Latest News

Featured
Featured

Gallery

Technology

Video

Games

Recent Posts

Wednesday, 12 July 2017

یہودہ اسکریوطی اور یہودی شیطان کا افسانہ

 زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "Judah Iscariot & the Myth of Jewish Eveil" کے باب نمبر4"Judah in Luke and Acts" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی  نے یہوداہ اسکریوطی کی شخصیت کا اعمال اور لوقا کی کتاب کی روشنی میں تحقیقی تجزیہ یہودی تاریخ کی روشنی میں کیا ہے جو بزرگ یہوداہ اسکریوطی کی شخصیت کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتا ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔ میں اپنی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنے والدین کی طرف انتساب کرتی ہوں جن کی شفقت ومحبت اور دعاؤں کے باعث میں نے علم حاصل کیا اور یہ ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں  اپنے سوشل میڈیاپیج وگروپ مسلم مسیحی مکالمہ آفیشل کی  پوری ٹیم کی بھی شکرگزار اورممنون ہوں جن سے مجھےبہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
اس کتاب کو پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
والسلام
صباخان
یہوداہ اسکریوطی لوقا اور اعمال کی کتاب میں
ہم دو ابتدائی اناجیل مرقس اور متی کے موازنے سے دیکھ چکے ہیں کہ یہودا کی کہانی میں مستقل ٹھہراؤ  نہیں ہے بلکہ یروشلم چرچ اور یہود کی مخالفت کے نتیجے میں پولوسی چرچ کی ضروریات کے تحت اس میں مسلسل بڑھتی ہوئی واضح تبدیلیوں کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جب ہم تیسری مرتب شدہ انجیل لوقا کی طرف آتے ہیں تو ہم اس میں نئی تفصیلات ملنے کی توقع کر سکتے ہیں۔چونکہ عام طور پر لوقا اور اعمال کی کتاب کے مصنف کے متعلق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ان دونوں کا مصنف ایک ہی شخص ہے لہذا لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب پر ایک ساتھ متفقہ طور پر غور و فکر کرنا چاہئے۔
 چرچ کی روایات کے مطابق لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف ایک غیر یہودی تھا جو پولس کا ساتھی اور شاگرد تھا جسے کلسیوں (4:14) میں لوقا کہا گیا ہے جو پولوس کا چہیتا طبیب تھا(حوالہ جات فلیمون 24،ٹھموتی دوم 4:11)۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب دونوں ہی میں لوقا کے متعلق کوئی تذکرہ موجود نہیں۔اعمال کی کتاب کے بعد کے ابواب میں اسم ضمیر 'ہم' کے استعمال سے (مصنف کا پولوس کے ساتھ شریک سفر ہونے نشان دہی کی جاتی ہے) پولوس کے ساتھی کے متعلق مصنف ہونے کا قیاس کیا جاتا ہے،لیکن یہ اعمال کی کتاب کے ابتدائی مواد میں مصنف کی طرف سے کیا گیا اضافہ ہوسکتا ہے اور کسی دوسری صورت میں غالباً اعمال کا مصنف لوقا کے بجائے پولوس کا کوئی دوسرا ساتھی ہو سکتا ہے۔ دور جدید کے بہت سے علماء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لوقا یا پولوس کا کوئی بھی ساتھی لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف نہیں ہے۔اس دعوی کے حق میں درج ذیل دلائل دئیے جاتے ہیں (1)لوقا کی انجیل اور اعمال کا مصنف پولوس کے برعکس یسوع کی موت کوحقیقی قربانی قرار دینے کے متعلق خفیف  اشارہ دیتا ہے (2)اعمال کی کتاب میں بیان کی گئی پولوس کی سوانح حیات کی تفصیلات اور پولوس کے اپنے خطوط میں اس کے بیانات کے درمیان شدید تضادات پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ تصور درست ہے تو ہم لوقا کی انجیل اور اور اعمال کی کتاب کے مصنف کے بارے میں غیر یہودی ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے (جیسا کہ فلسطین کے جغرافیہ اور سامیت سے متعلق اس کی لاعلمی سے ظاہر ہوتا ہے)۔ جبکہ دوسری طرف لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کی تالیف کے متعلق انتہائی مشکوک آراء پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور پولوس کے ساتھی لوقاطبیب کی بابت لوقا انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف ہونے کا نظریہ اب بھی مستحکم ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لوقا کی انجیل 80 تا 90 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے اور اس کا تسلسل اعمال الرسل کتاب 90 تا 100 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے۔بہت سوچ بچار کے بعد ہم اس فیصلے تک پہنچتے ہیں (مثال کے طور پر یروشلم کی تباہی کی تفصیلی معلومات لوقا باب 21 فقرہ 20 تا 24 میں بیان کی گئی ہیں اور لوقا 1:1 کے دعاوی کے مطابق انجیلی تحاریر پہلے سے موجود تھیں)کہ متی کی طرح لوقا بھی مرقس کی انجیل کا بہت سا مواد خاص تبدیلیوں کے ساتھ اپنی انجیل میں شامل کرتا ہے۔ تاہم وہ یوحنا اصطباغی کی پیدائش جیسا قصہ، مریم کا گیت، مبالغہ آرائی (خدا کی تعریف میں کہی گئی حنہ کی نظم کے انداز میں سموئیل اول باب دوم فقرہ 1 تا 10) اور یروشلم میں یسوع کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک بڑا حصہ اپنے طور پر خود سےشامل کرلیتا ہے۔ لوقا کی یونانی زبان پہلی دو اناجیل کی نسبت زیادہ شائستہ ہے، وہ اپنی انجیل کے آغاز میں بطور سابقہ ایک تعارفی تقریر شامل کرتا ہے اور اپنے زمانے کا ادبی انداز اختیار کرتا ہے۔یسوع کی زندگی کے واقعات کو دنیا کی تاریخ میں ضم کرنا اور مسیحی چرچ کے تاریخی کردار کو جائز قرار دینا لوقا کا الٰہیاتی مقصد تھا، کیونکہ وہ (متی اور مرقس کی طرح) مستقبل قریب میں یسوع کی واپسی کی توقع نہیں رکھتا۔ متی اور مرقس کی اناجیل کی طرح لوقا کی انجیل میں بھی یہودا اسکریوتی کو بارہ رسولوں میں شامل رسول کے طور پر بیان کیا گیا ہے :
 "جب دن نکلا تو اس نے اپنے شاگردوں کو پاس بلایا اور ان میں سے بارہ کو چن کر انہیں رسول کا لقب دیا، یعنی شمعون جس کا نام اس نے پطرس بھی رکھا اور اس کا بھائی اندریاس اور یعقوب اور یوحنا اور فلپس اور برتلمائی، اور متی اور توما اور حلفئی کا بیٹا یعقوب اور شمعون جو زیلوتیس کہلاتا تھا اور یعقوب کا بیٹا یہودا اور یہودا اسکریوتی جو غدار ثابت ہوا (لوقا باب 6 فقرہ 13 تا 16)۔
یہاں ہم پہلی بار یہودا نام کی دو شخصیات کو دیکھتے ہیں ان میں سے ایک یعقوب کا بیٹا یہودا ہے جبکہ دوسرا یہودا اسکریوتی ہے۔یہ قضیہ ایک جدید ارتقاء ہے جو عہدجدید کی دستیاب روایات میں دو یہوداہوں کے متعلق معمولی توضیحات کا متقاضی رہا ہے۔
متی اور مرقس کی اناجیل میں غدار یہوداکو رسول کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ  ان دونوں اناجیل میں رسولوں کے درمیان ایک سے زیادہ یہودا نام کی شخصیت ہونے کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ملتا۔تاہم اس صورتحال پر بالوثوق کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہودا نام کے شخص کی یسوع سے وفاداری کے متعلق مستحکم روایات موجود ہیں۔اختلافات کے باوجود ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں وفادار یہوداہ کو یسوع کا بھائی کہا گیا ہے۔اس الجھن سے بچنے کے لیے وفادار اور غدار یہودا نام کی دو شخصیات موجود ہونے کا دعوٰی کر دیا گیا۔دوسرا یہودا پہلے یہودا کی خیالی (جھوٹی) کہانی کی ضمنی پیداوار ہے۔تاریخی حقائق میں ایک ہی وفادار یہودا رسول  کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہترین دلائل موجود ہیں۔ دوسرا یہوداہ درحقیقت پہلے یہوداہ کی واپسی ہے جسے بعد میں مکمل طور پر قلم زد نہیں کیا جا سکا۔
لوقا کے قصے میں سردار کاہنوں کے ساتھ یہوداہ کی گفتگو میں کچھ نئی باتیں بھی شامل ہیں:
" اور شیطان یہودا میں سما گیا اسے یہودا اسکریوتی بھی کہتے ہیں اور وہ یسوع کے بارہ شاگردوں میں شمار کیا جاتا تھا، وہ سردا رکاہنوں اور ہیکل کے پاسبانوں کے سرداروں کے پاس گیا اور ان سے مشورہ کرنے لگا کہ وہ کس طرح یسوع کو ان کے حوالے کرے، وہ بڑے خوش ہوئے اور اسے روپیہ دینے کا وعدہ کیا، اس نے ان کی بات مان لی اور موقع ڈھونڈنے لگا کہ یسوع کو کس طرح ان کے حوالے کرے کہ لوگوں کو خبر تک نہ ہو (لوقا باب 22 فقرہ 3 تا 6)۔
متی کے قصے کی طرح اس قصے کاماخذبھی مرقس باب 14 فقرہ 10 تا 11 کی مختصر سی عبارت ہے،لیکن لوقا اسی اختصاراخبر کوتقریری انداز میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے ثبوت ظاہر کرتا ہے۔متی اور مرقس میں شیطان کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے جبکہ لوقا میں یہودا شیطان سے بھری ہوئی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے جس کا فریب نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان ازلی تصادم کا حصہ بن جاتا ہے۔لوقا کہانی کو خوش نما ظاہر کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور یہودا کے فریب کے عمل کرنے کی بابت کچھ بیانات شامل کرتا ہے۔ایک غدار اس حد تک ضروری کیوں ہے؟ ایک غدار کی خدمات حاصل کیے بغیر سردار کاہن یسوع کو گرفتار کیوں نہیں کر سکتے تھے؟ اس پیچیدگی کو متی اور مرقس نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔لوقا آگے چل کر مزید اس مسئلے کی عقدہ کشائی کرتا ہے۔سردار کاہن یسوع کو سر عام گرفتار کروا کر یہودی عوام کی دشمنی کو ہوا دینے پر رضامند نہیں تھے اس لیے "ہجوم کو جمع کئے بغیر" خفیہ طور پر گرفتار کروانے کا بندوبست کرنا ضروری تھا۔ تاہم روایت کی ایک پیچیدگی دوسری پیچیدگی کو جنم دیتی ہے۔ ایک جگہ یسوع کی حمایت کرتا ہوا ہجوم کسی دوسری جگہ اس کی مخالفت کرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔یہ تمام مصنفین اناجیل کے لیے ایک مشکل  مقام ہے جبکہ متی اور لوقا نے اس میں صرف معمولی وسعت پیدا کی ہے۔
متی کے برعکس لوقا کی انجیل میں یہودا کے لالچ کے قصے کو زیادہ پرزور انداز میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔انجیل مرقس (14:11)میں یہودا کے بجائے سردارکاہن رقم کی ادائیگی کی تجویز پیش کرتے ہیں جبکہ انجیل لوقا میں مرقس کے برعکس یک طرفہ معاہدے کے بجائے یہودا کی رضامندی سے معاہدہ طے پاتا ہے۔ لوقا مکمل طور پر متی کے عبارتی متن پر انحصار نہیں کرتا بلکہ متی کے متن میں اپنے طور پر براہ راست اضافے کرتا ہے چونکہ وہ یہودا کی غداری کو شیطان کی دخل اندازی کے ساتھ منسوب کرتا ہے لہذا لالچ کے معنوں میں یہودا کی رغبت کے بارے میں وضاحت کرنے سے اسے کوئی غرض نہیں ہے۔شیطان سے بھرے ہوئے شخص کے طور پر یہودا کو مادی ترغیب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم آغاز میں ہی علم الہیات کےاس مسئلے کا ادراک کر سکتے ہیں جسے مکمل طور پر بعد میں وضع کیا گیا ہے : یہودا کو کس قدر ملامت کرنی چاہیے؟ شیطانی طاقت میں جکڑے جانا اسے بے یارو مددگار بنا دیتا ہے اس لیے یہودا قابل ملامت نہیں ہے۔ اس کے باوجود بحیثیت غدار اس کی بدی اس پورےافسانے کو اثرانگیز بنانے کے لیے ضروری ہے۔یہودا جیسی کہانی میں اس طرح کی دگنی پیچیدگی کا پیدا ہونا یقینی بات ہے اس پر مزید بحث درکار ہے۔
مرقس کی طرح لوقا بھی آخری کھانے کے قصے میں یہودا کا نام لے کر تذکرہ نہیں کرتا اس کے باوجود اس کے کردار کی طرف بطور غدار سختی سے اشارہ کیا گیا ہے۔الہامی اور عشائے ربانی کے الفاظ کے بعد یسوع اعلان کرتا ہے ۔
"مگر دیکھو میرے گرفتار کروانے والے کا نام میرے دسترخوان پر ہے کیونکہ ابن آدم تو جا ہی رہا ہے جیسا کہ اس کے لیے پہلے سے مقرر ہے لیکن اس آدمی پر افسوس ہے جس کے ہاتھوں وہ گرفتار کروایا جاتا ہے، یہ سن کر وہ آپس میں پوچھنے لگے کہ ہم میں ایسا کون ہے جو یہ کام کرے گا (لوقا باب 22 فقرہ 21 تا 23)۔
شاگردوں کے درمیان بدگمانی اور بحث چھڑ جاتی ہے کہ یسوع کی بادشاہت میں کون اعلی مرتبے پر فائز ہوگا۔ یسوع انہیں یہ کہہ کر ملامت کرتا ہے کہ انہیں ذاتی عزت و وقار سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے پھر وہ ان سب سے وعدہ کرتا ہے کہ "وہ بارہ تختوں پربیٹھ کر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کریں گے"۔پھر یسوع کہتا ہے :
"شمعون، شمعون! شیطان نے گڑگڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے، لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا (لوقا باب 22 فقرہ 31 تا 32)
پس اس لحاظ سے لوقا غداری کے معاملے میں خاص نقطہ نظر رکھتا ہے جبکہ متی اور مرقس گستمنی کے باغ میں یسوع کو چھوڑ جانے پر دوسرے شاگردوں کی غداری خاص طور پر کاہنوں کے گھر پر پطرس کا اپنے استاد کے بارے میں انکار کرنے کے متعلق بیان کرتے ہیں اور صرف لوقا آخری کھانے کے قصے میں اس موضوع کو ترتیب دیتا ہے۔متی اور مرقس میں یسوع شاگردوں کے ارتداد (مرقس 14:27، متی 26:37) اور پطرس کی غداری (مرقس 14:30، متی 24:34) کی پیش گوئی پورا ہونے سے پہلے زیتون کے پہاڑ تک پہنچنے کا انتظار کرتا ہے۔متی اور مرقس آخری کھانے کے موقع پر صرف یہودا کی غداری کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں جو اسے سب سے الگ تھلگ بنا دیتی ہے جبکہ لوقا کی نظر میں صرف یہودا کے معاملے کو ہی انتہائی غداری کا معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔اس وضاحت سے تمام شاگردوں کی اخلاقی حالت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ لوقا دوبارہ شیطانی اصلاحات کا تذکرہ کرتا ہے لیکن اس کے قصے میں یہودا کے بجائے تمام شاگرد اخلاقی گراوٹ کی شیطانی مہم کا شکار ہوتے ہیں جیسا کہ یسوع کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے "شیطان نے گڑگڑا کر اجازت چاہی کہ تمہیں گندم کی طرح پھٹکے" (لوقا 22 :31)۔یہ حقیقت ہے کہ آخری کھانے کے قصے میں یہودا کا نام لے کر تذکرہ نہ کرنے سے اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ کہ اس کی دغابازی محض عام بےچینی کا نتیجہ ہے۔
لوقا عہد جدید کی کتاب اعمال کا بھی مصنف ہے جو چرچ کی ابتدائی تاریخ اور خاص طور پر پولوس اور یروشلم چرچ کے درمیان اختلافات پر بحث کرتی ہے اس تصادم میں پولوس ابتداء میں معاند اور دشمن کے روپ میں سامنے آتا ہےجبکہ پطرس یہاں یہودی قوانین سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص کے بجائے  پولوس کے نجات کے عقیدے میں تبدیل ہونے والے شخص کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ اس کہانی کی سب سے بڑی مشکل پولوس کی یسوع سے غیر واقفیت ہے جو یسوع کو کبھی جانتا بھی نہیں تھا جبکہ یروشلم چرچ کے بزرگ یسوع کے روز مرہ کے دوست اور پیروکار تھے جو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ یسوع کی خواہشات کو جانتے تھے۔اس کے باوجود شاگردوں کی تصویرکشی اس انداز میں کی گئی ہے جس میں وہ یسوع کو کبھی سمجھ نہ سکے ہوں اور اس کے مشن کے ساتھ وفادار نہ رہے ہوں۔
 آخری کھانے کی بابت لوقا کا قصہ اعمال کی کتاب میں یروشلم چرچ کی کوتاہیوں کا واجبی سا تعارف ہے۔یہ انداز متی اور مرقس کی امتیازی خصوصیت ہے لیکن لوقا آخری کھانے کے قصے کو اس لحاظ سے تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ایسا کرنے کے لیے وہ یہودا ہ کے گناہ کے ذریعے یروشلم چرچ کو داغدار کرتا ہے، تاہم وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ پولوسیت میں پطرس کی تعلیم کی کامیابی کے ذریعے یروشلم چرچ اس داغ کو اکھاڑ پھینکے گا۔تاریخی حقائق کے اعتبار سے یروشلم چرچ نے کبھی بھی پولوسی نظریات کو قبول نہیں کیا تھا لیکن اعمال کی کتاب کا سرکاری افسانہ اور بعدازاں پولوسی مسیحیت پولوس اور پطرس کے درمیان ایک مفاہمت تھی، اسی لئے لوقا یسوع سے پطرس کے بارے میں اقرار کرواتا ہے کہ "اور جب تو توبہ کر چکے تو اپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبوط کرنا" (لوقا 22:32)۔یہ پطرس کے انکار کے فوراً بعد کی مدت میں احسان کے بجائے ایک پیشگوئی تھی جسے یروشلم چرچ میں پطرس کے کردار کے ساتھ منسوب کر دیا گیا۔اب ہم اصل غداری کی بابت لوقا کے قصے کی طرف آتے ہیں:
" ابھی وہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ آدمیوں کا ایک ہجوم آ پہنچا اور ان بارہ میں سے ایک جس کا نام یہودا ہ تھا، ان کے آگے آگے تھا. وہ یسوع کو چومنے کے لیے آگے بڑھا لیکن یسوع نے اس سے کہا :یہوداہ کیا تو ایک بوسے سے ابن آدم کو پکڑواتا ہے" (لوقا باب 22 فقرہ 47 تا 48)۔
مرقس اور متی کی طرح لوقا بھی یہوداہ اسکریوتی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ترکیب فراہم نہیں کرتاباوجودیکہ  وہ ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا کہ یہودا دوسرے شاگردوں سے کب الگ ہوا تھا۔سردار کاہن، وکلاء اور بزرگوں کی طرف سے بھیجے جانے کے بجائے (مرقس 14:43، متی 27:47) یہودا ہ کے ساتھ ہجوم میں سردار کاہن، ہیکل کے اعلی افسران، سپاہی اور بزرگ بھی شامل تھے (v. 52)۔ متی اور مرقس میں واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا کہ بوسہ پہلے سے طے شدہ ایک نشانی تھی جس کے ذریعے یہوداہ نے یسوع کی نشاندہی کرنی تھی،لیکن یہ یسوع کے بیان کا مفہوم نظر آتا ہے(جوکہ متی اور مرقس میں نہیں پایاجاتا)۔مرقس کے قصوں کو لوقا نے کسی جگہ مختصراً بیان کیا ہے جبکہ کسی دوسری جگہ تفصیل شامل کرکے درج کیا ہے۔لوقا آخری کھانے کے موقع پر شاگردوں بارے میں حقارت آمیز مواد کا اضافہ کرتا ہے جبکہ گرفتاری کے وقت کے قصے کو مختصر کرتا ہے اور کچھ مزاحمت کرنے کے بعد حواریوں کو فرار ہوتے ہوئے نہیں دکھاتا۔لوقا (خاص طور پر کٹے ہوئے کان کو شفا دیتے ہوئے5:51 ) افسانوی رنگ بھرتا ہے لیکن یہودا کی کہانی میں وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کے قصے میں کی گئی واضح تبدیلی ان حقائق کا اضافہ ہے جن کے مطابق گرفتار کرنے والے لوگوں میں ہیکل کے اعلی حکام اور سپاہی بھی شامل تھے۔یہ حقائق متی اور مرقس کے بجائے کسی دوسرے ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں،اور یہ مصنف کی ذہنی اختراع بھی معلوم نہیں ہوتے کیونکہ اس اختراع کے پیچھے مصنف کا کوئی واضح مقصد نظر نہیں آتا۔اس بات کو تاریخی طور پر سچ تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ ہجوم میں سردار کاہنوں اور بزرگوں کو شامل کرنا انتہائی نامعقول بات ہے کیونکہ اس طرح کی اعلی شخصیات ذاتی طور پر گرفتاریاں نہیں کرتی تھیں۔ہیکل کے سپاہیوں کا یسوع کو گرفتار کرنا (جو قابض رومی حکومت کے ماتحت کام کرتے تھے) تاریخی حقائق کے مطابق ہے جبکہ یہودا ہ سمیت تمام دوسرے اشخاص کو گرفتاری میں حصہ لینے والوں کے طور پر شامل کرنا ایک افسانوی اضافہ ہے۔
لوقا کی انجیل یہوداہ کے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتی،لیکن مصنف اپنے اس سلسلے کواعمال کی کتاب کے پہلے باب میں اپنی بیان کیے گئے افسانے کے ایک حصے میں مکمل کرتا ہے:
"ان ہی دنوں میں پطرس ان بھائیوں کی جماعت میں میں جن کی تعداد ایک سو بیس کے قریب تھی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے بھائیو! پاک کلام کی اس بات کا جو پاک روح نے داؤد کی زبان سے پہلے ہی کہلوا دی تھی ،پورا ہونا ضروری تھا. وہ بات یہوداہ کے بارے میں تھی جس نے یسوع کے پکڑوانے والوں کی رہنمائی کی تھی۔وہ ہمارا ہم خدمت تھا اور ہم لوگوں میں گنا جاتا تھا. اس نے اپنی بدکاری سے کمائی ہوئی رقم سے کھیت خریدا، جہاں وہ سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور ساری انتڑیاں باہر نکل پڑی۔یروشلم کے سارے باشندوں کو یہ بات معلوم ہو گئی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی زبان میں اس کھیت کا نام ہی ہقل دما رکھ دیا جس کا مطلب ہے خون کا کھیت۔کیونکہ زبور کی کتاب میں لکھا ہے : اس کا گھر اجڑ جائے اس میں کوئی بسنے نہ پائے اور اس کا عہدہ کوئی اور حاصل کر لے لہذا یہ ضروری ہے کہ یسوع کے ہمارے ساتھ آنے جانے کے وقت تک یعنی یوحنا کے بپتسمہ سے لے کر اس کے ہمارے پاس سے اوپر اٹھائے جانے تک جو لوگ برابر ہمارے ساتھ رہے ان میں سے ایک شخص چن لیا جائے جو ہمارے ساتھ اس کے جی اٹھنے کا گواہ بنے " (لوقا باب 1 فقرہ 15 تا 22)۔
یہودا کے متعلق جو افسانہ متی بیان کرتا ہے، ان دو افسانوں میں اس قدر تضاد ہونا نہایت عجیب بات ہے۔متی کی انجیل میں یہودا ہ پچھتاتا ہے اور رشوت کی رقم اعلی کاہنوں کو واپس کر دیتا ہے (جو اس رقم سے خون کا کھیت خریدتے ہیں) اور پھر یہودا کسی نامعلوم کھیت میں پھانسی لے لیتا ہے۔متی کے افسانے میں یہ کھیت پردیسیوں کے قبرستان کی زمین ہے جبکہ اعمال کی کتاب میں ایسا نہیں ہے۔متی کی انجیل میں خونی کھیت کا نام یہودا کی بے رحم موت سے اخذ کیا گیا ہے۔ابتدا میں کھیت کو کمہار کا کھیت کہنے کی بابت متی کا بیان لوقا کی انجیل میں کہیں بھی بیان نہیں کیا گیا جس کا عبرانی بائبل کے ساتھ تعلق بالکل مختلف قسم کا ہے۔ان دونوں قصوں میں کھیت کی موجودگی کی صرف ایک بات مشترک ہے جسے خون کا کھیت کہا جاتا ہے، پھر بھی صرف اعمال کی کتاب اس کے آرامی تاثر کو ظاہر کرتی ہے۔
مضبوط مطابقت پیدا کرنے والوں کی قابلیت کو آخری حد تک استعمال کرنے کے باوجود دونوں کہانیوں کے درمیان تضادات اس قدر شدید ہیں۔واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک وضع کی گئی داستان ہے جو دو متضاد سمتوں میں سفر کر رہی ہے۔اس کے باوجود منطقی اور نفسیاتی لحاظ سے دونوں کہانیاں ناقابل مصالحت ہیں اس لیے دونوں کہانیاں ایک سوال "غدار کے ساتھ کیا ہوا؟" کے جواب میں ممکنات کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود یسوع کی قربانی سے نجات کی امید لگانے والے پجاری یہودا کی کہانی میں تحریف کرنے سے خود کو مستثنٰی کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کو یہودا کی شخصیت کے ساتھ تمام ممکنہ گناہوں کو چسپاں کرنے کی ضرورت ہے۔یسوع سے غداری کے نتیجے میں یہودا کی کہانی کے موضوع کو عملی طور پر ترتیب دینے کے لیے ممکنہ نتائج(مرقس اور یوحنا اس معاملے کو نظر انداز کرتے ہیں) درج ذیل ہیں:
1.     یہوداہ  کا گناہ اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ خودکشی کر لیتا ہے۔
2.     بے ندامت یہودا کو سزا اور موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
3.     یہوداہ کو شاگردوں سے خارج دیا جاتا ہے اور وہ قابیل کی طرح اپنی غداری کے گناہ کا بوجھ اٹھائے خانہ بدوشی کا سامنا کرتا ہے۔
عہد نامہ جدید کی کتب متی اور اعمال پہلے دو امکانات پر بحث کرتی ہیں جبکہ تیسری ممکنہ صورت کا جواب یہودی قوم سے متعلق بعد کی مسیحیت میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اسے یسوع کی تصلیب میں مدد کرنے کے باعث اس کی جلا وطنی اور خانہ بدوشی کو سزا کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ یہودا کے مذہب سے ہونے کی وجہ سے یہودی قوم، یہودی آزمائش کی بابت یہودا کا افسانہ گھڑنے کے لیے مسیحی توضیحات میں شامل ہیں۔ایک یہودی کے در بدر پھرنے کی بابت مسیحی لوک داستان اس نظریہ کو بھی ظاہر کرتی ہے جس کے مطابق یہودیوں کا در بدر پھرنا ان کے گناہوں کی سزا ہے۔اس کے باوجود اس کہانی سے اس ممکنہ صورت کا گمان ہوتا ہے کہ آخری وقت میں ایک یہودی تکالیف برداشت کر کے اپنے گناہوں کی تلافی کر کے معافی حاصل کر سکتا ہے۔پہلی ممکنہ صورت متی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو یہودا کی معافی کی امید لیے ہوئے ہے۔اس کی خودکشی مایوسی میں کئے گئے عمل کے بجائے اس کی خود عائد کردہ سزا کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔وہ اپنی رشوت کی رقم سے فائدہ حاصل کرنے سے انکار کردیتا ہے اور وصول کی ہوئی رقم واپس کر دیتا ہے۔یہ بالکل ایسی ہی صورتحال ہے جب وہ شدید غضب کے دورہ کے بعد اپنے حواس میں واپس آتا ہے تو اسے اپنے کیےہوئے عمل کے متعلق کچھ سمجھ نہیں آتی۔لوقا کے برعکس متی یہودا کے چال چلن کی وضاحت کے لیے شیطانی اصلاحات کا واضح تذکرہ نہیں کرتا لیکن اس کی دستاویزات میں یہودا کی داستان سے اسی طرح کی وضاحت ظاہر ہوتی ہے۔
یہودا کی آخری تلافی کا نظریہ غیر اقوام  میں مروج قربانی سے متعلق افسانوں کے مشابہ ہے۔مثال کے طور پر یونانی اور رومی افسانوں میں ہم اکثر مجرم کے ناقابل بیان عمل کی آخری تلافی اور کفارے کی بابت سنتے ہیں۔مسیحی افسانہ نگاری میں یہوداہ کے لوگوں یا یہودیوں کی آخری تلافی اس قدر اہم ہے کہ ان کی تبدیلی کو مسیح کی دوسری آمد کا ناگزیر تعارف سمجھا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ناگزیر قربانی میں غدار نجات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کی آخری تلافی اس کی خدمات کے اعتراف کی ایک صورت مانی جاتی ہے۔اس کے کیے گئے عمل سے ناپسندیدگی اور خوف میں ڈوبے احساسات میں اس کے مقدس شخصیت ہونے کے تاثرات کو دیکھا جاسکتا ہے۔درحقیقت وہ خود ظلم کا شکار ہوا ہے کیونکہ بالضرور قتل کو انجام دینے کے لیے اسے اپنی خوشیوں اور معصومیت کی قربانی دینا پڑی۔اعمال کی کتاب میں بیان کیا گیا یہوداہ کی موت کا قصہ متی کے بیان کیے گئے افسانے سے زیادہ پیچیدہ ہے اور اس قسم کے متضاد بیانات پر تحقیق کرنا نہایت دلچسپ کام ہے۔اس کہانی میں یہودا صرف ایک مجرم نہیں ہے بلکہ وہ خود کو قربانی سے متعلقہ ٹھیک ٹھیک شخصیت ظاہر کرتا ہے۔"خون کے کھیت" میں اس کی موت اور انتڑیوں کا باہر نکل آنا جیسے بیانات قربانی سے متعلق مذہبی رسومات اور اور بت پرستی کے افسانوں میں کچھ خاص شخصیات کی موت کی یاد تازہ کرتے ہیں جو زمین کو اپنے خون سے زرخیز کرتے تھے۔ کھیت میں یہودا کی المناک موت (متی کے افسانے کے غیر تصریح کھیت کے بجائے)  کا انحصار قربانی کی زرعی روایات سے تعلق قائم کرنے والے ان افسانوی پہلوؤں پر ہے جو افسانوی مذاہب کی بنیاد ڈالتے ہیں۔"خون کا کھیت" جہاں یہودا کی موت واقع ہوتی ہے" کھوپڑی کی زمین" جہاں یسوع کی موت واقع ہوتی ہے، کی مضحکہ خیز نقل معلوم ہوتی ہے۔جب کوئی شخص یسوع کی موت سے متصل قربانی سے متعلقہ منظر کشی میں خون کو اہم تصور کرتا ہے تو عشائے ربانی سے یسوع کے خون تک ترسیمیاتی فقرہ" خون کا کھیت" میں ہم آہنگی ضرور سمجھنی چاہیے۔یہ فقرہ احساس جرم اور سزا کے طور پر قربانی کے مقام کو آسانی سے بیان کرسکتا ہے۔
یہودا کی موت بذات خود کم از کم سیاہ مسیح کی موت ہے جس کے جذبات انسان کو اس کے بدترین گناہ سے الگ کرنے کے لیے اس پر غالب آ جاتے ہیں جو وہ ان کی طرف سے انجام دیتا ہے جبکہ متی کے قصے کی نسبت اعمال کے بیان کی گئی کہانی میں افسانوی رنگ زیادہ جھلکتا ہے، مؤخر الذکر میں تمثیلی انداز بھی پایاجاتا ہے۔متی کے بیان کیے گئے قصے میں یہودا پھانسی لے لیتا ہے اور پھندے سے لٹکے ہوئے شخص کی تصویر اتس دیوتا سے یسوع تک قربانی سے متعلقہ بہت سی افسانوی شخصیات کی یاد تازہ کرتی ہے۔اعمال کی کتاب میں یہودا کی موت خدائی مداخلت سے واقع ہوتی ہے (یہ قربانی سے متعلق اس کے افسانے کا عام مرکزی خیال ہے)، جبکہ متی میں یہودا کی موت اس کے اپنے ہاتھوں ہوتی ہے جو کہ بڑے دیوتا (Odin) کی خود عائد کردہ قربانی سے متعلقہ موت کے افسانے کے مشابہ ایک کہانی ہے۔


جب تک ہم تاریخی واقعہ کے طور پر یہودا کی موت کی بابت غلط نظریہ رکھتے ہیں ہم ثبوتوں میں صرف تضادات ہی دیکھ سکتے ہیں۔اگر یہودا کی موت انتڑیاں پھٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی تھی تو یہودا نے یقیناً خود پھانسی نہیں لی تھی اور وہ کھیت میں یا کسی بھی دوسری جگہ نہیں مر سکتا تھا، اسی لیے متی اور اعمال کی کتاب میں بیان کی گئی وجوہات کی بنیاد پر کھیت کو "خون کا کھیت" نہیں کہا جا سکتا ہے۔لیکن جیسے ہی ہم اس واقعے کو تاریخی قرار دینے کے دعوے سے دستبردار ہوتے ہیں اور کہانی کو ایک افسانہ خیال کرتے ہیں تو سارے تضادات غائب ہوکر موضوع کے گھٹتے بڑھتے تغیرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ لیوی اسٹراس نے کلیت سے ایک افسانے کی مختلف صورتیں دکھائی ہیں جہاں ایک جواز فراہم کرنے کے لیے دوسرا ترک کرنا پڑتا ہے۔خودکشی کرنے اور انتڑیاں باہر نکل آنے کی وجہ سے یہودا کی موت، اور دونوں اموات میں خدائی عمل کادخل اور اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی موت ہونا وغیرہ جیسی تبدیلیاں بطور غدار، احساس جرم سے بھرپور، قربانی سے متعلقہ ظلم کا شکار شخص اور سیاہ مسیح کے طور پر اس کے کردار و اعمال میں اضافی تبدیلیاں ہیں۔متی کی انجیل کے مصنف کی طرح اعمال کا مصنف بھی یہودا کی موت کی بابت اپنی تاویلات کو عبرانی بائبل کے ساتھ منسلک کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے وہ مختلف نصوص استعمال کرتا ہے۔مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ صحیفے نے داؤد کے منہ سے یہودا کی سزا کی بابت نبوت کی ہے (v. 20)، وہ زبور کا حوالہ بیان کرتا ہے جو اس کے ذہن میں تھا۔یہ پیشگوئیاں (زبور 69:25 اور 109:8) مشکل ہی قائل کرنے والی ہیں کیونکہ یہ داؤد بادشاہ کے دشمنوں کے خلاف محض عمومی تحریک تھی۔کوئی بھی پیشگوئی یہودا کی طرف کوئی خاص اشارہ نہیں کرتی اور نہ ہی اس کے اپنے دن پر زبور نویس فیصلہ عدالت کے بجائے کسی نبوت کی نشاندہی کرتا ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ متی کا بیان کردہ افسانہ عبرانی بائبل کے کچھ خاص پہلوؤں سے اخذ کیا گیا ہے حالانکہ قدیم فرسودہ نقط نظر کے باعث عبرانی بائبل سے جداگانہ نظر آتا ہے۔اعمال کے متعلق بھی ایسا ہی نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔یہودا کا خون اور کھلے میدان میں کچی زمین پر انتڑیوں کا نکل کر گرنا ہابیل اور قابیل کی کہانی کی یاد تازہ کرتا ہے، کیونکہ ہابیل کا خون بھی کھیت میں گرا تھا (پیدائش 4 :8)۔ خدا نے قابیل سے کہا "تو نے کیا کیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے، اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا جس نے ایسا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے (پیدائش باب 4 فقرہ 10 تا 11)۔عبرانی بائبل کا نظریہ خون، جوزمین کو بنجر کردیتا ہے، انسانی تاریخ میں بہت بعد میں وضع کیا گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے بالکل مخالف نظریہ کار فرما تھا کہ قربانی کا انسانی خون زمین کو ذرخیز کرتا تھا۔زمین کی بابت اپنا منہ کھول کر خون پینے کا نظریہ انتہائی قدیم ہے۔درحقیقت یہ زمین کی دیوی اپنے حق کے طور پر اس سے اپنی بھوک مٹاتی تھی۔عبرانی بائبل میں ملنے والا ہابیل اور قابیل کا قصہ ایک عام قتل کا معاملہ ہے لیکن بہت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ یہ انسانی قربانی کے متعلق وہ تبدیل شدہ قصہ ہے جس میں زمین ملعون نہیں ٹھہرتی بلکہ ہابیل کے خون سے مقدس ٹھہرتی ہے۔

عہد نامہ جدید اکثر انسانی قربانی سے متعلق آثارِ قدیمہ کی باقیات کی یاد دلاتا ہے جو عبرانی بائبل کی شائستہ اور ثقیف کہانیوں کے نیچے آثاریاتی فریب کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں، کیونکہ یسوع کی موت کے ذریعے (اور یہودا کی موت کے ذریعے) نجات کی بابت عہد جدید کی کہانی لاپرواہی کا اعادہ ہے جس میں ماقبل تاریخ واقعات کو دہرایا گیا ہے۔کہانی کی ظاہری بساط پر یہوداہ نجات دہندہ نہیں ہے بلکہ براہ راست مخالف، ایک قاتل اور قربانی دینے والا ہے۔لیکن جیسا کہ ہم قربانی سے متعلقہ افسانوں کے مطالعے میں دیکھتے ہیں کہ مظلوم اور قربانی دینے والے کردار خلط ملط ہو جاتے ہیں۔اکثر قربانی دینے والا مظلوم کا بھائی ہوتا ہے (قابیل، ہابیل. رومولس، ریمس، اوزائرس اور سیت) اور بعض اوقات وہ جڑواں بھائی بھی ہوتا ہے جو شناخت کا تعین کرتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے  خاص طور پر اعمال کی کتاب کی پیچیدہ تاویلات میں یہودا کی موت قربانی کی خصوصیات سے بھرپور ہے اور کسی بھی وجوہات کی بنا پر یہ یسوع کی موت کی ہیبت ناک مضحکہ خیز نقل ہے۔

Saturday, 1 July 2017

یسوع کا معاصر یہودی فرقہ فریسی

زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "The Myth maker Paul & the Invention of Christianity" کے باب نمبر3"The Pharisee" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی نے یسوع کے وقت موجود فریسی جماعت کی ابتداء،ان کے مقاصد، اعتقادات ونظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جس کی مدد سے اناجیل میں پیش کی گئی فریسیوں کی تصویر کا حقیقی رخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔
            یہ ترجمہ میری اور محترمہ صباخان صاحبہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ہم اپنی اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے یہ تو بعدازمطالعہ آنے والی آپ کی قیمتی آرا ء سے ہی علم ہوسکے گا۔آپ کی رائے کا منتظر۔عبداللہ غازیؔ

The Pharisees
اگر ہم اس سوال کا جواب دیں کہ پولس فریسی تھا یا نہیں یا پھر پولس کے دعوے کی حیثیت سمجھنے کے لیے ہمیں فریسیوں کے  متعلق مکمل تفصیل جاننا ضروری ہے کہ وہ کون تھے اور کس مقصد کے لیے سرگرم عمل تھے؟ یہاں ہم فقط فریسیوں کے مخالفت انگیز رویہ پر مبنی انجیلی تصویر پر اکتفا نہیں کریں گے۔ اناجیل فریسیوں کا خاکہ کچھ اس طرح سے پیش کرتی ہیں گویا کہ وہ یسوع کے اولین مخالف، سبت کے دن یسوع کی شفاء یابی کے عمل پر تنقید کرتے اور اس شفاءیابی کی وجہ سے یسوع کے قتل کی سازش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انجیل یسوع کو بھی فریسیوں پر شدیدتنقید کرنے والا اور انہیں ریاکار و ظالم کہنے والے شخص کے طور پر پیش کرتی ہیں،کیونکہ اس انجیلی نقش کالفظ  فریسی، مغربی سوچ کے مطابق ریاکار کے مترادف معنی میں ہیں جس کے ساتھ خودپسندی، حقارت، سخت گیری، آمریت پسندی اور علیحدگی پسند جیسے نقائض منسوب کر دیئے گئے ہیں اور قوم یہود کو عمومی طور پر ایک دقیانوسی کردار سونپ دیا گیا ہے۔
موجودہ سالوں میں بہت سے مسیحی علماء یہ صاف سمجھ چکے ہیں کہ فریسیوں کی یہ انجیلی تصویر حقیقت کے بجائے فقط پروپگنڈا ہے۔فریسیوں کے متعلق مستند معلومات کا ہمارا بنیادی ذریعہ خود انکی ضخیم دستاویزات، دعائیں، مناجات، حکمت کی کتابیں، قانون کی کتابیں، خطبات، بائبل کی تفاسیر، پوشیدہ صحف تاریخی کتب اور اس طرح کی دیگر کتابیں شامل ہیں۔ رسومات پسندی سے دور وہ لوگ تاریخ میں ایک زبردست تخلیقی صلاحیتوں کی حامل جماعت کی حیثیت رکھتے تھے۔بہرحال فریسی مذہبی قوانین کے نفاذ میں سختی اور شدت پسندی سے دور تھے (جیسا کہ پہلی صدی عیسوی کا مؤرخ جوزفیس بیان کرتا ہے اور فریسی کتب کی کثرت سے تصدیق کرتا ہے) اور مروجہ قوانین اور انسانیت کے ساتھ روادار، حالات کی تبدیل ہونے پر بائبل کے قوانین میں اجتہاد کرنے میں لچکدار رویہ رکھنے والے اور اخلاقی تصور کی اصلاح کرنے والوں کی حیثیت سے معروف تھے۔وہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے کیونکہ بائبل کو خداکاالہام سمجھنے کے باوجود وہ بائبل کی تفسیر کے لفظ پرست نظریہ کے تارک تھے۔
مذہبی تعلیم کے لیے ان کے پاس تورات تھی اور وہ مکتوب تورات کی طرح زبانی تورات پر بھی یقین رکھتے تھے جس نے مکتوب تورات کو بنیاد بنا کر اس کی تفسیر، سوالات، توضیحات اس طرح سے کی کہ یہ (زبانی تورات) بھی ایک حقیقت بن گئی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ تحریری احکامات کی طرح زبانی احکامات بھی خدا کی طرف سے موسی علیہ السلام کو دیئےگئے تھے۔ان میں سے بہت کچھ نئے تاریخی حالات کے ردعمل کے وقت کے دوران وقوع پذیر ہوئے، مثال کے طور پر یہ دعوی نہیں کیا گیا کہ کلیسیائی عبادت کی دعائیں جیسا کہ اٹھارہ کلمات برکات، موسی علیہ السلام یا عبرانی بائبل کے کسی نبی نے تشکیل دیئے ہوں۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ یہ دعائیں فریسی بزرگوں نے مرتب کی تھیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ عبادات، تہواروں اور عید روزہ کی جنتریوں (کلینڈر) میں بھی ہروہ کمی بیشی کی جو انہوں   نے مناسب سمجھی۔
اگرچہ فریسیوں نے مذہبی تعلیمات میں ایسے انسانی عنصر کی موجودگی کا اقرار کیا جس کے متعلق خدا کی طرف سے ملہم ہونے کا دعوٰی نہیں کیا گیا تھالیکن وہ اختلاف آراء یا مخالفت کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ فریسی تحاریر اس وجہ سے بھی غیر معمولی ہیں کہ وہ مشنا اور تلمود کے ذخیرہ میں شامل ایک ہی چھت کے نیچے کیے جانے والے ہر شرعی مسئلے پر اختلاف آراء کو محفوظ رکھتی ہیں۔بطور مثال ایک مسئلے کو لیتے ہوئے ہم سنہڈرین کی کتاب کو دیکھتے ہیں کہ وہ معاملات جو ان جرائم سے متعلق ہیں جن کی سزا کوڑوں سے دی جاتی ہے ، اس کا فیصلہ تین افراد کے ایک ٹریبنل سے کیا جاتا ہے۔ربی اشماعیل کی طرف منسوب کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تکمیل ماہ یا سال کے پورا ہونے کو تین افراد کے ٹریبنل کے ذریعے طے کیا جاتا ہے لیکن ربائی سائمن بن گملیل کہتے ہیں : معاملہ تین افراد سے شروع ہوتا ہے ، پانچ افراد کے ذریعے بحث کیا جاتا اور سات افراد کی رائے پر فیصلہ کیا جاتا ہے،لیکن اگر یہ تین افراد کے ذریعے ہی طے ہو جاتا ہے تو بھی یہ فیصلہ درست ہے۔
ان تجاویز و آراء کا تبادلہ خیال کرنے والوں میں جو لوگ شامل تھے وہ یسوع سے تقریباً سو سال بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی تحریک پولس اور یسوع کے معاصرین ان فریسیوں سے ہی چلی آرہی تھی۔ ان افراد میں کچھ تو پشت در پشت اُس گملیل کی اولاد میں سے تھے جس کا ذکرعہد نامہ جدید میں شامل اعمال کی کتاب میں موجوددہے کہ وہ پولس کے زمانہ میں فریسی جماعت کا سربراہ تھا۔
فریسی علماء مذہبی شرعی معاملات کے ساتھ ساتھ علم عقائد میں بھی باہمی مباحثہ کیا کرتے تھے۔ جن معاملات میں فیصلہ کرنے کے لیے ان کے پاس بحث کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا تھا تو ایسے فیصلے اتفاق رائے سے منظور کیے جاتے تھے۔ ایک بار جب کثرت رائے سے فیصلہ کر لیا جاتا تو اختلاف رائے رکھنے والے ربائی اس نتیجے کو تسلیم و قبول کرنے کے لیے بلائے جاتے تھے اور وہ ان فیصلوں کو شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے قبول کرتے تھے۔یہ انہی معنی میں متصور کیا جاتا تھا جنہیں آج جمہوریت پسندی کی معنی میں سمجھا جاتا ہے جہاں ووٹ کے بعد مخالف جماعت بھی فیصلے کو قانون کے طور پر قبول کرتی ہے۔فریسی کثرتِ آراء کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ان میں ایک داستان مشہور تھی کہ ایک مرتبہ خدا نے مداخلت کرکے ایک اکثریتی فیصلہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی (ایک آسمانی آواز کے ذریعے انہیں بتایا کہ اقلیت کا فیصلہ درست ہے) لیکن یہ بتایا جا چکا تھا کہ وہ (خدا) صحیح نہیں تھا اگرچہ وہ خود ہی بزرگوں کو کثرت آراء سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے چکا تھا اور اس نے خود ہی تورات میں فرمایا ہے کہ وہ (شریعت) آسمان پر نہیں ہے (استثناء 31:12) جس سے بزرگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ معجزات و الہامی مداخلت کے بجائے تفہیم انسانی کے عمل کے ذریعے تورات کا نفاذ کرنا تھا۔ یہ داستان جاری رہتی ہے اور خدا اس پر مسکراتا ہے اور کہتا ہے "میرے بچوں نے مجھے مات دی"۔
اگرچہ بزرگوں کی مجلس فیصلے کرتی تھی لیکن ان فیصلوں کو الٰہی اختیارات  پر مبنی سمجھ کر قبول نہ کیا جاتا تھا ۔ اختلاف رکھنے والی اقلیتوں کی رائے کو احتیاط سے قلمبند کیا جاتا اور انہیں مشنا میں محفوظ کیا جاتا تاکہ مستقبل میں یہ نئے فیصلوں کی بنیاد بن سکے۔ (جیسا کہ خود مشنا Eduyot 1:5 میں وضاحت کرتی ہے) جیسا کہ آج کل عدالت عظمی میں اختلاف رائے کے حامل مصنفین کی آراء کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں بنائے جانے والے قوانین کی کوشش میں انہیں استعمال کیا جائے۔
تاہم فریسی الہامی سمجھے جانے والے صحف کی بنیاد پر بننے والے تمام مذاہب کو قطعیت کی حامل کلیسیاء کے ساتھ جوڑنے سے پرہیز کرتے تھے۔ اس کے بجائے انہوں نے اُن شرعی صحف کا تصور قائم کیا جو انسانی توجہ کا مرکز تھے اور مسلسل انسانی توجہ اور فہم و فراست کی روشنی میں ان کی جانچ پڑتال جاری تھی۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کے یہاں یہ تصور موجود تھا کہ خدا چاہتا تھا کہ اس کی مداخلت کے بغیر انسانی استدلات کا عمل جاری رہے خواہ یہ کوشش غلطیوں سے پاک نہ بھی ہو۔ اس لیے فریسی ایک دوسرے سے مخالفت اور تشدد کیے بغیر اختلاف رائے رکھتے تھے کیونکہ یہ خطرے کے بجائے ان کی زندگی کا اہم جز تھا۔تاہم وہ کبھی کبھی ربائیوں کے خلاف تادیبانہ رویہ اختیار کرتے تھے (جیسا کہ ربی العزر) جو کہ ان کے اختلافی مؤقف کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی آراء کی منظوری کو قبول کرتا تھا جو کہ کثرت رائے کے خلاف ہوتی تھی۔
یہ سب صرف مذہبی گفتگو میں ہوا کرتا تھا لیکن پھر بھی ایسے تادیبانہ رویے اختیار کیے جاتے تھے۔علم الہیات کے دائرہ کار میں ایسی تدبیر اختیارنہیں کی جاتی تھی کیونکہ وہاں عملی فیصلے کی ہنگامی ضرورت نہ تھی۔ بزرگ اور ان کے جانشین ربائیوں کی طرف سے بغیر کسی بدعت کا فتوی لگائے وسیع اقسام کے نظریات رواں رکھے گئے تھے۔اگرچہ المسیح پر ایمان کے بارے میں ایمان یا اس کی حکومت کے مسئلے کے متعلق، ایک معزز ربی کے لیے ممکن تھا کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ مستقبل میں کبھی بھی کوئی ذاتی مسیح نہیں ہو سکتا اگرچہ بائبلی مسیح کی پیشگوئیاں حزقیاہ کی ذات میں پوری ہو چکی ہیں۔یہ ایک غیر معمولی بلکہ انوکھی رائے تھی لیکن سوال یہ ہے کہ ربی اس سوال کی وجہ سے ہرگز بدعتی نہیں سمجھا گیا۔ مسیحیت کی ناقابل برداشت گروہ پرستی جیسی بدعتوں سے یہ یہودی انداز بہت مختلف ہے جبکہ مسیحی عدم برداشت نے مسیح سے متعلق اختلافی رائے رکھنے والوں کو سولی پر چڑھا دیا۔
فریسیوں نے متعدد گروہوں کو بدعتی سمجھا کیونکہ ان کی حریف جماعتیں روایات پر مشتمل شریعت (Oral Traditions)کے نظریہ کو قبول نہیں کرتی تھیں۔ فریسیوں کے خیال کے مطابق صدوقی بدعتی تھے جو کہ ایک طاقتور یہودی گروہ تھا اور اناجیل میں بھی بکثرت ان کا ذکر پایا جاتا ہے جہاں انہیں بغیر کسی واضح وجوہات بتائے فریسیوں کے مخالفین کی حیثیت سے متعارف کیا گیا ہے۔یسوع، پولس اور ان کو درپیش حالات کی تفہیم کے لیے فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین تعلق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان،مخالفت کا اہم مسئلہ زبانی شریعت کا جواز تھا۔زبانی شریعت کو رد کرکے صدوقیوں نے شارحین، بزرگوں، ربائیوں کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی جو نئے نظریات و واقعات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے صحف کی تشریح میں مصروف تھے۔اسی طرح فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان فرق کو واضح طور پر مذہبی پیشواؤں کے طور پر لایا گیا اور بعد میں ان کی تعظیم کی گئی۔ صدوقی پیشوا بننے کے لیے کاہنوں اور بالخصوص سردار کاہن میں تبدیل ہو گئے جبکہ فریسیوں کا بہت ہی مختلف شخصیت کے طور پر ظہورہوا جن کے کردار یہودیوں کے زبانی منتقل ہونے والے قانون کے مطابق تھے۔ کہانت کا عہدہ مورثی تھا جو موسیٰ کے بھائی ہارون کی نسل سے چل رہا تھا۔ ہیکل کی خدمت میں ان کے کام مخصوص تھے اور ان کی مدد اس رقم سے ہوتی تھی جو عام آبادی کی آمدنی کے دسویں حصہ کو لے کر جمع کی جاتی تھی، مگر وہ رقم دینا فرض نہیں تھا۔ کاہنوں کو مذہبی پیشواؤں کے طور پر دیکھنے کا مطلب یہ تھا کہ ہیکل مذہبی زندگی کا مرکز ہو۔ اس وقت تین ادارے صدوقی مذہب میں توجہ کا مرکز تھے، بائبل، ہیکل اور کہانت۔
دوسری طرف فریسیوں کے لیے کہانت اور ہیکل ثانوی اہمیت کے حامل تھے۔ وہ کاہن کو پیشوا یا روحانی رہنماء کی حیثیت نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو محض رسوماتی عامل سمجھتے تھے جن کا کام ہیکل کے اندر قربانیوں کا عمل جاری رکھنا اور ہیکل کی عمومی دیکھ بھال کرنا تھا۔ یہاں تک کہ سردار کاہن کو بھی محض ایک عامل سمجھتے تھے جس کے پاس مذہبی امور پر بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ فریسیوں کی ایک کہاوت تھی '' ایک عالم حرامی کو ایک جاہل کاہن پر سبقت حاصل ہے''، اور درحقیقت فریسی ذیادہ تر کاہنوں کو جاہل سمجھتے تھے۔
فریسی رہنمائی کے لیے کاہنوں کے بجائے اپنے رہنماؤں ، ربیوں کی طرف دیکھتے تھے، جو کہ ایک مورثی عہدہ نہ تھا، بلکہ اس میں ہر معاشرتی طبقہ کے لوگ شامل تھے، یہاں تک کہ غریب ترین لوگوں میں سے بھی بڑی تعداد ان کی جماعت کا حصہ تھی۔ ربائی درحقیقت عام رہنماء تھے جنہوں نے اپنے اختیارات ( یہودیت کے) فریسیوں کی تعلیم پر مشتمل وسیع و عریض مواد پر عبور پا لینے کے بعد حاصل کیے۔ اس میں نہ صرف پوری عبرانی بائبل تعلیم کے پہلے قدم کے طور پر شامل تھی ، بلکہ مکمل قانون کی ساخت، تاریخ ، سائنس، اور تبلیغی تفسیر (مدراش) بھی تھے، جن کو فریسی تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا تھا۔ ایک فریسی فقیہ کے لیے بیک وقت ایک ماہر قانون دان اور ایک متاثر کن مبلغ ہونا ضروری تھا۔کیونکہ بائبل میں بھی ان دونوں طرز کی تعلیمات موجود تھیں، مکمل آئینی قانون اور تاریخ کا خاکہ ، یہودیوں کے روحانی مشن کے نظریہ کے ساتھ اور اس کی حیثیت خدا کے انسانیت کے مقاصد کے لیے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ ایک دن ایک فریسی ربی ایک جج کا کردار ادا کر رہا ہو جس نے ایک ایسے مشکل کیس کا فیصلہ کرنا ہو جس میں ہرجانے کے قوانین مداخل ہوں، اور دوسرے دن وہ سینیگاگ میں خدا سے استغفار کرنے والے گنہگار بندوں سے محبت کا پرچار ،ان مختلف مثالوں کو بیان کرتے ہوئے کر رہا ہو جو نہ صرف بائیبل سے اخذ کی گئی ہوں بلکہ اس کے اپنے تصورات سے بنائی گئی سادہ تمثلات بھی ہوں یا پھر فریسی تبلیغی مواد سے لی گئی ہوں۔ تاریخ کے اس مقام تک فریسی ربی ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے ایک پیشہ ور طبقہ نہیں بنے تھے ، عمومی طریقہ یہ تھا کہ ہر فریسی عالم کا اپنا پیشہ ہوتا تھا جس سے وہ اپنی گزر اوقات کرتا تھا۔ان کے پیشوں میں سے کچھ اپنی حیثیت میں ادنیٰ تھے۔ وہ معاشرے کو بغیر کسی معاوضے کے اپنی خدمات دیتے تھے یا زیادہ سے زیادہ ان اوقات کا معاوضہ لیتے تھےجو ان کے اپنے کمانے کے اوقات میں سے چھوٹ جاتے۔
کاہنوں سے فریسی ربیوں کی طرف اختیار منتقل ہونے کے نتیجے میں ہیکل کی حیثیت بھی ان کی نظر میں اس سے مختلف ہو گئی جو صدوقیوں کی مقبوضہ تھی۔(ان کے نزدیک) ہیکل تعلیم کی جگہ نہ تھی بلکہ صرف مذہبی رسومات کی ادائیگی اور قربانی کی جگہ تھی، اور جب تک فریسیوں نے جانوروں اور سبزیوں کی قربانی کی اہمیت کو تسلیم نہ کیا تھا ( جبکہ بائبل نے انہیں قائم کیا تھا ) وہ ان رسومات کو اپنی مذہبی زندگی کا مرکز نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ لوگ آپس میں اچھے طریقے سے مل جل کر رہنے کا علم حاصل کریں اور اس بات پر کہ محبت اور عدل کے اصولوں پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ جس ادارے میں اس فرقہ کی تعلیم کا عمل ہوتا تھا وہ عبادت گاہ ہیکل نہیں بلکہ سینیگاگ تھا ۔فریسی خود مختیار گروہ یعنی مقامی مذہبی برادری کو فروغ دینے کے بانی تھے۔
مذہب کی مرکزیت کا خاتمہ اور اس کا کئی مقامی مراکز میں تقسیم ہونا ہی فریسیت کی روایتی شکل تھی اور ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ یروشلم میں لوگ کہانت کو مقامی فریسی علماء کے مقابلے میں بے واسطہ اور غیر حقیقی سمجھنے لگے تھے، جن(فریسی علماء) کے پاس وہ اپنے مسائل لے کر آ سکتے تھے اور جو سینیگاگ میں ان کو باقائدہ ہدایات دیا کرتے تھے۔ ایسا فریسی عالم ان کی اپنی صفوں میں سے ہوتا تھا، جو ان پر کسی قسم کی شاہانہ فضیلت کا دعویٰ دار نہیں تھا، اور نہ ہی کسی جادوئی یا بعید از فہم اختیارات کا دعویٰ کرتا تھا بلکہ ان کو محض وسیع حدود میں علم حاصل کرنے پر زور دیتا تھا اس لیے کہ حصولِ علم کو ہر یہودی کی ذمہ داری اور ہر نیک اور مفید زندگی کی اساس سمجھا گیا تھا ۔ اس طرح فریسی نہ صرف خود مختیار جماعت کے بانی تھے بلکہ وہ تعلیم کے عالمگیر ہونے کے خیال اور عمل کے بھی بانی تھے۔ اگرچہ یہاں بھی وہ اس بات کے دعویٰ دار تھے کہ وہ صرف بائیبل کے احکام کو پورا کر رہے ہیں جو کئی جگہوں پر علم کی فرضیت پر زور دیتی ہے۔
کہانت کے ساتھ اختیارات کے اس معرکہ کے دوران فریسوں نے کبھی خود کو نئی بدعات ایجادکرنے والا یا انقلابی نہیں گردانا، بلکہ خالص یہودیت کو قائم کرنے والا ہی کہا۔بائبل کے مطابق سب سے بڑی تدریس کی ذمہ داری کاہنوں کے بجائے انبیاء کو دی گئی تھی جو موروثیت کے دعویٰ دار نہیں تھے اور کسی بھی معاشرتی طبقہ میں سے ہو سکتے تھے۔اسرائیلی مذہب کے بانی موسیٰ نے خود کو سردار کاہن نہیں بنایا تھا بلکہ اپنا منصب اپنے بھائی کو دیا جو کہ ایک فرضی رشتہ تھا ۔ اسی لیے ربائی اپنے آپ کو انبیاء کا مورث سمجھتے تھے، خاص طور پر موسیٰ کا، اور اسی طرح تعلیم و تعلم کی ذمہ داری کا مورث بھی سمجھتے تھے جس کو ہمیشہ سے عملی اور مذہبی یہودیت میں کاہنوں کے منصب سے بہت احتیاط سے ممیز رکھا گیا تھا۔ تاہم ربائی اپنے لیے نبوت کے دعویٰ دار بھی نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبوت بائبل کے آخری علماء کے ساتھ ختم ہو گئی ہے، اور اب صرف دورِ مسیاح میں ہی دوبارہ شروع ہوگی۔ان کے خیال کے مطابق ان کا کام اجتماعی کوشش کے ساتھ جدید سائنسی طریقہِ کار کی طرح بائبل کے الہامی الفاظ کی توضیح کرنا تھا، جس میں ہر ربائی اپنے زخیرہِ خیالات اور توضیحات کو باقی سب کے پاس پیش کرتا۔ نتیجتاْ انہوں نے منطقی تجزیہ اور مناظرہ کو مطابقت کے ذریعہ پروان چڑھایا۔ جس نے تالمود کی صورت میں انسانی عقل و دانش کی ایک عظیم کامیابی کو ظاہر کیا، جس میں انتہائی دانشمندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اخلاقیات ، کاروباری اخلاقیات ، اور قانونی انتظامیہ پر ایسے طریقوں سے بحث کی گئی جو اس دور کے لحاظ سے کہیں ترقی یافتہ تھے۔
دوسری طرف صدوقی یہ سمجھتے تھے کہ وہ نت نئی بدعتوں کے خلاف پرانے نظام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک بائبل ، کہانت اور ہیکل قابلِ تعظیم تھے۔ان کے نزدیک بائبل کو توضیح کے لیے کسی قسم کے پیچیدہ مواد کی ضرورت نہ تھی، کہانت کو اس کے تکملہ کے طور پر بلاوجہ دخل انداز ہونے والے عام علماء کے ضرورت نہ تھی، اور ہیکل میں ہر طرح کا کفارہ دیا جا سکتا تھا ، بغیر اس کے کہ سینیگاگ کو عبادت ، تعلیم یا تبلیغ کے لیے بلاوجہ اہمیت کا حامل بنایا جائے۔بہت سے جدید محقق صدوقیوں کو قدیم یہودیت کے نمائندوں کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اس تصور میں سنگین نقائص ہیں۔صدوقی پرانے نظام کو تو بچا رہے تھے لیکن یہ قدیم نظام بھی قدرے نئے زمانے کا تھا، جو تیسری صدی قبلِ مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ جب یہود پر مصر کے یونانی بطلموسیوں کی حکومت تھی۔ اس دورِ حکومت میں اس خطہ کے اندر کہانت کو یونانی فرماں روا اور اس کے جانشینوں کے ذریعہ مرکزی درجہ اور طاقت ملی، سکندر ِ اعظم کی طاقت سے(to the power of Alexander the great) اس دور میں کہانت کو غیر ملکیوں کے حکومت کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ اس طرز کا کردار تھا جو رومیوں کے دور میں حکومت کو قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا. غیر ملکی حکومت ( جو کہ اس وقت مصر کے بطلموسی یونانیوں سے شام کے سلوقی یونانیوں سے بدل چکی تھی) کے خلاف یہود کے دور ِ بغاوت میں (160 قبل مسیح)جب فریسی ایک امتیازی تحریک کے طور پر ظاہر ہوئے تو ان کا مقابلہ کاہنوں سے نہ صرف مذہبی وجوہات کی بناپربلکہ سیاسی وجاہات کی وجہ سے بھی ہوا۔ وہ یہودیوں کو کاہنوں کے چنگل سے آزاد کرنا چاہتے تھے ، نہ صرف اس لیے کہ ان کو پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق عام علماء کی طرف لوٹایا جائے بلکہ اس لیے بھی کہ کہانت کو اس کے حقیقی ، بائبل والے کردار تک محدود کیا جائے ، یعنی وہ سیاسی طاقت کے مرکز کے بجائے صرف رسومات ادا کرنے والی جماعت ہوں۔
فریسیوں اور کاہنوں کی یہ سیاسی کشمکش یہود کے غیر ملکی یونانیوں سے آزادی کے بعد بھی جاری رہی جو کہ پھر بعد میں اپنے ساتھی یہودیوں پر سلطنت اور اعلی کہانت کے ہمراہ برسرِ اقتدار ہوئے اور بادشاہت کو کہانت کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا تاکہ سردار کاہن کے  سیاسی اختیارات میں مزیداضافہ ہوتا رہے۔اگرچہ فریسیوں نے آئینی ترقی کی سخت مخالفت کی جس کے نتیجے میں حشمونی بادشاہوں کی طرف سے سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ لوگ جو فریسیوں کا ناکافی اور متعصب تصور پیش کرتے ہیں ان کے پاس فریسیوں کا بطور "طاقت مخالف" کے کوئی حوالہ نہیں پایا جاتا۔ ظالم کی بجائے وہ تو مخالف جماعت کی صورت میں تھے۔ سیاسی پہلو سے فریسیوں کی ایک بہتر تصویر جوزیفس سے حاصل کی جاسکتی ہے جس نے درحقیقت اس تصور کی مخالفت کی ہے کہ فریسی سیاسی اختیارات کے حاملین کے لیے فسادی اور پریشانی کا باعث تھے۔ 
یہ واضح رہے کہ صدوقیوں کے مذہبی مقام کی وجہ سے کاہنوں کو اونچے اختیارات کا مرتبہ حاصل ہوا، پھر بھی یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ کہانت کا نظام مکمل طور پر صدوقیوں کے نظریات کا حامی رہا۔ زیادہ تر عوامی طبقے کے کاہن فریسیوں کے حامی تھے اس لیے وہ مذہبی اور سیاسی طور پر بد چلن "سردار کاہن " کے مخالف تھے۔ یہودی عوام کی طرح عام کاہنوں نے بھی فریسیوں کو بطور راہنما، بزرگ اور روحانی پیشوا کے قبول کیا اور محض اس وجہ سے کہ ان کا تعلق ہارونی شریعت سے تھا،اور انہوں نے خود کو بطورِ حریف پیش نہیں کیا۔ انہیں قبول تھا کہ مذہبی استاد کے بجائے بطور کاہن وہ ہیکل کے مالک تھے. ان میں سے کچھ تو باقاعدہ فریسیوں کی درسگاہوں کا حصہ بنے۔ کیونکہ وہاں کسی پر بھی عالم بننے پر پابندی نہیں تھی یہاں تک کہ کاہنوں پر بھی نہیں۔
کاہنوں میں کچھ خاندان امیر اور سیاسی طور پر بااثر اور حکومت کی طاقت رکھنے والے بھی تھے جو کہ صدوقی تھے۔ صدوقی جماعت یہودیوں کے درمیان ایک اقلیت تھی جو کہ امیروں، زمینداروں اور کاہنوں پر مشتمل تھی۔ ان جیسے لوگ در اصل ابن الوقت تھے اور جس کے پاس طاقت اور اقتدار ہو ان کے ساتھ اتحاد میں آجاتے تھے۔ چاہے وہ بطلیموسی یونانی ہوں، سلوکسی یونانی ہوں، حشمونی، ہیرودیسی ہوں یا رومی۔ اس لیے صدوقیوں کو عام بد امنی اور اضطرابی کیفیات سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہیکل جو کہ یہودیت کا خاص مرکز تھا کسی بھی حکومت کے قبضے میں آسکتا تھا اور اس پران کے شرکاء کی حکمرانی ہو سکتی تھی۔ لیکن یہودیوں کے حقیقی مراکز جو کہ سینیگاگ تھے وہ فریسیوں کے زیر اہتمام تھے۔ وہ ایسے غیر نمایاں اوربظاہر ناقابلِ ذکر تھے کہ ان کی جانب کسی کو قبضے کا خیال نہیں تھا۔ اگر چہ رومی اقتدار کے علم میں تھا کہ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے یہودیوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ پولس اور یسوع کے دور میں رومیوں کی حکمرانی تھی جنہوں نے سردار کاہن کا تقرر کیا، جیسا کہ رومیوں سے پہلے ہیرودیوں نے بھی کیا تھا۔ رومیوں نے سوچا تھا کہ اپنے آدمیوں کو سردار کاہن کے منصب پر فائز کرکے یہودی مذہب پر انکی حکومت قائم ہوگئی، جبکہ انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ یہودی مذہب میں ظاہری طور پر روحانی پیشوا سردار کاہن کی کوئی وقعت نہیں تھی اور وہ ذاتی طور پر یہودیوں کی اکثریت کے نزدیک بہت ناپسندیدہ شخصیت تو تھی ہی، ساتھ ہی خواص کے نزدیک بھی سردار کاہن مذہبیات میں کوئی اختیار نہ رکھتا تھا۔
یہودی معاشرے میں سرکارکاہن کے مشکوک کرداراورمقام کو سمجھے بغیریسوع اور پولس کے دورکےواقعات کو سمجھنا ناممکن ہے۔ایک طرف وہ ہیکل کی عظیم رسومات کی قیادت کرنے والی ایک عمدہ اور شاندار شخصیت کے طور پرآتا ہے تودوسری طرف وہ ایسا شخص ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔انجیل کا عام قاری اس سے یہی تاثر لیتا ہے کہ یہودیت میں کاہن اعظم کاوہی مقام ہے جو کیتھولک چرچ میں پوپ یا انگلینڈ کے چرچ آف کانٹبری میں آرچ بشپ کا ہے۔یہ غلطی اس حقیقت سےنمایاں ہوتی ہے کہ مسیحیت میں رسومات کی ادائیگی  کاقانون ہمیشہ سے ہی تعلیم دینے کے قانون سے جڑا رہاہے،مسیحی پادری عبادات ادا کرتے اور لوگوں کو خطبوں اور درس کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں۔اس لیے مسیحی اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہودیت میں یہ دونوں کردارہمیشہ جدارہے ہیں۔ قربانیاں اداکرنے والا شخص مذہبی اعتقادات و احکام شرائع کو بیان نہیں کرتا ہے اور نہ ہی برانگیختہ کرنے والے مقرر یانبی کا کرداراداکرسکتاہے۔ان کرداروں کی لانظیر تقسیم نے یہودی مذہب کی بقا کوبےشمار فائدے دیئے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مخصوص مذہبی مراکز کی خرابی وتباہی نے اس کے تسلسل پر بہت کم اثر ڈالاہے۔کہانت اکثرمایوس کن حدتک خرابی کا شکارہوئی لیکن جب تک فریسیت جیسی تحاریک کاوجود رہا مذہب پر ان خرافات کا زیادہ اثر نہ پڑا۔حتی کہ ہیکل کی تباہی(جسے غیریہودی افراد نے انہدام یہودیت سے تعبیر کیا)سےبھی ایسے نتائج نہ نکلے کیونکہ بقاء مذہب کا انحصار ہیکل کی موجودگی اوررسومات کی ادائیگی پر موقوف نہ تھا۔
یسوع اور پولس کے زمانے میں کہانت عظمی کی بددیانتی  کی تصدیق بحیرہ مردار سے ملنے والے صحیفوں کے گروہ اور اسینیوں سے بھی ہوتی ہے۔تاہم یہ فرقہ ہیکل اور منصب کہانت میں ہونے والی خیانت کے متعلق اپنے ردعمل میں فریسیوں سے بہت مختلف تھا۔فریسی کاہنوں کےساتھ تعاون کے قائل تھے کیونکہ وہ انہیں اس قدر اہم خیال نہیں کرتے تھے۔ان کے نزدیک کہانت چونکہ روحانی طاقت کی علامت کے بجائے محض رسومات کی ادائیگی کرنے کا عہدہ تھا اس  لیے جب تک وہ اپنی کم قابلیت کے ساتھ رسومات اداکرنے کا فریضہ سرانجام دیتا رہتاان کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھاکہ وہ شخصیت کے لحاظ سے کتناناقص ہے۔شریعت کو نظرانداز کردینے کے ساتھ ساتھ ہیکل کی خدمات کی ادائیگی میں صدوقی عملیات کو متعارف کروانےکی کوشش کے معاملے میں بھی فریسیوں کو تحفظات لاحق تھے جس کی وجہ سے وہ سردارکاہن کے فرائض کی تکمیل کاجائزہ لیتے تھے۔ایک بار یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جاتیں تو وہ مطمئن ہوجاتے تھے تاکہ ہیل کی خدمات سرانجام دینے والوں کی علمی وخلاقی  کمی کوتاہی کے باوجودہیکل کی خدمات درست رہیں۔
بحیرہ مردارکے صحائف کاہنوں کے معاملے کو اس سے کئی گنازیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ منصب کہانت مایوس کن حد تک بدعنوان ہوچکاہے لہٰذا انہوں  نے خود کومکمل طور پر یہودی معاشرے سے نکال لیا اور ایک الگ سے راہبانہ جماعت تشکیل دی جس کی امیدوں اور دعاؤں کا محور وہ ایام تھے جب اصل ہیکل کی خدمات بحال ہوجائیں گی۔فریسیوں کی نسبت بحیرہ مردار کے صحائف ہیکل اور کاہنوں کے کردار کا صحیح جائزہ پیش کرتے ہیں ۔جدید علماء کے مطابق وہ صدوقیوں کا ایک علیحدگی پسند گروہ تھا جنہوں نے خود کو "راستی کے فرزند"کے نام سے موسوم کرلیاتھا۔انہوں نے سیاست اور خرافات کے جڑپکڑنے سے قبل کے خالصتاًصدوقی نظریات کو متعارف کروایا جوکہ بائبل،ہیکل اور کہانت کی مرکزی اہمیت پر مشتمل اور فریسی تحریک کامخالف تھے۔
جب ہم عہدجدیدکے واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں جہاں سردارکاہن کی شخصیت یسوع اور نہ ہی پولس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے،ہمیں سردارکاہن کے کردار کے متعلق تصورات سےخودکوآزاد اورتاریخی حقائق کی روشنی میں ان معاملات کوسمجھنا پڑتا ہے۔فریسی تحریک اور اس وقت کے سردارکاہنوں کے درمیان شدید مخاصمت کوذہن میں لاکر عہدجدید پر گہری روشنی ڈالی جاسکتی ہے کہ وہ (کاہن)صرف صدوقی ہی نہیں تھے   بلکہ رومیوں کی طرف سے مقرر کردہ ایجنٹ تھے اور رومی قوت کے ساتھ دشمن کی جاسوسی پر مامور تھے۔

Monday, 26 June 2017

اناجیل بطورمستندماخذ (The Gospels as sources)

ڈاکٹرہیوجےشون فیلڈ ایک معروف برطانوی ببلیکل یہودی اسکالر رہے ہیں۔ انہوں نے مقدس صحیوسں کے موضوع پرگلاسکویونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یوررپی علمی حلقوں میں ا ن کی آراء کو عہدجدید و ابتدائی کلیسیاء اورمسیحیت کے ارتقاء جیسے موضوعات پر ہائی اتھارٹی سمجھاجاتا ہے۔ ۔مذہب وتاریخ پر چالیس سے زائدد معرکۃ الآراء کتب لکھ چکے ہیں۔ان کے قلم سے کیے گئے عہدجدید کے ترجمہ کوامریکہ ویورپ میں درجہ استنادحاصل ہے۔ان کی کتاب Passover Plot(عیدفصح کا منصوبہ)کوکم وقت میں بہت زیادہ پزیرائی ملی اور قلیل عرصہ میں اس کے چالیس سے زائدایڈیشن شائع ہوئے۔زیرنظرتحریر بھی ڈاکٹرہیوجےشون فیلڈ کی ایک نہایت گراں قدر کتاب Jeus, Man, Mystic, Messiahکے ایک باب The Gospels as resources کا ترجمہ ہے۔یہ کتاب ڈاکٹرصاحب کی چھیاسویں سالگرہ پر شائع ہوئی اور اسے ڈاکٹرہیوجےشون فیلڈنے اپنی پوری زندگی کے مطالعے کا نچوڑ قرار دیا ہے۔میں اپنی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنے والدین کی طرف انتساب کرتی ہوں جن کی شفقت ومحبت اور دعاؤں کے باعث میں نے علم حاصل کیا اور یہ ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے سوشل میڈیاپیج وگروپ مسلم مسیحی مکالمہ آفیشل کی پوری ٹیم کی بھی شکرگزار اورممنون ہوں جن سے مجھےبہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
والسلام 
 صباخان
اناجیل متوافقہ سے ظاہر ہونے والی یسوع کی شخصیت ایسی نہیں ہے کہ اسے صراحتاً بردباراورحلیم شخص کے طورپرقبول
 کیاجاسکے۔جونہ ہی بیابانی تھا اور نہ ہی وہ چوتھی انجیل کاجداگانہ (مشرک)مسیح تھا جواپنی شناخت چھپانے کے بجائے خود کو آسانی سے خداکابیٹااورمقررکے طور پر پیش کرتا ہےجواسے اس کے لوگوں اور مذہب سے بیگانہ کرتی ہے۔انجیل یوحنا خالص یونانی فلسفے کا حصہ ہونے کے باوجود یسوع کی سوانح عمری کے متعلق اقدار پر اچھی معلومات فراہم کرتی ہے۔اس انجیل میں کچھ ایسے لازمی عناصر بھی ہیں جو ٹھوس دلائل پرمبنی ہونےکے ساتھ ساتھ مصنف کی ذاتی معلومات اوراندرونی حقائق کا علم رکھنے کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔اسی وجہ سے بعض علماء نے اس انجیل کو قانونی اناجیل کی ابتدائی انجیل سمجھنا شروع کردیا۔ہمیں ان وقائع اور اناجیل متوافقہ کے مستند ہونےکی اہمیت جاننے کے لیے انکے آغاز کے متعلق تفتیش کرنا پڑے گی۔
 اناجیل کی استنادی حیثیت کو بطور ذریعہ معلومات سمجھنے سے قبل یسوع کے افعال کو سمجھنا ایسا ہی ہے جیساکہ بیل گاڑی میں گھوڑےکو جوتنا۔لیکن میں یہ بیان کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں کہ اناجیل مذہبی رہنمائی اور روحانی اکتساب کے لیے پڑھنے والےقارئین کو نادانستہ اور اتفاقی طور پر یسوع کے متعلق اس سے کہیں گنازیادہ بیان کرتی ہیں ۔
 لوقاکےممکنہ استثناء کے ساتھ،اناجیل بطورتاریخی سوانح حیات نہیں متصور کی گئیں حالانکہ وہ یسوع کی کہانی کو بالکل اسی طرح بیان کرتی ہیں جواس دور کے معاصرین عظیم مؤرخین کی زندگیوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔تاہم اناجیل اس انجیل کی منادی کو پیش کرتی ہیں کہ یہودکےموعودمسیح نے خودکوظاہرکردیا ہے۔اتفاقی طور پر وہ معاملے کا حوالہ دے سکتے تھے مگر نہ ہی انہوں نے ایسا کیا اور نہ ہی اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ان معاملات کا وقوع ہوا مگر وہ نجات کے کسی پیغام کی خصوصیت کے حامل نہیں تھے۔کچھ مثالیں موجود ہیں کہ جب یسوع کو گلیلیوں کے بارے میں خبردی گئی کہ ان کا خون پیلاطوس نے اپنی قربانیوں کے ساتھ ملا لیاتھا(لوقا13:1)
 یہ ایک زبردست تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ ہے جسے یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یسوع کے مقدمہ میں اس کی مبہم مشابہت ظاہر ہوتی ہے جہاں لوقا کے مطابق گلیلی حکمران ہیرودیس اینٹی پاس اوراسی طرح پیلاطوس ملوث کیے گئے ہیں۔ہم پڑھتے ہیں کہ "اوراسی دن ہیروددیس اور پیلاطس آپس میں دوست ہوگئے کیونکہ پہلے ان میں دشمنی تھی"۔(لوقا23:12)یہ دشمنی کیوں تھی؟ کیا یہ گلیلیو ں کے قتل عام کی وجہ سے تھی جو ہیرودیس کی رعیت میں تھے جن کا پہلے حوالہ دیاجاچکاہے۔ اس حوالے کے ساتھ یسوع یروشلم میں اٹھارہ افراد کی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر سلوم کا برج گرا اور وہ دب کر مرے گئے۔ کب اور کن حالات میں ایسا ہوا تھا ؟ مرقس کی انجیل سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یسوع کے مقدمے کے وقت برابا نام کا ایک شخص جس نے بغاوت کی تھی اور بغاوت کے دوران خون کیا تھااس کو بھی اس کے ساتھ باندھا گیا تھا(مرقس 15:7)یہ کون سی بغاوت تھی؟ یہ قصہ بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن اسے واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔
 اسی سے متعلقہ مقام پر دوسرے نامعلوم افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں لوقا کچھ خاص عورتوں کا ذکر کرتا ہے جن کو یسوع نے شفا دی تھی۔ ان میں سے ایک ہیرودیس کے دیوان خوزہ کی بیوی یوانہ تھی جبکہ دوسری سوسناہ تھی. یہ کون تھی؟ (لوقا 8:3). کُرین کا سائمن صلیب اٹھا کر لایا جس پر یسوع کو مصلوب کیا جانا تھا (15:21)۔لیکن مرقس اس کو خاص طور سے سکندر اور روفس کے باپ کے طور پر بیان کرتاہے۔ کیا ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ سوسناہ،سکندر اور روفس مسیحی معاشرے کے رکن بن گئے تھے؟وگرنہ ان دستاویزات میں ان لوگوں کا ذکر کیوں کیا گیا ہے جو فلسطین سے باہر کے لوگوں کے پڑھنے کے لیے لکھی گئی ہیں جبکہ ان لوگوں کے لیے یہ نام کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔اس طرح کے مروی حوالہ جات مصنفین اناجیل کےابتدائی ماخذات پر آزادانہ استعمال کو ظاہر کرتے ہیں جس کی طرف وہ ایسی سچائی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جوقابل غور ہے۔
 مسیحی اناجیل کو مکمل قابل اعتماد اور خدا کا حقیقی کلام سمجھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ تضادات اور غیر مطابقت بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتی لہٰذا وہ ان حالات میں بھی یسوع کے منہ میں ڈالی گئی بہت سی باتیں سچ کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں جن حالات میں کوئی تاریخی شہادتیں قلم بند نہیں کی جا سکتی تھیں یاپھروہ باتیں جن کو لمبے عرصے بعد مکمل طور پر یادداشت سے اکٹھا کیا گیا ہو حالانکہ طویل گفتگو کو فی الواقع تحریر میں لاناغیر ممکنات میں سےہوتا ہے۔ اگر ہم حقائق تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان دستاویزات کو ان کے ادوار کے لحاظ سے سمجھنا چاہیے جہاں مصنف کی مرتب کردہ تقاریرمعروف شخصیات کے لیے پیش کرنے کے واسطے اخذ کی گئیں تھیں۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ بعض اوقات مصنف کا مقصد فرقہ بندی یا خود رائے بھی ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر خاص احساسات کو پکارنا اور ان کے تمثیلی اثر کو بڑھانا مقصود تھا۔
جوزیفس کے بیان کے مطابق 700 عیسوی میں یروشلم کی تباہی کے بعد مسادہ قلعے میں زائیلوٹ یہودیوں کی آخری دفاعی کوشش کے قصے کو ہم علامتی مثال کے طور پر لے سکتے ہیں۔ قلعے پر رومیوں کے قبضے سے قبل آنے والی رات میں یہودی سپہ سالار الیزر نے بچ جانے والے لوگوں کو مخاطب کیا اور انہیں دشمن کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بجائے خودکشی کرنے کی صلاح دی۔ اس سراسر غیرمعمولی تقریر کو جوزفس نے مکمل طور پر بیان کیا ہے جو بلاشبہ وہاں اس طرح موجودنہیں تھا کہ سپہ سالار کے خیالات اور احساسات کو بیان کر سکتا۔ جوزیس ن اس بات کو بیان نہیں کرتا کہ کس طرح الیزر کی نصیحت کو قبول کیا گیا اور اپنے خاندانوں کو قتل کرنے کے بعد قلعے کی تمام فوج نے کس طرح ایک دوسرے کو قتل کر ڈالابالآخر آخری زندہ بچ جانے والے شخص نے خود کو مار ڈالا۔ صرف ایک بوڑھی عورت اور پانچ چھوٹے بچے زندہ رہ گئے کیونکہ انہوں نے خود کو چھپا لیا تھا۔ پس الیزر کی تقریر کی اصل عبارت کو کس نے محفوظ کیا اور بعد میں کس نے جوزیفس تک پہنچایا؟
 اسی طرح اناجیل میں یسوع کو گتسمنی کے باغ میں دعا کرتے ہوئے ہمیں دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک نہایت دلگداز کہانی ہے جس میں لوقا کے مطابق فرشتہ ظاہر ہو کر تقویت دیتا ہے۔ روایت سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی شخص یسوع کی دعا کے الفاظ نہیں سن سکتا تھا۔ وہ اپنے شاگردوں سے الگ ہو کر کچھ فاصلے پر چلا گیا تھااوروہ سب سوچکے تھے۔ ہمیں اس مشکل داستان کی بابت پریشان نہیں ہونا چاہیے لیکن سوچے سمجھے بغیر ٹھیک ٹھیک الفاظ یسوع کے منہ میں ڈال دینے پرانجیل نویس کو داد دینی چاہیے۔
عید فصح کے آخری کھانے کے موقع پر ایک نشست میں کم از کم چار گلاس مے پینا دستور کے مطابق تھا، مزید برآں ہم شاگردوں کو تھکن اور غم کے ساتھ سوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ اس کے باوجود یوحنا کی انجیل عبادت اور کھانے کے آخر پر شاگردوں سےکی گئی یسوع کی طویل تقریر قبول کرنے کی ہمیں دعوت دیتی ہے(جو کہ بائبل کے دو مکمل ابواب کا احاطہ کرتی ہے)۔ اس پوری تقریر کے دوران شاگردوں کے اونگھنے اور سننے میں سستی کویوحنا کی انجیل (14:15) میں عجیب طریقے سے بیان کیاگیا ہےکہ نصف صدی کے بعدتک اسے نہ صرف یاد رکھا گیا بلکہ ایک کتاب میں حرف بہ حرف محفوظ کرکے پیش بھی کردیا گیا۔
 جب ہم یسوع سے منسوب اس تقریر اور اس انجیل میں موجود دوسری تقاریر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تقاریر دوسری اناجیل میں یسوع کا خود کو ظاہر کرنے کے طریقے سے کس قدر غیر مشابہہ ہے۔یہ بولنے والا اس شخص کی طرح نہیں ہے جو خطاب کررہاہے اور نہ ہی یہ یہودی ہے۔ یہودی سامعین سے خطاب کرتے ہوئے وہ "ہمارے باپ دادا" کے بجائے "تمہارے باپ دادا" (6:49) کے الفاظ بولتا ہے اور "اپنی شریعت"کے بجائے "تمہاری شریعت"کے الفاظ ادا کرتا ہے(8:17)۔وہ اکثر اجنبی مذاہب کی زبان استعمال کرتا ہے مثال کے طور پر ایک پیرا جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے "میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم ابن آدم کا گوشت نہ کھاؤ اور اس کا خون نہ پیو تم میں زندگی نہیں" (6:53). یہ فطری بات ہے کہ اگر اس کے شاگردوں نے اس طرح کی باتیں سنی تب اس کے بہت سے شاگرد اسے چھوڑ کر چلے گئے اور پھر اس کے پیرو نہ رہے (6:66)
 اگر ہم یونانی کامطالعہ کریں تو کھوج لگا سکتے ہیں کہ انجیل یوحنا میں یسوع جس انداز سے وعظ کرتا ہے اور اپنے قیاس آرائیوں کا اظہار کرتا ہے وہ یوحنا کے خط کے مصنف کی امتیازی خصوصیت ہے، جو خود کو رسول کے طور پر بیان کرنے کے بجائے بزرگ یا کلیسیائی رکن کہتا ہے۔ مجھے اس معمہ کو یونانی عہد نامہ جدید کے تیار کیے گئے ترجمہ پر تحقیق سے بے نقاب کرنا ہے۔
جیسا کہ میرے بہت سے پڑھنے والے جان سکتے ہیں کہ مجھے چرچ کے نظریات سے متاثر بہت سے ایسےنسخوں کی باقیات ملی ہیں جو بعد میں مسیحی مذہب کے آغاز کی وجہ بنے اور آج بھی بعض اوقات متن کی تشریح اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہودی الہامی تحاریر جیسی عہد رفتہ کے مساوی دستاویزات کے لیے ایک آگہی اور خارجی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کو مسیحی علماء نے بہت مہارت سے استعمال کیا ہے۔ ضرورت کے تحت مجھے مکمل عہد نامہ جدید کا وضاحتی یادداشتوں اور حوالہ جات کے ساتھ ترجمہ کرنا پڑا اور درست کر کے ترتیب سے لکھنا پڑاکیونکہ یہودی معاملات کو سمجھنے کااہل نہ ہونے کے باعث عہد نامہ جدید کا غلط مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میری کامیابیوں پر میری توقعات سے بڑھ کر خیر مقدم اور پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔
 میں نے اس تجربے سے بہت زیادہ سیکھناتھا جوبالضرور اس تحقیقی عمل کو پیچیدہ بناتا تھا جس میں اناجیل سے روایات،تالیف اور ان کے ماخذات کی چھان بین کی گئی۔ بد قسمتی سے ان معاملات کو ایک عام مسیحی اور کافی حد تک کلیسا سے بھی پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔
یہ ایک انتہائی حقیقت ہے کہ رومن سلطنت کی بین الاقوامی یونانی زبان میں لکھی گئی اناجیل سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رومن سلطنت کی حدود کے اندر اور باہر غیر یہودیوں، مخلوط قدیم یونانی یہودی اور غیر یہودی مسیحی معاشروں کے لیے ترتیب دی گئی تھیں۔
اگرچہ وہ یسوع کی سوانح سے بہت زیادہ قدیم نہیں ہیں اوران سےظاہرہوتا ہے  کہ معاشروں کے ادبی انداز اور ضروریات کے مطابق ان کو وضع کر کے مرتب کیا گیا ہے۔ مزید برآں یسوع کو واضح طور پر استاد اور مسیحاظاہر کرنے میں محتاط اور مختلف فی حد تک الوہیت کا پیغام پہنچانے کے لیے مکمل طور پر یہ محفوظ دستاویزات تھیں۔ یہ کام کافی سوچ بچار سے کیا گیا کیونکہ جس زمانے میں اناجیل تحریر کی گئی تھیں اس دور میں رومی عہدیداروں کی طرف سے مسیحیت کوسرکاری مذہب ہونے کا پروانہ نہیں تھما یاگیا تھا۔ اسے خطرناک اور تخریب کار نظریہ سمجھا جاتا تھا جس کی جڑیں یہودی مسیانزم میں پیوستہ تھیں جس نے 66 تا 70 عیسوی میں رومیوں کے خلاف یہودی جنگ کو بھڑکایا، یہ ایک ایسی بغاوت تھی جو پس پردہ خفیہ سازشوں اور سرگرمیوں کے نتیجے میں ہوئی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہودی قوم پرستی اور سیاسی مسیانزم اب بھی کس قدر قابل وضاحت تھا۔ دستیاب ماخذات سے ماخوذ بنیادی اقرارات اور تاریخ سے دستبردار ہوئے بغیر اسے مٹایا نہیں جا سکتا تھا۔ یہ کار آمد ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد افزا بھی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ بہت سی اناجیل ابھی بھی موجود تھیں اور قانونی اناجیل بظاہرایسی مختلف چیزوں کااحاطہ کرتی ہیں جس میں بہت سی باتیں مشترک نظر آنی چاہئیں تھیں۔ وہ فراہمی مواد میں حدود سے متجاوز ہونے والی ہیں۔وہ سرکاری زعماء کی یادداشتوں کے ساتھ کچھ روایتی ربط بھی رکھتی تھیں۔وہ مسیحیت کی مرکزیت کی تکمیل کی نمائندہ تھیں اور کلیسائی اتحاد میں مددگار تھیں۔ لیکن یہ بذات خود ہم عصر دستاویزات نہیں ہیں۔ یسوع کے زمانہ کا اناجیل لکھے جانے کے ادوار سے کئی عشروں کا فرق ہے اور ان عشروں کے درمیان یہودی اور مسیحی حالات و واقعات میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ جہاں تک یونانی متن کے ابتدائی ماخذ کا تعلق ہے ،وہ ممکنہ طور پر ایسی محفوظ یاداشتوں پرمبنی روایات پرمشتمل ہے جومتی کیلئے مصر، مرقس کے لیے اٹلی، لوقا کے لیے یونانی اور یوحنا کے لیے ایشیائے کوچک سے تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
 ہم ایرینس کے ممنون ہیں جس نے دوسری صدی کے اواخر میں تصور پیش کیا کہ اناجیل کی تعداد چار سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا چار ٹکروں میں تقسیم ہے اور یہ دنیا کےبنیادی موسم بھی چار ہی ہیں۔ مزید برآں سماوی فرشتے کے چار چہرے ہیں، ایک چہرہ شیر کی طرح، دوسرا بچھڑے جیسا تیسرا انسان کی مانند اور چوتھا عقاب کی طرح ہے۔(مکاشفہ 4:6)
آخر ماخذ کی رسائی تک یہودی انسانی مسیحا کی کوئی مطابقت نہیں ہوسکتی تھی  کیونکہ جو تصورمسیح کے متعلق اپنایاگیا کہ وہ ایک ایسا فرد تھا جوآسمانی اختیارات سے نوازا گیا اور خدا کی تجسیم کے طور پر تسلیم کیا جانے والا فرد جو ایک وقت میں خدا بھی ہو اور انسان بھی، یہودی انسانی مسیح سے موافقت نہیں رکھتا ہے۔ یہودی محاورہ 'گوشت اور خون' اکثر انسان ہونے کا معنی اظہار کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔مکمل اختیار کے ساتھ الوہیت کے حامل ہونے کو نہیں بیان کیا جاسکتا تھا۔ مسیحیت کا پیش کردہ وہ ربط جو خاص طور پر چوتھی انجیل اور یوحنا اول (4:3) میں بیان کیا گیا ہے نا ممکن ہے۔ سماوی وجود کا انسانی صورت کو اختیار کرنا عقیدہ عدم بشریت قبول کرنے والوں کے نزدیک قابل اعتبار نظریہ ہے جن کے مطابق یسوع صرف انسان کی صورت میں نظر آتا ہے۔
ہمیں یسوع کے انسان ہونے کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ یہی بات مقدم اور حقیقت کے عین مطابق ہے۔ بلا شبہ اگر ہم الوہیت کو کامل ہونے کی نشانی سمجھتے ہیں جو کہ یونانی تسلیم نہیں کرتے۔ یسوع اناجیل میں بہت مثبت اور انسانی خصوصیات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اکثر خدا ئی کے برعکس احساسات اور رویے کا اظہار کرتا ہے، اس لئے تاریخ دانوں کے لیے متبادل صورت کو اختیار کرنا مشکل نہیں ہے۔ وجود باری تعالیٰ کے متعلق مشرکانہ تشریحات کو قابل فہم لیکن غیر حقیقی ہونے کے سبب بالائے طاق رکھ دینا چاہیے۔
 مگر ظاہری حالت کے علاوہ مسیحی الہیات کے بہت سے پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یسوع ایک مخلص اور با عمل یہودی تھا جس نے خدا اور کس بھی خاکی روپ یا جوہر کے درمیان واضح فرق کے ساتھ پرورش پائی۔ اسرائیل میں یسوع کے ہزاروں پیروکاروں کو یعقوب نے شفا دی تھی اور اس کا چھوٹا بھائی یہودیوں کو جوش دلاتا رہا (اعمال باب 21 فقرہ 18 تا 24)۔وہ خدائی تجسیم کے طور پر یسوع کے بارے میں کوئی نظریہ نہیں رکھتے تھے۔ان میں وہ سب اور بارہ رسول بھی شامل تھے جو یسوع کے ساتھی رہے تھے۔ان میں اس کی ماں اور بہت سے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔پطرس کی جعلی تحریر پطرس دوم (باب 1 فقرہ 16 تا 18) میں یسوع کی اعلی و ارفع غیر خدائی حیثیت دیکھتے ہوئے اناجیل کی کہانی میں ہم تبدیلی کی گونج سنتے ہیں حتی کہ پطرس اول (باب 2 فقرہ 22 تا 24) کی طرح یہاں بھی عہد نامہ قدیم کی پیشگوئیاں پر زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر یسوع کے تکالیف اٹھانے تذکرہ یسعیاہ کی کتاب میں تکالیف سہنے والے خادم کے طور پر کیا گیا ہے۔
 پولس نے یسوع کے متعلق معلومات پطرس اور یروشلم کے دوسرے لوگوں سے حاصل کی تھیں۔ یسوع کوداؤد بادشاہ کا جانشین ہونے کے متعلق جاننے کے باوجود وہ اپنے خطوط میں یسوع کا بمشکل تذکرہ کرتا ہے (رومیوں 1:3)وہ جانتا تھا کہ یسوع خدا نہیں ہے اور واضح الفاظ میں ٹموتھی سے کہتا ہے "خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے درمیان ثالث یسوع مسیح ہے"۔ پولوس پیلاطوس کے سامنے کیے گئے یسوع کے مناسب اور واضح اعتراف کے بارے میں بھی ٹموتھی کو بتاتا ہے (ٹم اول باب6 فقرہ 13)۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا تھا؟ کیونکہ ہمارے پاس اناجیل میں وہ خاموش رہا یا شش و پنج میں مبتلا رہا اس لیے یسوع کی وہ تمام باتیں جو پولوس نے بیان کرتاہےانہیں اناجیل میں کہیں بھی نہیں دیکھاجاسکتا ۔
 رومیوں کے ساتھ یہودی جنگ کے نتیجے میں یسوع کے پیروکاروں کےمغربی دنیا کے لوگوں کے ساتھ ذاتی روابط بالکل ختم ہو گئے تھے۔اس کے یہودی شاگردوں کی کثیر تعداد جنگ میں ہلاک ہو چکی تھی اورکچھ مصر اور کچھ مشرق کی طرف بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔سب سے مربوط گروہ جس کا ہم بہت بعد میں مطالعہ کرتے ہیں یسوع کے چچا زاد بھائی سائمن جو کلیپیاس کےبیٹے کا تھاجو اس کی قیادت میں شمال مشرق میں سیاسی پناہ حاصل کرتا ہے اور رومی بادشاہ تریجن (trajan) کے دور حکومت تک محفوظ رہے تھے۔ جب معلومات کے ابتدائی عبرانی اور آرامی ذرائع تک رسائی بہت کم تھی اور بحیرہ روم کے ارد گرد کے علاقوں میں مسیحیت نازک دور سے گزر رہی تھی اس وقت اناجیل تالیف کی گئیں۔ جنگ سے پہلے چرچ مغرب تک پہنچنے والی اس قسم کی زبانی اور تحریری معلومات پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔
زبانی ماخذات پطرس کی نایاب تقاریر تھیں جو روایات کے دعوی کے مطابق مرقس کی انجیل کا اہم حصہ ہیں اور افسس میں یوحنا کاہن کی طویل عمر میں ذاتی قوت حافظہ کو صدی کے اواخر تک برقرار ظاہرکرتے ہیں۔
 لیکن ہم کچھ تحریری ذرائع بھی دیکھتے ہیں جن میں دو خاص ہیں۔ ایک قسم عہد نامہ قدیم کے اقتباسات پر اور کلیسا کے مسلمہ اصولوں کے خلاف کچھ کتب پر مشتمل ہے جو مسیح سے تعلق پیدا کرنے اور مسیح کے متعلق توضیحات کو یسوع میں پورا کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں،جبکہ دوسری قسم یسوع کے فرمودات ہیں جو اوگژیرنکس (oxyrhynchus) شہر سے ملنے والے یہوداہ توما سے منسوب اقوال کی طرح یسوع کے اقوال کا ذخیرہ اور ناگ حمادی سے ملنے والی قبطی مٹی کی مورتیوں پر مشتمل ہے۔ ہم انہیں گواہی دینے والی انجیل اور تعلیم دینے والی انجیل کے طور پر بیان کر سکتے ہیں۔وہ بنیادی طور پر عبرانی میں لکھی گئی تھیں اور برنباس کے اعمال نامی کتاب ان کی تالیف متی سے منسوب کرتی ہے ۔یہ انتہائی مختصر کتابیں تھیں جو پہلا رسول آسانی سے اٹھا لے جا سکتا تھا۔ جب ان کتب کا ترجمہ کیا گیا تو یقیناً انہیں ترامیم اور اضافوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ہماری موجودہ اناجیل متی ولوقاکا تعلق ان ذرائع سے ہے جو ان کے مواد میں عبرانی عناصر کی نشاندہی میں مدد کرتے ہیں۔

دومسیحاؤں کی بابت یہودی نقطہ نظر

دومسیحاؤں کی بابت یہودی نقطہ نظر
 پاکستانی پولوسی دجل وفریب کاپردہ چاک کرتی،نظریہ مسیح سے متعلق چھپے ہوئے حقائق ظاہرکرتی ایک تحریر
 تحقیق وتحریر:عبداللہ غازیؔ
الواح تورات کی تفویض اورکتاب شریعت کی ودیعت کے وقت المسیح کے نظریے کے متعلق موسیٰ علیہ السلام کو کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ اسفارخمسہ کی کتب اس عقیدے کے بارے میں کوئی لب کشائی نہیں کرتیں اور نہ ہی موسیٰ علیہ السلام اس اہم معاملے کے متعلق اپنی قوم کو کوئی تعلیم دیتے ہیں۔137عیسوی تک یہودیت میں مسیح موعود یا نجات دہندہ المسیح اورعہدمسیحانہ (Massianic Age)کا کوئی واضح تصور نہیں تھا۔ 586قبل مسیح سے لے کر 175 قبل مسیح تک یہودنامسعود اپنی خوشی اورغم،عروج وزوال اور یروشلم سے متعلق اُس وقت کی بین الاقوامی طاقتوں کی سیاسی کشمکش اور رسہ کشی کو فقط نوشتہ تقدیر خیال کرتے تھےگوکہ کتاب مقدس میں ضمنی طور پر ایسا کثیرمواد موجود تھا جو مستقبل قریب میں ایک معجزانہ قوت کے حامل انسان کے آنے اور اس کے ذریعے دنیا کو شیطان کے شکنجے سے نجات اور نیکی کی طاقتوں کو غالب آنے کی نشاندہی کرتا تھا مگر اس قسم کی پیشنگوئیاں مسیح موعود کی اصطلاح کی مبتدیانہ تخلیق نہ کرسکیں ۔63قبل مسیح میں رومیوں کے ہاتھوں مکابی سلطنت کی تباہی کے بعد یہود کو ایسے الہیاتی عنصر کے فقدان کا شدت سے احساس ہوا جو ان کی تعذیب مسلسل اور ابتلامدید کے درمیان مستقبل میں ان کی نشاط ثانیہ اور نجات کلی کا ضامن بنے۔اسی فکر کے بطن سے یہودیت میں عصرِآزمائش کے خاتمہ کے نئےتصوراور اس کو بنیاد فراہم کرنے والے ادب(Apocalyptic Literature) نے جنم لیا۔اسی تصور کے ساتھ ساتھ ایک مسیحانہ نجات دہندہ کے نظریے نے بھی یہودیت میں اپنی جڑیں نکال لیں اور کتاب مقدس نے اس ارتقائی نظریہ کو بھرپورمواد فراہم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔
بخت نصر بادشاہ کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کی سلطنت کی تباہی اور بنی اسرائیل کے قبائل عشرہ کی بابل میں بدترین غلامی ،بالآخرگمنامی کے بعد یہودیوں نے خیال کیا کہ جس طرح یہوداہ کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے داؤدوسلیمان علیہماالسلام کی صورت میں قوم یہود کو رفعت وتوقیر نصیب ہوئی تھی اسی طرح بنی اسرائیل کی شوکت وعظمت گم گشتہ بھی دوبارہ اسی قبیلے سے بحال ہوگی۔چنانچہ ورودِمسیح کے نظریہ کو تخم داؤد سے متصل کردیا گیا اور یہوداہ کے قبیلے میں فرزندان داؤد یہودی قوم کی امیدوں کا مرجع بن گئے۔
المسیح کے متعلق کی جانی والی الہیاتی پیشگوئیوں کی تشریحات کرنے  میں ربائیوں نےقدرے غلو سے کام لیا اور المسیح کی آمدکے تصور میں ایسے شاخ وبرگ لگائے کہ یہودعوام نے منتظرفرداں ہوکر اپنے روشن مستقبل کی توقعات المسیح سے وابستہ کرلیں۔(یہودیوں کوالمسیح سے کیا توقعات وابستہ تھیں اس بارے میں محترم جناب ظفراقبال صاحب ایک معرکۃ آلاراء مضمون "یہودی تصورمسیح"لکھ چکے ہیں وہاں سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔)المسیح کی آمدکے حوالے سے اس قدر غلو اختیار کرنے کے باوجودان میں ایسا کوئی نظریہ پیدانہیں ہوا تھا جس میں المسیح کی حیثیت گناہوں سے نجات دینے والے نجات دہندہ کی ہو،بلکہ وہ المسیح کی آمد پرایک زبردست جنگی معرکہ کےذریعے سیاسی غلبہ اوراسرائیل کی مملکت کی بحالی کے خواہاں تھے۔ اس ضمن میں یرمیاہ نبی کی پیشنگوئی شہرہ آفاق حیثیت رکھتی ہے جس میں وہ شمال سے ایک نجات دہندہ آنے کی خبردیتے ہیں۔
یہودی سمجھتے تھے کہ المسیح  قوم کو یکجاکرکے یہودیوں کی سیاسی اور روحانی ابتری کوجڑسے اکھاڑ پھینکے گا اور وہ ایسی مرکزی حکومت قائم کرے گا جہاں یہودوغیریہود دونوں ہی رہیں گے۔ان کی یہ تفہیم یسعیا کی اس عبارت سے مستعار تھی۔
 اس روز یسّی کی اس جڑکوکہ جوامت کےلیےجھنڈےکی طرح قائم ہےغیر قومیں تلاش کریں گی اوراس کی جائےسکونت جلیل ہوگی۔اوراس روزخداوند اپناہاتھ پھر بڑھائےگاتاکہ اپنی امت کاوہ بقیہ واپس لائےجواشوراورمصراور فتروس اورکوش اور عیلام اورشنعاراورحمات اورسمندرکےجزائرسےبچ رہے۔اوروہ قوموں کےلیےجھنڈا کھڑاکرےگا۔اوراسرائیل کےاسیروں کوفراہم کرےگا۔۔۔۔اوریہودہ کےدشمن نیست ہوں گے۔اشعیااا:اا
 یہودیوں کو یہ امید بھی وابستہ تھی کہ المسیح نے انہیں موعودسرزمین کنعان واپس دلوانی ہے کیونکہ یرمیاہ نبی پیشنگوئی کرچکے تھے کہ
 وہ دن آتےہیں کہ میَں اپنی امت اسرائیل اوریہودہ کی قسمت بدل دوں گا۔۔۔اورانہیں اس سرزمین میں واپس لاؤں گاجومیَں نےان کےباپ داداکوعطاکی۔۳۰:۳
یرمیاہ نبی کے خیال کے مطابق یہودی یہ  سمجھتے تھےکہ مسیح ہیکل کی تعمیر ثانی کرے گااوراس میں نئے سرے سے عبادت شروع ہوگی۔وہ یہود کی مقدس مذہبی عدالت بھی قائم کرےگااور یہودی شریعت کانفاذ بھی کرے گا۔
 وہ دن آتےہیں کہ میَں اس نیک کلمہ کوپوراکروں گاجومیَں نےاسرائیل کےگھرانےاوریہودہ کےگھرانےکےحق میں کہاتھا۔ان دنوں میں اوراس وقت میں میَں داؤدکےلیےایک صادق کونپل پیداکروں گا۔اوروہ زمین پرعدل اورصداقت کاکام کرےگا۔انہی ایام میں یہودہ نجات پائےگا۔اوریروشلیم اطمینان سےسکونت کرےگا۔۔۔۔داؤدکےلیےاسرائیل کےگھرانےکےتخت پربیٹھنے کےلیے مردکی کمی نہ ہوگی۔اورنہ لاوی کاہنوں کےلیےمیرے حضورایسےمرد کی کمی ہوگی جوسوختنی قربانی چڑھائے۔اورنذروں کی خوشبوجلائےاورہمیشہ کےلیے ذبیحہ ذبح کیاکرے۔یرمیاہ۳۳:۴ا
 الغرض کہ یہودیوں میں المسیح سے متعلق مختلف توقعات وابستہ تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی المسیح کے متعلق یہ تصورنہ کیا کہ وہ مصلوب کیا جائے گا اور مردوں میں سے جی اٹھے گا۔(مردوں کی قیامت کا مسئلہ بھی یہودیت میں مختلف فیہ رہاہے،یسوع کے معاصرین صدوقی یہودیوں کا ایک بڑا گروہ اس عقیدہ سے منحرف رہاہے،جدید محققین کے مطابق یہودیت میں حیاۃ بعدالمماۃ کا تصور ایک ارتقائی نظریہ ہے جس نے بابلی اثرات کے تحت یہودیت میں جڑ پکڑی)لہٰذا یسوع کو بحیثیت المسیح رد کرنے میں مقدس پولس کا تراشیدہ یہ عقیدہ بھی یہود نامسعود کےلیے سدسکندری بنا رہا۔
یہودی ربائیوں کی انواع واقسام کی تشریحات کے نتیجے میں منقسم الخیال یہودیوں میں المسیح کی شخصیت سے متعلق مختلف تصورات پیدا ہوگئے۔یہودیوں کا اسینی گروہ دو مسیحیوں کی آمد کا قائل تھا جن میں سے ایک کا تعلق یہوداہ کے گھرانے سے تو دوسرے کا تعلق لاوی کے گھرانے سے تھے۔مراتب کے لحاظ سے لاوی النسل ہارونی مسیح کو داؤدی مسیح پر فوقیت حاصل تھی۔تمام مذہبی معاملات ہارونی مسیح کے ذریعے سرانجام پانے تھے جبکہ داؤدی المسیح مثل داؤد جنگجو اور طاقت ور بادشاہ ہونا تھا جس نے زبردست جنگ کے بعد فتح سے ہمکنار ہوکر اسرائیل کی کھوئی ہوئی سلطنت کو بحال کرنا تھا ۔دومسیحیوں کا نظریہ انہوں نے کتاب مقدس میں شامل زکریا کے صحیفے کی آیت سے مستعار لیا تھا جہاں مندرج تھا کہ"یہ وہ دو ممسوح ہیں جورب العالمین کے حضور کھڑے رہتے ہیں"۔(زکریا4:14)
اسینی یہودیوں کے برعکس دیگر یہودی روایات بھی اسی طرز کے عقیدے کی عکاسی کرتی ہیں لیکن وہاں موعود مسیحاؤں کی تعداد دوکے بجائے چار ہے۔اس سلسلے میں ایک روایت درج ذیل ہے۔
 'اور خداوند نے مجھے چار ہنر مند دکھائے یہ چار ہنر مند کون تھے ؟ ربی حنّا بن بیزنا نے پڑھا ربی سیمون حسیدا نے جواب دیا: مسیح ابن داؤد، مسیح ابن یوسف، ایلیاہ اور راست باز کاہن''
بابلی تلمود، کتاب موعید، فصیل سوکا، 52 الف
 یہودی علماء کے مطابق اس نظریہ میں ایک مسیح ابن یوسف ہے جو کہ حقیقی طور پر فرزنداسرائیل یوسف کی نسل سے ہوگا اورروایات کے مطابق دوران جنگ قتل کیا جائے گا جبکہ دوسرا مسیحِ ابنِ داؤد ہے جو مسیح بادشاہ کے اوصاف پر مشتمل کردار ہے۔تیسرا کردار ایلیا کا ہے جس نے ملاکی نبی کی نبوت کے مطابق مسیح کی آمد سے قبل نقیب کا کردار اداکرنا تھا۔چوتھی شخصیت راست باز کاہن کی ہے جسے اسینی دستاویزات میں استادصادق کے لقب سے پکارا گیا ہے۔چونکہ ہماری مبحوث تحقیق مسیحاؤں کے نظریہ سے متعلق ہے لہذا ہم مقدم الذکر شخصیات کے متعلق ہی کلام کریں گے۔
مسیح ابن یوسف
 اس نظریہ کی بنیاد تورات کے ماخذات اور وہ حالات و واقعات ہیں جو یوسف ابن یعقوب(اسرائیل) ابن اسحاق ابن ابراہام کے ساتھ پیش آئے، یوسف ابنِ یعقوب کا اپنے بھائیوں کے ہاتھوں دکھ اٹھانا، قید و بند کی صعوبتیں سہنا، بعد ازاں سرفرازی پانا، غیر اقوام میں مقبول ہونا، اسرائیل اور بنی اسرائیل کی مشکل دور میں مخلصی کرنا اور نجات دہندہ ٹھہرنا جیسے واقعات کے تقابل سے یہ نظریہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ابن یوسف کا ابن داؤد کی طرح ہونا دراصل اس نام کے بزرگوں کی نسل میں سے ہونا تھااور اس کاماخذ بھی یہی اشارہ کرتا ہے کہ "ہمارے باپ یعقوب نے غیب بینی کی کہ صرف عیسو کی نسل ،یوسف کی نسل کے سپرد کی جائے گی جیساکہ کہا گیا ہے کہ "تب یعقوب کا گھرانہ آگ ہوگا اور یوسف کا گھراناشعلہ اور عیسوکاگھرانہ پھوس اور وہ اس میں بھڑکیں گے اور اس کو کھا جائیں گے"۔(عبدیاہ18)(B.B. 123b)
مسیح ابن داؤد
 یہ نظریہ بھی تورات کے ماخذات، استعاروں، اشاروں اور واضح پیشن گوئیوں پر مشتمل ہے۔تورات میں جابجا ایک ایسے ممسوح فرما نروا کا ذکر بطور ابن داؤد ملتا ہے جس سے منسوب اقوال اور پیشن گوئیاں بتاتی ہیں کہ یہ زمین پراسرائیل کی سلطنت کوبحال کرے گااورخدا کی بادشاہت قائم کرے گا اسکے ایام ( زمانہ مسیح ) میں زمین پر عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا، یہ ہیکل مقدس کی تقدیس (دوبارہ تعمیر) کرے گا یعقوب کی آل سے کینا و بغض رکھنے والوں کو شکست فاش دے گا اور شریعت موسوی کو بحال کرے گا۔
یسوع اور نظریہ مسیح
 علماء یہودشروع سے ہی یسوع کو مسیحِ موعودتسلیم کرنے سے شدت کے ساتھ منکر ہے۔اس انکار کا محرک نظریہ مسیح کے ساتھ ساتھ کتاب مقدس کی المسیح سے متعلقہ وہ نبوتیں بھی ہیں جن کی تکمیل کا خواب یسوع کی ذات میں شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔سب سے بڑا سوال تو المسیح سے قبل ایلیاہ کی آمد کا تھا جس کا کوئی تسلی بخش جواب یسوع بیان نہیں فرماتے پھر بھلا کیسے شرع کے عالم اور فقہاء یسوع کے مسیح صادق گمان کرسکتے تھے؟دوسرا مسئلہ حکومت وقت کا تھا جس کے خلاف موعود مسیح نے آکر بغاوت کرنا تھی اور ایک جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی سلطنت کو بحال کرکے ان کی شوکت وعظمت گم گشتہ کو لوٹانا تھا لیکن یسوع نے ایسی کوئی سرگرمی اختیار نہیں کی جسے دیکھ کر یہودی یسوع کے ساتھ جمع ہوتے اور رومی حکومت سے جنگ کرتے بلکہ یسوع نے تو تلوار چلانے والوں کو ہلاک ہوجانے والا تک قرار دے دیا تھاایسی حالت میں یہود یسوع کو بحیثیت مسیح ردکرنے میں حق بجانب تھے ۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہودیوں نے کلی طور پر یسوع کی دعوت کا بائیکاٹ کرکے رکھا بلکہ ایک بڑی تعداد نے ان کواپنی امیدکامرکز سمجھ کر اس کے ہاتھوں اسرائیل کی خلاصی کی امید کرتے ہوئے المسیح کی حیثیت سے قبول بھی کیا جیساکہ سائرین عمواس کی گفتگو سے بھی اندازہ ہوتاہے۔
 "یسوع ناصری کاماجرا جو خدااورساری امت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا اور سردارکاہنوں اور ہمارے حاکموں نے اس کوپکڑوادیاتاکہ اس پر قتل کاحکم دیا جائے اور اسے مصلوب کیا۔لیکن ہم کو تو امید تھی کہ اسرائیل کو مخلصی یہی دے گا۔"(لوقا24:19،21)
یسوع کی ذات سے پیوست یہودی عوام کی یہ تمام امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب مقدمہ کے وقت یہودی عوام اور حاکم کے سامنے یسوع نے کہا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں۔یسوع کا یہ جملہ یہود کی ان تمام دنیاوی توقعات پر پانی پھیر گیا جن کا حصول المسیح کی آمد کے ساتھ وابستہ تھا اوراسی مقصد کے تحت وہ یسوع کے ساتھ منسلک ہوئے تھے۔دنیاوی بادشاہت کے اس انکار کے ساتھ ہی یہودی عوام کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے اور وہ یسوع کے دعویٰ مسیاح کو کتاب مقدس کے خلاف پاکر حاکم وقت سے اس کو صلیب دینے کی اپیل شروع کردیتے اور اس کا خون ناحق اپیس اور اپنی اولاد کی گردنوں پر لے لیتے ہیں۔
وجوہات کے انبوہ کثیر میں سے یہ چند توجیہات ہیں جن کے باعث یہودی شدت کے ساتھ یسوع کو بحیثیت المسیح قبول کرنے سے مجتنب رہے اور آج تک وہ یسوع کو المسیح تو کجا صادق نبی تک قبول کرنے سے تیار نہیں۔اگرچہ انجیل نویسوں نے رنگ آمیز اسلوب کے ساتھ اس امر کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے کہ معززفریسی علماء نے یسوع کو قبول کرلیا تھا مگر انجیل نویسوں کے اس ادعا کی تاریخی وقائع نگاری انتہائی مشکوک ،یہودی توقعات،ربائی روایات اور خود انجیل نویسوں کے بیان سے باہم مخالف ہے۔اس موضوع پر ہم اپنے مضمون "یسوع اور ربائی"میں گفتگوکرچکے ہیں اس ضمن میں وہاں سے استفادہ کیاجاسکتا ہے۔
 اسینی نظریہ مسیح سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ربائی روایات کا اطلاق یسوع کی شخصیت پر کیا جائے تو صورتحال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے۔روایات کے مطابق مسیح ابن یوسف نے یوسف نبی کی نسل سے ہونا تھا جبکہ یسوع کسی طرح سے بھی یوسف کی نسل سے ثابت نہیں ہوسکتے بلکہ انجیل نویس انہیں داؤد کی نسل سے باورکرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں داؤد کے گھرانے کا موعود المسیح قرار دیا جاسکے لیکن بات بننے کے بجائے اور بگڑ جاتی ہے۔یسوع کوابن داؤدتسلیم کرنے سے قبل اسے یسوع نجار کی اولاد ماننا پڑے گا اور یہ حقیقت قبول کرنے سے کلیسیاء کے دوہزارسالہ کنواری مقدسہ مریم کے عقیدے پر ضرب پڑتی ہے کیونکہ مریم تو لاوی کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں ،اگر یسوع ابن مریم ہی ہیں تو پھر وہ لاوی النسل ہوسکتے ہیں داؤد کے گھرانے سے ہرگز نہیں اور جب وہ داؤد کے گھرانے سے ہی نہیں تو وہ داؤدی مسیح ہو ہی نہیں سکتے۔لیکن اگر یسوع کو داؤدی النسل ہونے کا مفروضہ تسلیم بھی کرلیا جائے تو بھی یسوع ان یہودی امیدوں اور توقعات پر عشرعشیر بھی پورے نہیں اترتے جن کا اتصال یہود،موعودمسیح کے واردہونے سے کرچکے تھے۔
المسیح کا موت کے بعدجی اٹھنا اور یہود
 موعود مسیح کی موت اور دوبارہ جی اٹھنے سے متعلق تشریحات بھی ربائی لٹریچر میں پائی جاتی ہیں مگر وہ روایات اس تناظر اورپس منظر سے تعلق نہیں رکھتیں جو یسوع کے بعد مسیحیوں میں غیراقوام سے مستعار پولوسی نظریات کے تحت وجود میں آئیں۔المسیح کے جی اٹھنے کے متعلق ایک روایت یہ ہے۔
 ہمارے ربیوں نے سیکھایا : القدس تبارک و تعالی نے مسیح ابن داؤد ( وہ جلد خود کو ہمارے دنوں میں ظاہر کرے) سے کہ: ''مجھے سے جو مرضی مانگ اور میں تجھے دوں گا'' جیسا کہ کہا گیا ہے: میں اُس فرمان کو بیان کرونگا۔ خُداوند نے مجھ سے کہا تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مجھ سے پیدا ہوا۔ مجھ سے مانگ اور میں قوموں کو تیری میراث کے لئے اور زمین کے اِنتہائی حصے تیرے ملکیت کے لئے تجھے بخشونگا۔(زبور7:2-8) مگر جب وہ (مسیح ابن داؤد) دیکھئے گا کہ مسیح ابن یوسف قتل کیا گیا تو وہ کہے گا: اے مالک کائنات میں تجھے سے محض ایک چیز مانگتا ہوں ''حیات کا تحفہ'' تب خداوند جواب دے گا: تیرے باپ داؤد نے تیری پریشانی کی بابت پہلے ہی نبوت کی رو سے لکھا '' اُس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تُو نے بخشی۔ بلکہ عمر کی درازی ہمیشہ کے لئے'' (زبور 4:21)
بابلی تلمود، کتاب موعید، فصیل سوکا، 52 الف
روایات کے مطابق جب جنگ کے دوران مسیح ابن یوسف قتل کردیاجائے گاتو مسیح ابن داؤد خدا سے دعامانگ کر پھر اُسے زندہ کرے گا۔یہاں ایسا کوئی مشرکانہ عقیدہ نہیں پایاجاتا کہ وہ مرجائے گا اور تین دن بعد خودبخود جی اٹھے گا۔یہ مسیحی اعتقاد عہدعتیق اور تالمودی روایات کے سراسر خلاف اور مقدس پولس کے اختراعی افکار کے سوا کچھ نہیں اوراس کا یہودیت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
ادعا مسیح اور یہود
مکابی حکومت کےسقوط اور رومی عتاب کے تحت آجانے کے بعد جہاں یہودیوں میں مسیح موعود کا نظریہ پروان چڑھا وہیں اس نظریہ کی تکمیل کی سعی کرتی بہت سی شخصیات کا بھی ظہور ہواجنہوں نے اپنے قول و عمل سے خود کو مسیح موعود کی عملی تفسیر بنانے کی جہدمسلسل کی بالآخر ان کی کوشش قابض حکومتی افواج کے ہاتھوں پامال ہوئی اور وہ پراگندہ کرکے تہہ تیغ کردیئے گئے۔یہودی تاریخ ایسے افراد کے قصص سے لبریز ہے جو مسیح ہونے کا دعویٰ لے کر اٹھے اور حکومت وقت کا عسکری سامنا کرتے ہوئے مارے گئے۔عہدجدید میں بھی ایسے تین مشہوریہودی حریت پسندوں کا تذکرہ موجود ہے جنہوں نے رومی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور فوجی مزاحمت کے دوران مارے گئے۔
 مسیحیت نے جب رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت اختیار کرلی تو اس کےبعد مقدس مذہبی لٹریچر میں تصحیح وتصریف کا عمل شروع ہوا اور متصرفین نے اناجیل کو مرتب ثانی کرتے وقت اُُس وقت کے سیاسی حالات کی ایسی تصویر پیش کی گویاکہ یہودیہ کا علاقہ رومی حکومت کی چھتری تلےآمن وآتشی کا گہوارہ تھااور یہودی رومی حاکم کی حکومت کے زیرسایہ ایک پرسکون زندگی گزار رہے تھے جبکہ حقیقی صورتحال اس کے برعکس تھی۔ یسوع کے حین حیات یہودیہ کا علاقہ جنگوں اوریہودی بغاوتوں کا گہوارہ تھا اور یہاں بڑی تعداد میں یہودی حریت پسندی کی خفیہ واعلانیہ تحاریک چل رہی تھیں جس کی سرکوبی کے لیے رومی افواج وجاسوس پوری طرح سرگرم تھے۔یسوع کا تمثیلی انداز میں اپنے تحریکی ساتھیوں سے کلام کرنا اس امر کا غماز ہے کہ وہ جابجا بکھرے ان رومی جاسوسوں سے کتنا محتاط تھے ۔ان کی کمال احتیاط کے باعث ہی ان کی تحریک تین سالوں تک محیط ہوگئی لیکن اس دوران بھی انہوں نے کبھی زبان سے المسیح ہونے کا علی الاعلان دعوی نہیں کیاکیونکہ یہ اعلان ہی دراصل حکومت وقت کے خلاف خود کو بادشاہ کے طورپر پیش کرنا تھا۔
 یسوع کی تحریک بھی ایک خفیہ حریت پسند تحریک تھی جس میں یہوداہ اسکریوطی جیسے اسکریوٹ اور شمعون غیور جیسے زائیلوٹ موجود تھے۔ان جنگجوؤں اور شدت پسند تحاریک سے متعلق افراد کا یسوع کی تحریک میں شامل ہونا یسوع کی تحریک کی رومی حکومت کے خلاف شدت پسندی کاظہور ہے جس سے انجیل نویسوں نے عمدا اعراض کیا ہے۔
 اناجیل میں کیے جانے والے ان تصرفات سے مقصود حکومت وقت کی خوشنودی تھی تاکہ مقتدرحلقوں کی طرف سے یسوع کی تحریک کو رومی حکومت کے مخالف خیال نہ کیا جاسکے۔ان تغیریات وتبدل کے باوجود اناجیل میں ایسے تاریخی نشانات باقی رہ گئے جو حریت پسند یہودیوں مدعیان مسیح کا پتہ دیتے ہیں۔اناجیل میں مستور ان مدعیان میں سے ایک یسوع کی حین حیات ،6عیسوی میں حکومت وقت کے خلاف بغاوت برپا کرنے والا یہوداہ گلیلی بھی ہے جس کا ذکر اعمال 5:37 میں ملتا ہے۔جوزفیس کے مطابق اس کے دودفرزند یعقوب اور شمعون کو قیصرطبریاس نے مصلوب کرکے مار ڈالا جبکہ اس کا تیسرا فرزندمناہیم اسکریوٹ نامی تحریک کا بانی بنا اور ایک طویل عرصہ تک طاقتور رہنما رہا بالآخر سردارکاہن کی جماعت کے ہاتھوں قتل کردیا گیا۔
یہوداہ گلیلی کےبعد کچھ عرصے بعد تھیوداس نے المسیح ہونےکا دعویٰ کرکے بغاوت کردی۔چارسوکے قریب اس کے دعویٰ پر لبیک کہتے ہوئے یہودی رومیوں کے خلاف اس کے دست راست بنےاور رومیوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔تیسری ہستی خنجربردارمصری کی ہے جس کا ذکراعمال 21:36 میں موجود ہے۔اس نے چارہزار یہودی عسکری جنگجوؤں کے ساتھ مسلح بغاوت کی اوربالآخر تہہ تیغ کردیئے گئے۔
مدعیان مسیح موعود کے یکے بعد دیگر ظہور اور یہودیوں کی طرف سے ان کی بھرپور تائید ونصرت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نےدومسیحیوں کے تراشیدہ نظریے پر اکتفاکرنے کے بجائے وقتاً فوقتاً اسرائیل کی سلطنت کی بحالی کے لیے کھڑے ہونے والے ہرمدعی مسیح کو اپنی امیدوں کا محور سمجھا اور ان کی بھرپور تائید کی ۔ یہودیوں نے کبھی بھی ان افراد کو تعذیب وتعصب کانشانہ نہیں بنایا جنہوں نے مختلف افراد کو بحیثیت"المسیح"قبول کیابلکہ ان کی فکری ہمدردی بھی ان مدعیان اوراس کی جماعت کے ساتھ ہی رہی۔اس کاثبوت اناجیل میں مندرج اس واقعہ سے ملتا ہے جب فریسی یسوع کے پاس آکر اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ پیلاطوس اسے قتل کرنے کی فکر میں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بزرگ گملیل کی تقریر بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے جہاں وہ سنہڈرین میں یسوع کے ساتھیوں کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
 "ان آدمیوں سے کنارہ کرواوران سے کچھ کام نہ رکھو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا سےبھی لڑنے والے ٹھہرو کیونکہ یہ تدبیر یاکام اگر آدمیوں کی طرف سے ہے تو آپ برباد ہوجائے گالیکن اگر خدا کی طرف سے ہے توتم ا ن لوگوں کومغلوب نہ کرسکو گے"۔( اعمال باب 5 فقرہ 38 تا 39)
 اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کو یسوع یا کسی بھی شخص کو بحیثیت المسیح قبول کرنے والوں سے کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ یہودی عوام کی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہمنوا رہی ہے۔
تالمود میں المسیح کی شخصیت اور تعیین کے حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں کہ حالات وواقعات کے ساتھ ساتھ لوگوں کی المسیح کے بارے میں ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں۔بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ حزقیاہ المسیح ہے۔ان لوگوں میں ربائی یوحنابن زکائی بھی شامل تھا جس نے بستر مرگ پر اپنے شاگردوں سے الوداعی ملاقات کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ "یہودیاہ کے بادشاہ حزقیل کے لیے تخت تیار کرو جوکہ آنے والا ہے"۔(Ber. 28b)اس کے الفاظوں کو عام طور پر المسیح کی آمدکاپیش خیمہ سمجھا گیاہے،پہلی صدی عیسوی کا یہ بزرگ المسیح کی شناخت حزقیاہ کے طور پرکرتا ہے۔کچھ بزرگوں نے المسیح کی شناخت داؤد کی حیثیت سے کی ہے اور اس کا استنباط کتاب مقدس کی اس آیت سے کرتے ہیں کہ"اس کے بعدبنی اسرائیل رجوع لائیں گے اور خداونداپنے خدااوراپنے بادشاہ داؤد کو ڈھونڈیں گے اور آخری دنوں میں ڈرتے ہوئے خداوند اور اس کی نیکی کے طالب ہوں گے"۔(ہوشیع3:5)یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ داؤدی المسیح داؤد نبی ہی تھےبلکہ یہ ان سے مختلف کوئی دوسری ہستی ہے جسے ان کے اخلاف میں مبعوث ہونا تھا۔تالمود کی روایت ہے۔
 Rab declare, the Holy One, blessed be Hem will here after raise up for Israel another David as it is said, "But they shall serve the LORD their God, and David their king, whom I will raise up unto them" is not stated "has rised" but "will raise" (Sanh, 98)
اسی طرح ربائی نکمان کے لیے آتا ہے کہ انہوں نے ربائی اسحاق سے پوچھا کہ کیا آپ نے بارنفلی کے بارےمیں سنا ہےجوکہ آنے والاہے؟ربائی اسحاق نے اس سے پوچھا کہ بارنفلی کون ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ وہ المسیح ہے۔(Sanh. 96b) مختلف یہودی ربائیوں نے المسیح کی شخصیت کے تعیین میں اختلاف شدید کیا ہے ۔بہت سے لوگ المسیح کو سمجھنے میں بھی غلطی کر بیٹھے۔ایسی ہی ایک غلطی 132 عیسوی میں برپاہونے والی ایک آزادی کی تحریک کے وقت پیدا ہوئی جب بارکوکبا نامی یہودی جنگجو نے رومی سلطنت کو شکست دےکر ایک آزاد یہودی حکومت قائم کرلی اور تین سال تک حکمران رہا۔بارکوکبا کی تحریک اور عملیات اس قد ر مضبوط تھیں کہ ربائی عقیبہ جیسے بیدارمغز انسان نے اس کو بحیثیت المسیح قبول کر لیا تھا۔لیکن ربائی یوحنان بن طورطا نے اسے کہا کہ "عقیبہ تیرے رخساروں پر گھاس تو اُگ آئے گی مگر ابن داؤد کی آمد نہیں ہوگی"۔(p. Taan. 68d)۔ یہودی سواد نے اس کی شکست کو اس کے دعویٰ مسیحیت کے غیرصحیح ہونے پر محمول کیا لیکن ربائی عقیبہ نے یہ تاویل کرکے اس کےمشن کو آگے بڑھایا کہ کسی مسیح موعود کے دعویٰ مسیاح کو صرف اس بنیادپرردکرنا صحیح نہیں ہے کہ اسے دنیاوی افواج کے مقابلے میں شکست ہوئی ہے۔کہاجاتا ہے کہ وہ دوران قتل کلمہ شمع اسرائیل کا ورد کررہاتھا۔
یہودی اہل تصوف مسیح موعود کو ایک روحانی شخصیت کی حیثیت سے جانتے ہیں جو روحانی افکار کی اساس پر خداکی بادشاہت قائم کرے گا۔اسی بنیاد پر بیسویں صدی کے آخر میں یہوداہ تصوف کے سلسلہ لباوتک خاسدیمیہ کے ربائی مناخیم میندل نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔اس سے قبل سترہویں صدی عیسوی میں ایک ربائی شبتائی زوی ترکی سے نقل مکانی کرکے فلسطین آئے تو اسے مسیح موعودقرار دے دیاگیابعدازاں شبتائی نے اسلام قبول کرلیا۔شبتائی کے پیروکار اس کے قبول اسلام کوبلندی درجات سے قبل لازمی تحقیرمسیح سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ بھی خیال پیش کیاجاتا ہے کہ شبتائی نے اپنا گلا کٹوانے کے بجائے اسلام کا مصنوعی لبادہ اوڑھ کر کسی غیرحتمی مسیح موعود کے انتظار کو ترجیح دی ہے کیونکہ مسیح کے انتظار میں رہنا یہودی علم الکلام میں لازمی سمجھا جاتا تھا۔ اس حوالے سے پہلی صدی عیسوی کے مشہور ربائی یوحنان بن زکائی کاقول معروف ہے کہ "اگر تمہارے ہاتھ میں ایک ننھا پوداہواورالمسیح کی آمد کا اعلان ہوجائے تو وہ پودالگاکرالمسیح کے استقبال میں لگ جاؤ"۔
مسیح موعود کے نام لے کر اٹھنے والے مذہبی شخصیات کی ناکامیوں نے جدیدالخیال لوگوں کو ایک وقت ایسا بھی سوچنے پر مجبور کردیا کہ اب کوئی مسیح نہیں آنے والا ہے۔اس سلسلے میں پہلا اعلان ربائی ہللیل نے چوتھی صدی عیسوی میں کیا کہ " اسرائیل کے پاس کوئی اب آمد کے لیے کوئی مسیح نہیں رہا۔"(Sanh 98b)
1885 میں پیٹسبرگ کی کانفرنس کے موقع پر آج کے جدیدالخیال یہودی نظریہ مسیح موعود کو یہودی مذہب کا ایک غیرضروری عنصر کہہ کر اپنی جان چھڑا چکے ہیں۔ یہودنامسعود کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اختراعی روایات کا جو قلاوہ ان کے آباء نے ان کے گلے میں ڈالا تھا وہ انہوں نے اپنے گلے سے نکال کر خود کو آزاد کرلیا تھا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو اپنی چونتیس سوسالہ تاریخ میں کبھی بھی المسیح کی آمد سے کسی گناہوں کی نجات کی امید وابستہ نہ تھی بلکہ وہ المسیح کی آمد سے سیاسی غلبہ اور دنیاوی سلطنت کی حصول کے خواہشمند تھے۔اگر ان کا مقصود روحانی نجات ہوتی تووہ کبھی بھی اس کی آمد کا انکار نہیں کرتے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی واضح ہوتا ہے کہ المسیح کی ذات مثل موسیٰ سے جدا ہے تبھی یہودنامسعود نے بآسانی المسیح کی آمد کاانکار کردیا وگرنہ مثل موسیٰ کے انکار پر عذاب الٰہی کے نزول کی وعید کے ہوتے ہوئے المسیح کا انکار کرنا ان کے لیے اتنا سہل نہ ہوتا۔
 یہود کے نزدیک یہ دانشمندی نہیں کہ ایک لاحاصل بحث میں خود کو الجھا کر کسی غیرموجود کے آنے کے انتظار میں اپنی زندگی کھپائی جائے۔مسیح کوآنا ہے تو آجائے نہ آنا تونہ آئے موت کو تو آنا ہے۔خدائے تعالیٰ ہمیں صحیح فہم کے ساتھ تاریخ کو سمجھنے اورحق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
تحقیق وتحریر:عبداللہ غازیؔ
Bibliography
 Everyman’s Talmud, Abraham Cohen, Schocken Books Inc New York 1975
 World Religion: The illustrated guide, Michael D. Coogan, Duncon Baird Publication, London
 How to be a Perfact Stranger: The essential Religious Etiquette Hand Book, Staurt M, Matlins, Sky light Path Publishing, 2006 4th Edition
Videos

Recent Post