاس تورات تھی اور وہ مکتوب تورات کی طرح زبانی تورات پر بھی یقین رکھتے تھے جس نے مکتوب تورات کو بنیاد بنا کر اس کی تفسیر، سوالات، توضیحات اس طرح سے کی کہ یہ (زبانی تورات) بھی ایک حقیقت بن گئی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ تحریری احکامات کی طرح زبانی احکامات بھی خدا کی طرف سے موسی علیہ السلام کو دیئےگئے تھے۔ان میں سے بہت کچھ نئے تاریخی حالات کے ردعمل کے وقت کے دوران وقوع پذیر ہوئے، مثال کے طور پر یہ دعوی نہیں کیا گیا کہ کلیسیائی عبادت کی دعائیں جیسا کہ اٹھارہ کلمات برکات، موسی علیہ السلام یا عبرانی بائبل کے کسی نبی نے تشکیل دیئے ہوں۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ یہ دعائیں فریسی بزرگوں نے مرتب کی تھیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ عبادات، تہواروں اور عید روزہ کی جنتریوں (کلینڈر) میں بھی ہروہ کمی بیشی کی جو انہوں   نے مناسب سمجھی۔
اگرچہ فریسیوں نے مذہبی تعلیمات میں ایسے انسانی عنصر کی موجودگی کا اقرار کیا جس کے متعلق خدا کی طرف سے ملہم ہونے کا دعوٰی نہیں کیا گیا تھالیکن وہ اختلاف آراء یا مخالفت کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ فریسی تحاریر اس وجہ سے بھی غیر معمولی ہیں کہ وہ مشنا اور تلمود کے ذخیرہ میں شامل ایک ہی چھت کے نیچے کیے جانے والے ہر شرعی مسئلے پر اختلاف آراء کو محفوظ رکھتی ہیں۔بطور مثال ایک مسئلے کو لیتے ہوئے ہم سنہڈرین کی کتاب کو دیکھتے ہیں کہ وہ معاملات جو ان جرائم سے متعلق ہیں جن کی سزا کوڑوں سے دی جاتی ہے ، اس کا فیصلہ تین افراد کے ایک ٹریبنل سے کیا جاتا ہے۔ربی اشماعیل کی طرف منسوب کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تکمیل ماہ یا سال کے پورا ہونے کو تین افراد کے ٹریبنل کے ذریعے طے کیا جاتا ہے لیکن ربائی سائمن بن گملیل کہتے ہیں : معاملہ تین افراد سے شروع ہوتا ہے ، پانچ افراد کے ذریعے بحث کیا جاتا اور سات افراد کی رائے پر فیصلہ کیا جاتا ہے،لیکن اگر یہ تین افراد کے ذریعے ہی طے ہو جاتا ہے تو بھی یہ فیصلہ درست ہے۔
ان تجاویز و آراء کا تبادلہ خیال کرنے والوں میں جو لوگ شامل تھے وہ یسوع سے تقریباً سو سال بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی تحریک پولس اور یسوع کے معاصرین ان فریسیوں سے ہی چلی آرہی تھی۔ ان افراد میں کچھ تو پشت در پشت اُس گملیل کی اولاد میں سے تھے جس کا ذکرعہد نامہ جدید میں شامل اعمال کی کتاب میں موجوددہے کہ وہ پولس کے زمانہ میں فریسی جماعت کا سربراہ تھا۔
فریسی علماء مذہبی شرعی معاملات کے ساتھ ساتھ علم عقائد میں بھی باہمی مباحثہ کیا کرتے تھے۔ جن معاملات میں فیصلہ کرنے کے لیے ان کے پاس بحث کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا تھا تو ایسے فیصلے اتفاق رائے سے منظور کیے جاتے تھے۔ ایک بار جب کثرت رائے سے فیصلہ کر لیا جاتا تو اختلاف رائے رکھنے والے ربائی اس نتیجے کو تسلیم و قبول کرنے کے لیے بلائے جاتے تھے اور وہ ان فیصلوں کو شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے قبول کرتے تھے۔یہ انہی معنی میں متصور کیا جاتا تھا جنہیں آج جمہوریت پسندی کی معنی میں سمجھا جاتا ہے جہاں ووٹ کے بعد مخالف جماعت بھی فیصلے کو قانون کے طور پر قبول کرتی ہے۔فریسی کثرتِ آراء کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ان میں ایک داستان مشہور تھی کہ ایک مرتبہ خدا نے مداخلت کرکے ایک اکثریتی فیصلہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی (ایک آسمانی آواز کے ذریعے انہیں بتایا کہ اقلیت کا فیصلہ درست ہے) لیکن یہ بتایا جا چکا تھا کہ وہ (خدا) صحیح نہیں تھا اگرچہ وہ خود ہی بزرگوں کو کثرت آراء سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے چکا تھا اور اس نے خود ہی تورات میں فرمایا ہے کہ وہ (شریعت) آسمان پر نہیں ہے (استثناء 31:12) جس سے بزرگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ معجزات و الہامی مداخلت کے بجائے تفہیم انسانی کے عمل کے ذریعے تورات کا نفاذ کرنا تھا۔ یہ داستان جاری رہتی ہے اور خدا اس پر مسکراتا ہے اور کہتا ہے "میرے بچوں نے مجھے مات دی"۔
اگرچہ بزرگوں کی مجلس فیصلے کرتی تھی لیکن ان فیصلوں کو الٰہی اختیارات  پر مبنی سمجھ کر قبول نہ کیا جاتا تھا ۔ اختلاف رکھنے والی اقلیتوں کی رائے کو احتیاط سے قلمبند کیا جاتا اور انہیں مشنا میں محفوظ کیا جاتا تاکہ مستقبل میں یہ نئے فیصلوں کی بنیاد بن سکے۔ (جیسا کہ خود مشنا Eduyot 1:5 میں وضاحت کرتی ہے) جیسا کہ آج کل عدالت عظمی میں اختلاف رائے کے حامل مصنفین کی آراء کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں بنائے جانے والے قوانین کی کوشش میں انہیں استعمال کیا جائے۔
تاہم فریسی الہامی سمجھے جانے والے صحف کی بنیاد پر بننے والے تمام مذاہب کو قطعیت کی حامل کلیسیاء کے ساتھ جوڑنے سے پرہیز کرتے تھے۔ اس کے بجائے انہوں نے اُن شرعی صحف کا تصور قائم کیا جو انسانی توجہ کا مرکز تھے اور مسلسل انسانی توجہ اور فہم و فراست کی روشنی میں ان کی جانچ پڑتال جاری تھی۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کے یہاں یہ تصور موجود تھا کہ خدا چاہتا تھا کہ اس کی مداخلت کے بغیر انسانی استدلات کا عمل جاری رہے خواہ یہ کوشش غلطیوں سے پاک نہ بھی ہو۔ اس لیے فریسی ایک دوسرے سے مخالفت اور تشدد کیے بغیر اختلاف رائے رکھتے تھے کیونکہ یہ خطرے کے بجائے ان کی زندگی کا اہم جز تھا۔تاہم وہ کبھی کبھی ربائیوں کے خلاف تادیبانہ رویہ اختیار کرتے تھے (جیسا کہ ربی العزر) جو کہ ان کے اختلافی مؤقف کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی آراء کی منظوری کو قبول کرتا تھا جو کہ کثرت رائے کے خلاف ہوتی تھی۔
یہ سب صرف مذہبی گفتگو میں ہوا کرتا تھا لیکن پھر بھی ایسے تادیبانہ رویے اختیار کیے جاتے تھے۔علم الہیات کے دائرہ کار میں ایسی تدبیر اختیارنہیں کی جاتی تھی کیونکہ وہاں عملی فیصلے کی ہنگامی ضرورت نہ تھی۔ بزرگ اور ان کے جانشین ربائیوں کی طرف سے بغیر کسی بدعت کا فتوی لگائے وسیع اقسام کے نظریات رواں رکھے گئے تھے۔اگرچہ المسیح پر ایمان کے بارے میں ایمان یا اس کی حکومت کے مسئلے کے متعلق، ایک معزز ربی کے لیے ممکن تھا کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ مستقبل میں کبھی بھی کوئی ذاتی مسیح نہیں ہو سکتا اگرچہ بائبلی مسیح کی پیشگوئیاں حزقیاہ کی ذات میں پوری ہو چکی ہیں۔یہ ایک غیر معمولی بلکہ انوکھی رائے تھی لیکن سوال یہ ہے کہ ربی اس سوال کی وجہ سے ہرگز بدعتی نہیں سمجھا گیا۔ مسیحیت کی ناقابل برداشت گروہ پرستی جیسی بدعتوں سے یہ یہودی انداز بہت مختلف ہے جبکہ مسیحی عدم برداشت نے مسیح سے متعلق اختلافی رائے رکھنے والوں کو سولی پر چڑھا دیا۔
فریسیوں نے متعدد گروہوں کو بدعتی سمجھا کیونکہ ان کی حریف جماعتیں روایات پر مشتمل شریعت (Oral Traditions)کے نظریہ کو قبول نہیں کرتی تھیں۔ فریسیوں کے خیال کے مطابق صدوقی بدعتی تھے جو کہ ایک طاقتور یہودی گروہ تھا اور اناجیل میں بھی بکثرت ان کا ذکر پایا جاتا ہے جہاں انہیں بغیر کسی واضح وجوہات بتائے فریسیوں کے مخالفین کی حیثیت سے متعارف کیا گیا ہے۔یسوع، پولس اور ان کو درپیش حالات کی تفہیم کے لیے فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین تعلق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان،مخالفت کا اہم مسئلہ زبانی شریعت کا جواز تھا۔زبانی شریعت کو رد کرکے صدوقیوں نے شارحین، بزرگوں، ربائیوں کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی جو نئے نظریات و واقعات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے صحف کی تشریح میں مصروف تھے۔اسی طرح فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان فرق کو واضح طور پر مذہبی پیشواؤں کے طور پر لایا گیا اور بعد میں ان کی تعظیم کی گئی۔ صدوقی پیشوا بننے کے لیے کاہنوں اور بالخصوص سردار کاہن میں تبدیل ہو گئے جبکہ فریسیوں کا بہت ہی مختلف شخصیت کے طور پر ظہورہوا جن کے کردار یہودیوں کے زبانی منتقل ہونے والے قانون کے مطابق تھے۔ کہانت کا عہدہ مورثی تھا جو موسیٰ کے بھائی ہارون کی نسل سے چل رہا تھا۔ ہیکل کی خدمت میں ان کے کام مخصوص تھے اور ان کی مدد اس رقم سے ہوتی تھی جو عام آبادی کی آمدنی کے دسویں حصہ کو لے کر جمع کی جاتی تھی، مگر وہ رقم دینا فرض نہیں تھا۔ کاہنوں کو مذہبی پیشواؤں کے طور پر دیکھنے کا مطلب یہ تھا کہ ہیکل مذہبی زندگی کا مرکز ہو۔ اس وقت تین ادارے صدوقی مذہب میں توجہ کا مرکز تھے، بائبل، ہیکل اور کہانت۔
دوسری طرف فریسیوں کے لیے کہانت اور ہیکل ثانوی اہمیت کے حامل تھے۔ وہ کاہن کو پیشوا یا روحانی رہنماء کی حیثیت نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو محض رسوماتی عامل سمجھتے تھے جن کا کام ہیکل کے اندر قربانیوں کا عمل جاری رکھنا اور ہیکل کی عمومی دیکھ بھال کرنا تھا۔ یہاں تک کہ سردار کاہن کو بھی محض ایک عامل سمجھتے تھے جس کے پاس مذہبی امور پر بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ فریسیوں کی ایک کہاوت تھی '' ایک عالم حرامی کو ایک جاہل کاہن پر سبقت حاصل ہے''، اور درحقیقت فریسی ذیادہ تر کاہنوں کو جاہل سمجھتے تھے۔
فریسی رہنمائی کے لیے کاہنوں کے بجائے اپنے رہنماؤں ، ربیوں کی طرف دیکھتے تھے، جو کہ ایک مورثی عہدہ نہ تھا، بلکہ اس میں ہر معاشرتی طبقہ کے لوگ شامل تھے، یہاں تک کہ غریب ترین لوگوں میں سے بھی بڑی تعداد ان کی جماعت کا حصہ تھی۔ ربائی درحقیقت عام رہنماء تھے جنہوں نے اپنے اختیارات ( یہودیت کے) فریسیوں کی تعلیم پر مشتمل وسیع و عریض مواد پر عبور پا لینے کے بعد حاصل کیے۔ اس میں نہ صرف پوری عبرانی بائبل تعلیم کے پہلے قدم کے طور پر شامل تھی ، بلکہ مکمل قانون کی ساخت، تاریخ ، سائنس، اور تبلیغی تفسیر (مدراش) بھی تھے، جن کو فریسی تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا تھا۔ ایک فریسی فقیہ کے لیے بیک وقت ایک ماہر قانون دان اور ایک متاثر کن مبلغ ہونا ضروری تھا۔کیونکہ بائبل میں بھی ان دونوں طرز کی تعلیمات موجود تھیں، مکمل آئینی قانون اور تاریخ کا خاکہ ، یہودیوں کے روحانی مشن کے نظریہ کے ساتھ اور اس کی حیثیت خدا کے انسانیت کے مقاصد کے لیے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ ایک دن ایک فریسی ربی ایک جج کا کردار ادا کر رہا ہو جس نے ایک ایسے مشکل کیس کا فیصلہ کرنا ہو جس میں ہرجانے کے قوانین مداخل ہوں، اور دوسرے دن وہ سینیگاگ میں خدا سے استغفار کرنے والے گنہگار بندوں سے محبت کا پرچار ،ان مختلف مثالوں کو بیان کرتے ہوئے کر رہا ہو جو نہ صرف بائیبل سے اخذ کی گئی ہوں بلکہ اس کے اپنے تصورات سے بنائی گئی سادہ تمثلات بھی ہوں یا پھر فریسی تبلیغی مواد سے لی گئی ہوں۔ تاریخ کے اس مقام تک فریسی ربی ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے ایک پیشہ ور طبقہ نہیں بنے تھے ، عمومی طریقہ یہ تھا کہ ہر فریسی عالم کا اپنا پیشہ ہوتا تھا جس سے وہ اپنی گزر اوقات کرتا تھا۔ان کے پیشوں میں سے کچھ اپنی حیثیت میں ادنیٰ تھے۔ وہ معاشرے کو بغیر کسی معاوضے کے اپنی خدمات دیتے تھے یا زیادہ سے زیادہ ان اوقات کا معاوضہ لیتے تھےجو ان کے اپنے کمانے کے اوقات میں سے چھوٹ جاتے۔
کاہنوں سے فریسی ربیوں کی طرف اختیار منتقل ہونے کے نتیجے میں ہیکل کی حیثیت بھی ان کی نظر میں اس سے مختلف ہو گئی جو صدوقیوں کی مقبوضہ تھی۔(ان کے نزدیک) ہیکل تعلیم کی جگہ نہ تھی بلکہ صرف مذہبی رسومات کی ادائیگی اور قربانی کی جگہ تھی، اور جب تک فریسیوں نے جانوروں اور سبزیوں کی قربانی کی اہمیت کو تسلیم نہ کیا تھا ( جبکہ بائبل نے انہیں قائم کیا تھا ) وہ ان رسومات کو اپنی مذہبی زندگی کا مرکز نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ لوگ آپس میں اچھے طریقے سے مل جل کر رہنے کا علم حاصل کریں اور اس بات پر کہ محبت اور عدل کے اصولوں پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ جس ادارے میں اس فرقہ کی تعلیم کا عمل ہوتا تھا وہ عبادت گاہ ہیکل نہیں بلکہ سینیگاگ تھا ۔فریسی خود مختیار گروہ یعنی مقامی مذہبی برادری کو فروغ دینے کے بانی تھے۔
مذہب کی مرکزیت کا خاتمہ اور اس کا کئی مقامی مراکز میں تقسیم ہونا ہی فریسیت کی روایتی شکل تھی اور ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ یروشلم میں لوگ کہانت کو مقامی فریسی علماء کے مقابلے میں بے واسطہ اور غیر حقیقی سمجھنے لگے تھے، جن(فریسی علماء) کے پاس وہ اپنے مسائل لے کر آ سکتے تھے اور جو سینیگاگ میں ان کو باقائدہ ہدایات دیا کرتے تھے۔ ایسا فریسی عالم ان کی اپنی صفوں میں سے ہوتا تھا، جو ان پر کسی قسم کی شاہانہ فضیلت کا دعویٰ دار نہیں تھا، اور نہ ہی کسی جادوئی یا بعید از فہم اختیارات کا دعویٰ کرتا تھا بلکہ ان کو محض وسیع حدود میں علم حاصل کرنے پر زور دیتا تھا اس لیے کہ حصولِ علم کو ہر یہودی کی ذمہ داری اور ہر نیک اور مفید زندگی کی اساس سمجھا گیا تھا ۔ اس طرح فریسی نہ صرف خود مختیار جماعت کے بانی تھے بلکہ وہ تعلیم کے عالمگیر ہونے کے خیال اور عمل کے بھی بانی تھے۔ اگرچہ یہاں بھی وہ اس بات کے دعویٰ دار تھے کہ وہ صرف بائیبل کے احکام کو پورا کر رہے ہیں جو کئی جگہوں پر علم کی فرضیت پر زور دیتی ہے۔
کہانت کے ساتھ اختیارات کے اس معرکہ کے دوران فریسوں نے کبھی خود کو نئی بدعات ایجادکرنے والا یا انقلابی نہیں گردانا، بلکہ خالص یہودیت کو قائم کرنے والا ہی کہا۔بائبل کے مطابق سب سے بڑی تدریس کی ذمہ داری کاہنوں کے بجائے انبیاء کو دی گئی تھی جو موروثیت کے دعویٰ دار نہیں تھے اور کسی بھی معاشرتی طبقہ میں سے ہو سکتے تھے۔اسرائیلی مذہب کے بانی موسیٰ نے خود کو سردار کاہن نہیں بنایا تھا بلکہ اپنا منصب اپنے بھائی کو دیا جو کہ ایک فرضی رشتہ تھا ۔ اسی لیے ربائی اپنے آپ کو انبیاء کا مورث سمجھتے تھے، خاص طور پر موسیٰ کا، اور اسی طرح تعلیم و تعلم کی ذمہ داری کا مورث بھی سمجھتے تھے جس کو ہمیشہ سے عملی اور مذہبی یہودیت میں کاہنوں کے منصب سے بہت احتیاط سے ممیز رکھا گیا تھا۔ تاہم ربائی اپنے لیے نبوت کے دعویٰ دار بھی نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبوت بائبل کے آخری علماء کے ساتھ ختم ہو گئی ہے، اور اب صرف دورِ مسیاح میں ہی دوبارہ شروع ہوگی۔ان کے خیال کے مطابق ان کا کام اجتماعی کوشش کے ساتھ جدید سائنسی طریقہِ کار کی طرح بائبل کے الہامی الفاظ کی توضیح کرنا تھا، جس میں ہر ربائی اپنے زخیرہِ خیالات اور توضیحات کو باقی سب کے پاس پیش کرتا۔ نتیجتاْ انہوں نے منطقی تجزیہ اور مناظرہ کو مطابقت کے ذریعہ پروان چڑھایا۔ جس نے تالمود کی صورت میں انسانی عقل و دانش کی ایک عظیم کامیابی کو ظاہر کیا، جس میں انتہائی دانشمندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اخلاقیات ، کاروباری اخلاقیات ، اور قانونی انتظامیہ پر ایسے طریقوں سے بحث کی گئی جو اس دور کے لحاظ سے کہیں ترقی یافتہ تھے۔
دوسری طرف صدوقی یہ سمجھتے تھے کہ وہ نت نئی بدعتوں کے خلاف پرانے نظام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک بائبل ، کہانت اور ہیکل قابلِ تعظیم تھے۔ان کے نزدیک بائبل کو توضیح کے لیے کسی قسم کے پیچیدہ مواد کی ضرورت نہ تھی، کہانت کو اس کے تکملہ کے طور پر بلاوجہ دخل انداز ہونے والے عام علماء کے ضرورت نہ تھی، اور ہیکل میں ہر طرح کا کفارہ دیا جا سکتا تھا ، بغیر اس کے کہ سینیگاگ کو عبادت ، تعلیم یا تبلیغ کے لیے بلاوجہ اہمیت کا حامل بنایا جائے۔بہت سے جدید محقق صدوقیوں کو قدیم یہودیت کے نمائندوں کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اس تصور میں سنگین نقائص ہیں۔صدوقی پرانے نظام کو تو بچا رہے تھے لیکن یہ قدیم نظام بھی قدرے نئے زمانے کا تھا، جو تیسری صدی قبلِ مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ جب یہود پر مصر کے یونانی بطلموسیوں کی حکومت تھی۔ اس دورِ حکومت میں اس خطہ کے اندر کہانت کو یونانی فرماں روا اور اس کے جانشینوں کے ذریعہ مرکزی درجہ اور طاقت ملی، سکندر ِ اعظم کی طاقت سے(to the power of Alexander the great) اس دور میں کہانت کو غیر ملکیوں کے حکومت کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ اس طرز کا کردار تھا جو رومیوں کے دور میں حکومت کو قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا. غیر ملکی حکومت ( جو کہ اس وقت مصر کے بطلموسی یونانیوں سے شام کے سلوقی یونانیوں سے بدل چکی تھی) کے خلاف یہود کے دور ِ بغاوت میں (160 قبل مسیح)جب فریسی ایک امتیازی تحریک کے طور پر ظاہر ہوئے تو ان کا مقابلہ کاہنوں سے نہ صرف مذہبی وجوہات کی بناپربلکہ سیاسی وجاہات کی وجہ سے بھی ہوا۔ وہ یہودیوں کو کاہنوں کے چنگل سے آزاد کرنا چاہتے تھے ، نہ صرف اس لیے کہ ان کو پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق عام علماء کی طرف لوٹایا جائے بلکہ اس لیے بھی کہ کہانت کو اس کے حقیقی ، بائبل والے کردار تک محدود کیا جائے ، یعنی وہ سیاسی طاقت کے مرکز کے بجائے صرف رسومات ادا کرنے والی جماعت ہوں۔
فریسیوں اور کاہنوں کی یہ سیاسی کشمکش یہود کے غیر ملکی یونانیوں سے آزادی کے بعد بھی جاری رہی جو کہ پھر بعد میں اپنے ساتھی یہودیوں پر سلطنت اور اعلی کہانت کے ہمراہ برسرِ اقتدار ہوئے اور بادشاہت کو کہانت کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا تاکہ سردار کاہن کے  سیاسی اختیارات میں مزیداضافہ ہوتا رہے۔اگرچہ فریسیوں نے آئینی ترقی کی سخت مخالفت کی جس کے نتیجے میں حشمونی بادشاہوں کی طرف سے سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ لوگ جو فریسیوں کا ناکافی اور متعصب تصور پیش کرتے ہیں ان کے پاس فریسیوں کا بطور "طاقت مخالف" کے کوئی حوالہ نہیں پایا جاتا۔ ظالم کی بجائے وہ تو مخالف جماعت کی صورت میں تھے۔ سیاسی پہلو سے فریسیوں کی ایک بہتر تصویر جوزیفس سے حاصل کی جاسکتی ہے جس نے درحقیقت اس تصور کی مخالفت کی ہے کہ فریسی سیاسی اختیارات کے حاملین کے لیے فسادی اور پریشانی کا باعث تھے۔ 
یہ واضح رہے کہ صدوقیوں کے مذہبی مقام کی وجہ سے کاہنوں کو اونچے اختیارات کا مرتبہ حاصل ہوا، پھر بھی یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ کہانت کا نظام مکمل طور پر صدوقیوں کے نظریات کا حامی رہا۔ زیادہ تر عوامی طبقے کے کاہن فریسیوں کے حامی تھے اس لیے وہ مذہبی اور سیاسی طور پر بد چلن "سردار کاہن " کے مخالف تھے۔ یہودی عوام کی طرح عام کاہنوں نے بھی فریسیوں کو بطور راہنما، بزرگ اور روحانی پیشوا کے قبول کیا اور محض اس وجہ سے کہ ان کا تعلق ہارونی شریعت سے تھا،اور انہوں نے خود کو بطورِ حریف پیش نہیں کیا۔ انہیں قبول تھا کہ مذہبی استاد کے بجائے بطور کاہن وہ ہیکل کے مالک تھے. ان میں سے کچھ تو باقاعدہ فریسیوں کی درسگاہوں کا حصہ بنے۔ کیونکہ وہاں کسی پر بھی عالم بننے پر پابندی نہیں تھی یہاں تک کہ کاہنوں پر بھی نہیں۔
کاہنوں میں کچھ خاندان امیر اور سیاسی طور پر بااثر اور حکومت کی طاقت رکھنے والے بھی تھے جو کہ صدوقی تھے۔ صدوقی جماعت یہودیوں کے درمیان ایک اقلیت تھی جو کہ امیروں، زمینداروں اور کاہنوں پر مشتمل تھی۔ ان جیسے لوگ در اصل ابن الوقت تھے اور جس کے پاس طاقت اور اقتدار ہو ان کے ساتھ اتحاد میں آجاتے تھے۔ چاہے وہ بطلیموسی یونانی ہوں، سلوکسی یونانی ہوں، حشمونی، ہیرودیسی ہوں یا رومی۔ اس لیے صدوقیوں کو عام بد امنی اور اضطرابی کیفیات سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہیکل جو کہ یہودیت کا خاص مرکز تھا کسی بھی حکومت کے قبضے میں آسکتا تھا اور اس پران کے شرکاء کی حکمرانی ہو سکتی تھی۔ لیکن یہودیوں کے حقیقی مراکز جو کہ سینیگاگ تھے وہ فریسیوں کے زیر اہتمام تھے۔ وہ ایسے غیر نمایاں اوربظاہر ناقابلِ ذکر تھے کہ ان کی جانب کسی کو قبضے کا خیال نہیں تھا۔ اگر چہ رومی اقتدار کے علم میں تھا کہ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے یہودیوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ پولس اور یسوع کے دور میں رومیوں کی حکمرانی تھی جنہوں نے سردار کاہن کا تقرر کیا، جیسا کہ رومیوں سے پہلے ہیرودیوں نے بھی کیا تھا۔ رومیوں نے سوچا تھا کہ اپنے آدمیوں کو سردار کاہن کے منصب پر فائز کرکے یہودی مذہب پر انکی حکومت قائم ہوگئی، جبکہ انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ یہودی مذہب میں ظاہری طور پر روحانی پیشوا سردار کاہن کی کوئی وقعت نہیں تھی اور وہ ذاتی طور پر یہودیوں کی اکثریت کے نزدیک بہت ناپسندیدہ شخصیت تو تھی ہی، ساتھ ہی خواص کے نزدیک بھی سردار کاہن مذہبیات میں کوئی اختیار نہ رکھتا تھا۔
یہودی معاشرے میں سرکارکاہن کے مشکوک کرداراورمقام کو سمجھے بغیریسوع اور پولس کے دورکےواقعات کو سمجھنا ناممکن ہے۔ایک طرف وہ ہیکل کی عظیم رسومات کی قیادت کرنے والی ایک عمدہ اور شاندار شخصیت کے طور پرآتا ہے تودوسری طرف وہ ایسا شخص ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔انجیل کا عام قاری اس سے یہی تاثر لیتا ہے کہ یہودیت میں کاہن اعظم کاوہی مقام ہے جو کیتھولک چرچ میں پوپ یا انگلینڈ کے چرچ آف کانٹبری میں آرچ بشپ کا ہے۔یہ غلطی اس حقیقت سےنمایاں ہوتی ہے کہ مسیحیت میں رسومات کی ادائیگی  کاقانون ہمیشہ سے ہی تعلیم دینے کے قانون سے جڑا رہاہے،مسیحی پادری عبادات ادا کرتے اور لوگوں کو خطبوں اور درس کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں۔اس لیے مسیحی اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہودیت میں یہ دونوں کردارہمیشہ جدارہے ہیں۔ قربانیاں اداکرنے والا شخص مذہبی اعتقادات و احکام شرائع کو بیان نہیں کرتا ہے اور نہ ہی برانگیختہ کرنے والے مقرر یانبی کا کرداراداکرسکتاہے۔ان کرداروں کی لانظیر تقسیم نے یہودی مذہب کی بقا کوبےشمار فائدے دیئے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مخصوص مذہبی مراکز کی خرابی وتباہی نے اس کے تسلسل پر بہت کم اثر ڈالاہے۔کہانت اکثرمایوس کن حدتک خرابی کا شکارہوئی لیکن جب تک فریسیت جیسی تحاریک کاوجود رہا مذہب پر ان خرافات کا زیادہ اثر نہ پڑا۔حتی کہ ہیکل کی تباہی(جسے غیریہودی افراد نے انہدام یہودیت سے تعبیر کیا)سےبھی ایسے نتائج نہ نکلے کیونکہ بقاء مذہب کا انحصار ہیکل کی موجودگی اوررسومات کی ادائیگی پر موقوف نہ تھا۔
یسوع اور پولس کے زمانے میں کہانت عظمی کی بددیانتی  کی تصدیق بحیرہ مردار سے ملنے والے صحیفوں کے گروہ اور اسینیوں سے بھی ہوتی ہے۔تاہم یہ فرقہ ہیکل اور منصب کہانت میں ہونے والی خیانت کے متعلق اپنے ردعمل میں فریسیوں سے بہت مختلف تھا۔فریسی کاہنوں کےساتھ تعاون کے قائل تھے کیونکہ وہ انہیں اس قدر اہم خیال نہیں کرتے تھے۔ان کے نزدیک کہانت چونکہ روحانی طاقت کی علامت کے بجائے محض رسومات کی ادائیگی کرنے کا عہدہ تھا اس  لیے جب تک وہ اپنی کم قابلیت کے ساتھ رسومات اداکرنے کا فریضہ سرانجام دیتا رہتاان کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھاکہ وہ شخصیت کے لحاظ سے کتناناقص ہے۔شریعت کو نظرانداز کردینے کے ساتھ ساتھ ہیکل کی خدمات کی ادائیگی میں صدوقی عملیات کو متعارف کروانےکی کوشش کے معاملے میں بھی فریسیوں کو تحفظات لاحق تھے جس کی وجہ سے وہ سردارکاہن کے فرائض کی تکمیل کاجائزہ لیتے تھے۔ایک بار یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جاتیں تو وہ مطمئن ہوجاتے تھے تاکہ ہیل کی خدمات سرانجام دینے والوں کی علمی وخلاقی  کمی کوتاہی کے باوجودہیکل کی خدمات درست رہیں۔
بحیرہ مردارکے صحائف کاہنوں کے معاملے کو اس سے کئی گنازیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ منصب کہانت مایوس کن حد تک بدعنوان ہوچکاہے لہٰذا انہوں  نے خود کومکمل طور پر یہودی معاشرے سے نکال لیا اور ایک الگ سے راہبانہ جماعت تشکیل دی جس کی امیدوں اور دعاؤں کا محور وہ ایام تھے جب اصل ہیکل کی خدمات بحال ہوجائیں گی۔فریسیوں کی نسبت بحیرہ مردار کے صحائف ہیکل اور کاہنوں کے کردار کا صحیح جائزہ پیش کرتے ہیں ۔جدید علماء کے مطابق وہ صدوقیوں کا ایک علیحدگی پسند گروہ تھا جنہوں نے خود کو "راستی کے فرزند"کے نام سے موسوم کرلیاتھا۔انہوں نے سیاست اور خرافات کے جڑپکڑنے سے قبل کے خالصتاًصدوقی نظریات کو متعارف کروایا جوکہ بائبل،ہیکل اور کہانت کی مرکزی اہمیت پر مشتمل اور فریسی تحریک کامخالف تھے۔
جب ہم عہدجدیدکے واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں جہاں سردارکاہن کی شخصیت یسوع اور نہ ہی پولس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے،ہمیں سردارکاہن کے کردار کے متعلق تصورات سےخودکوآزاد اورتاریخی حقائق کی روشنی میں ان معاملات کوسمجھنا پڑتا ہے۔فریسی تحریک اور اس وقت کے سردارکاہنوں کے درمیان شدید مخاصمت کوذہن میں لاکر عہدجدید پر گہری روشنی ڈالی جاسکتی ہے کہ وہ (کاہن)صرف صدوقی ہی نہیں تھے   بلکہ رومیوں کی طرف سے مقرر کردہ ایجنٹ تھے اور رومی قوت کے ساتھ دشمن کی جاسوسی پر مامور تھے۔
Videos

Recent Post