Latest News

Featured
Featured

Gallery

Technology

Video

Games

Recent Posts

Thursday, 5 July 2018

یسوع اور یہودی ربائی آمنے سامنے


 یسوع اور یہودی ربائی آمنے سامنے
میں تم سے سچ کہتاہوں جس کے کان ہوں وہ سن لے کہ "تم اپنے باپ شیطان سے ہواورچاہتے ہو کہ اپنے باپ کی خواہشوں کے موافق کرو۔وہ تو شروع سے ہی خونی تھا اورسچائی پر قائم نہ رہا کیونکہ اس میں سچائی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تواپنے ہی سے بولتا ہے۔ کیونکہ وہ جھوٹا بلکہ جھوٹے کاباپ ہے۔۔۔۔۔۔جوخدا سے ہوتاہے وہ خداکی باتیں سنتا ہے تم اس لیے نہیں سنتے کیونکہ خدا سے نہیں ہو"۔[1]
          ہیکل میں خداند کی دی ہوئی شریعت کے مطابق عبادت میں دل وجان کی گہرائی سے مصروفیت کے دوران جب یہ کلمات میری سماعت سے ٹکرائے توباوجود کوشش کے میں اپنی عبادت میں یکسوئی برقرار نہ رکھ سکا۔میں نے مڑ کر دیکھا تو شرع کے علماء وفقہاء کامجمع تھا جو کسی شخص کے گرد دائرہ بنائے کھڑے اس سے مباحثہ میں مصروف تھے۔ان علماء فقہاء کی موجودگی نے میری توجہ کو ان کی طرف مبذول کیا اور میرے دل میں شدید خواہش پیداہوئی کہ میں بھی ان کی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے ان کےمخاطب سے کلام کرسکوں جس کے فقط ایک جملے نے ہی میری سماعتوں میں ہلچل مچادی تھی۔مگر جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچ کر ان میں شامل ہوا تو میں نے عظیم استاد یسوع مسیح کو ان کے درمیان کھڑا پایا۔اس کی موجودگی میرے لیے قابل تعجب تھی اور اُس کی طرف سے ایسے کلمات کی مجھے ہرگز توقع نہیں تھی جوکہ کچھ ہی دیرقبل میں نے سن کر اس گفتگو میں شریک ہونے کافیصلہ کیا۔
ہیکل میں اس سے سامناہونے  سے قبل میں پہاڑی پر اس کاعظیم الشان وعظ سن چکاتھا جس نے اِس کے لیے انتہادرجے کی عقیدت میرے دل میں پیدا کردی تھی اور میری خواہش تھی کہ میں بھی شرع کے اس زبردست استاد سے کچھ سوالات کرکے شریعت کا کچھ علم مزید سیکھ سکوں مگر چند ساعتوں قبل میرے کانوں سےٹکرانے والے اِس کے الفاظوں نے مجھے،میری اُس خواہش پر ،نظرثانی کرنے پر مجبور کردیاتھا۔بےشک مجھے اس کا پہاڑی وعظ سننے کے بعد اس کے کلام کی لطافت نے مسحور کررکھاتھا کیونکہ اُس  کے کلام کی نوعیت بھی اُسی طرز کی تھی کہ جس طرح موسیٰ نے کوہ سینا پر اسرائیل سے کلام کیا تھا کہ "'تم' اس دن کویاد رکھنا جس میں 'تم'مصرسے جوغلامی کاگھر ہے نکلے کیونکہ خداوند اپنے زور بازو سے 'تم 'کووہاں سے نکال لایا"۔[2]
مبارک ہو'تم'جوغریب ہوکیونکہ خداکی بادشاہی 'تمہاری'ہے
مبارک ہو'تم'جواَب بھوکے ہو کیونکہ آسودہ ہو گے
مبارک ہو'تم'جواب روتے ہو کیونکہ ہنسو گے[3]
میری یہ سوچ اس یقین کامحرک بن رہی تھی کہ تورات میں موعود اسرائیل کے بھائیوں سے آمدہ  'وہ نبی'یقینا یہی ہے کیونکہ اِس کے کلام میں میں نے موسیٰ کے اُس تکلم کے وصف کو پایاجوکوہ سینا پر لفظ'تم"کے ساتھ متصف ہے۔قریب تھا کہ میرا ایقان اس سوچ پر قوی ہوتا،یکدم مجھے چنددن قبل ہی اِس(یسوع) کاشرع کاعلماء وفقہاء سے کیا گیاایک اور مکالمہ یادآیا جہاں اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ
تمہارے باپ دادا نے بیاباں میں من کھایااورمرگئے۔[4]
مجھے یاد آیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے فقیہوں  سے بات کرتے ہوئے یہی طرزتخاطب اختیار کیا تھاکہ "تمہاری شریعت میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔"[5]اوریہ کہنے کے کچھ ہی دیر بعد اس نے وہ کہاجس نے مجھے اس بات پرابھاراکہ میں بھی مجمع میں  شامل ہوکر اس کی گفتگو سنوں۔لیکن پہاڑی پراسرائیل سے خطاب اور اِس وقت اُس کے اسرائیل کے فقہیوں سے خطاب میں کچھ توتھاجونہ صرف مجھے بلکہ مجمع کوبھی بےچین کررہاتھا۔
یقیناً وہ اسرائیل کاداؤدی المسیح ہی تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے المسیح کی حیثیت سے قبول بھی کرلیاتھا ،اس کی  شہرت اسرائیل کے گھرانوں میں بڑھتی ہی جارہی تھی  کیونکہ اُس نے 'خداکی بادشاہت 'کی منادی کوفقط اسرائیل تک ہی محدود کررکھا تھامگر اس کے باوجودبھی اس کا پہاڑی پردیاگیاوعظ سننے کے بعد کی گفتگو میں ایسا محسوس ہوتاتھا کہ داؤدی المسیح تودرکنار وہ(یسوع) تو خود کو اسرائیل میں سے بھی نہیں سمجھتا۔آخربیاباں میں من کھانے والے اسرائیل کے اجداد –جنہیں اُس نے'تمہارے اجداد' کہہ کرتعبیرکیا-کیا اُُس کے خود کے بھی اجداد نہ تھے؟توپھر وہ کیوں اس تحقیرانہ انداز سے اسرائیل کے اسلاف کے متعلق گفتگو کررہاتھا ؟ اس کا یہ انداز میرے لیے شدید الجھن کاباعث تھا ۔اس پر مستزاد ، 'تمہاری شریعت'کہہ کر  شرع کے علماء پر اُس کاتنقید کرنا میرے لیے ماورائے تفہیم تھا۔آخر یہ اُسی شریعت ہی کی تو بات کررہاتھا جس کی تکمیل اِس نے –چنددن قبل-اپنی آمد کوقراردیاتھا۔[6]وہی شریعت جسے خدا نے موسیٰ کی معرفت اسرائیل کو ودیعت کیاتھا،اُ پر بھی اِس شریعت کا بحیثیت یہودی ویسا ہی اطلاق تھا جیسا کہ کسی اورعام یہودی پر تھا،توپھر چنددن کے فرق نے ہی  اُس کے انداز وکلام کو اس  قدر کیوں تبدیل کردیاتھاکہ وہ خود کوایک اسرائیلی کے بجائے گویاکہ غیرقوم کاکوئی فرد سمجھ کر خدا کی مقدس شریعت سے خود کولاتعلق ظاہر کرکے اپنا ناطہ بھی یہودیت سے ترک کرنے جیسی گفتگو کررہاتھا؟
فقہیوں سے اس کی گفتگو جاری تھی،میں جوکہ اس کے قریب پہنچ گیاتھا،مگر اس نے میری طرف کوئی توجہ نہیں دی۔وہ مسلسل فقیہوں اور ربائیوں کے ساتھ گفتگو میں  مصروف رہا اور میں اس موقع کی تلاش میں کہ کب مجھے اس سے استفسار کاموقع ملے۔چنانچہ میں نے اس کے یک لحظہ توقف کرتے ہی فوراً یہ سوال کردیا:
اے استاد!تُو اسرائیل کو اُس کے اسلاف سمیت شیطان کیونکر کہتاہے؟کیا تُو نہیں جانتا کہ (تجھ سمیت)ہم کن کی اولادیں ہیں؟ ابراہیم، اسحاق ، یعقوب جس طرح ہمارے باپ ہیں،اُسی طرح کیا یہ سب تیرے باپ نہیں؟کیا ہماری طرح توبھی ہمارے باپ ابراہیم سے کیے گئے اُس عہد کی پاسداری میں شامل نہیں کہ ''تُو میرے حکموں پرچل اور کامل ہو"[7]؟اس عہد کے وسیلے سے تو اسرائیل کی مرضی خداکی خواہش کے ماتحت ہے توپھر تو کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم(یہود)شیطان سے ہیں او راس کی مرضی پوری کرنا چاہتے ہیں؟
اُس نے ایک پُرجلال نظر مجھ  پرڈالی مگر کچھ نہیں کہا۔اس کی گفتگو ربائیوں سے جاری تھی اور ہیکل کے پرنور ماحول میں ان کی آوازیں گونج رہی تھیں مگر میرا ذہن ان کی گفتگو سننے کے بجائے اُس کے انہی کلمات میں الجھا ہواتھا جن کاتسلی  بخش جواب تاحال مجھے نہ مل سکاتھا۔'تمہاری تورات'کہہ کر اُس نےنجانے کس تورات کی بات کی تھی کیونکہ ہماری تورات،اسرائیل کی تورات ،خداوند کی شریعت  تو وہی ایک ہی تھی جس پر نہ صرف وہ (یسوع)خودبھی عامل تھا بلکہ پہاڑی پر اپنے متبعین کو بھی اس پر عمل کرنے کی اس نے بھرپور تاکید کی تھی۔مگر کوہ سیناپر موسیٰ کو ودیعت دی گئی شریعت کی کتاب میں تو کہیں بھی شیطان کا ذکر نہیں پایاجاتا؟توپھر یہ شیطان کون ہے جسے وہ اسرائیل کاباپ قرار دے رہاہے؟ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ ابلیس کے متعلق کہنا چاہ رہاہو مگر تورات میں تو ابلیس کے لیے بھی کہیں نہیں لکھا کہ وہ شروع سے ہی خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہاہے۔توپھر  آخر یہ عظیم استاد کس کی بابت گفتگو کررہاتھا؟ اپنے پہلے سوال کو ردکیے جانے کے بعد مجھ میں دوسرا سوال پوچھنے کی ہمت نہیں تھی لہٰذا میں نے یہ اُس نے نہیں پوچھا۔
          شریعت کا عالموں اور فقیہوں سے گفتگوکرتے ہوئے اب اُس (یسوع) کی آواز خاصی بلند ہوچکی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں موجود افراد کے رنگ اور تیور بدلتے جارہے تھے۔ ایک دوستانہ ماحول میں کیے جانے والے مکالمے کاماحول ایک تصادم انگیز ماحول کی صورت اختیار کرنے جارہا تھا جس کی وجہ اس کی ایسی گفتگو تھی جوسراسر اسرائیل کی مخاصمت پر مشتمل تھی اور بحیثیت المسیح اسے ایسی اپنی ہی قوم سے اس طرح گفتگو کرنا ہرگز زیب نہیں دے رہاتھا۔
          اس کی گفتگو سن کر میرے دماغ میں یہ خیال پیدا ہواکہ نجانے کیوں اس کی گفتگو اُسے(یسوع کو) اسرائیل سے ممیز وممتاز کرکے باقی ماندہ دیگر اسرائیل کو خدا  کاچنیدہ وبرگزیدہ قرار دینے کے بجائے اُس کانافرمان  اورباغی بناکرپیش کررہی ہے؟ ایک اسرائیلی یہودی ہوکر اُس کااپنے ہی لوگوں سے یہ رویہ رکھنا ناقابل تفہیم بات  تھی۔ مجھےیہ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کچھ دن پہلے جس لفظ'تم'کے ذریعے وہ اسرائیل کو خوشخبری سنارہاتھا آج وہی لفظ'تم' کیسے وعید وعداوت میں تبدیل ہوکر پورے اسرائیل کو سراسر خداکی طرف سے ملعون اور متروک قرار دے رہاہے؟کیونکہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے اُس نے کہا تھاکہ "جوخدا سے ہوتاہے وہ خداکی باتیں سنتا ہے تم اس لیے نہیں سنتے کیونکہ خدا سے نہیں ہو"۔ اس کی یہ بات مجھ سمیت دیگر یہودیوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہ تھی جنہوں نے اپنی زندگیوں کو خداوند کی خوشنودی کے حصول کے لیے وقف کررکھا تھااوراس مقصد کے حصول کے لیے کبھی کسی بھی قسم کی جانی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
          توکیا ہمارے سب اعمال ناراست اور بے کار ٹھہرائے جائیں گے؟ کیا خداوند کے حضور چڑھائی جانے والی ہماری قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی؟ کیا کفارے کادن بھی ہمیں پاک نہیں کرسکےگا؟کتنے ہی سوالوں نے بیک وقت میرے ذہن میں جنم لیا ۔میں نے یک لحظہ سوچا مگر خود ہی اپنی سوچ کورد کردیا۔ کیونکہ اُس(یسوع) کی باتوں کو پرکھنے کے لیے میرے پاس کسوٹی عظیم توراتھی جوکہ ہرآن،ہر لمحہ وہر گھڑی میری رہنمائی کے لیے موجود تھی اور اس تورات کی موجودگی میں مجھے اس طرح کے سوالات سے پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے یاد آیاکہ کوہ سینا پر دی جانے والی تورات (زبانی تورات) میں خداوند نے فرمایا۔
خداوند نے موسیٰ سے کلام کرتے ہوئے اسرائیلیوں سے کہا:میں تمہاراخداوند خداہوں۔
ربائی سائمن بن یوحائی کہتے ہیں:"خداوند نے کلام کرکے یہ سب باتیں فرمائیں کہ میں خداوندتیرا خداہوں جو تجھے ملک مصر یعنی جائے غلامی سے نکال لایا"۔(خروج 20:2)
'کیامیں تمہارا خداوند ہوں جس کی حکومت تم نے مصر میں اپنے اوپر لی تھی؟
اُنہوں(اسرائیل) نے اُس (خدا) سے کہا:"بےشک"
"بےشک  تم نے میری بادشاہی کو تسلیم کرلیا ہے"
'انہوں نے میرے آئین کوتسلیم کیا:تمہارے لیے میرے سوا کوئی خدانہ ہوگا۔'
دوسرے لفظوں میں یہاں یہ کہاگیاہے کہ"میرا تمہاراخداوند خداہوں "کامطلب "کیامیں وہ ہوں جس کی بادشاہی تم نے کوہ سیناپرتسلیم کی"ہے؟
اُنہوں(اسرائیل) نے اُس (خدا) سے کہا:"بےشک"
"بےشک  تم نے میری بادشاہی کو تسلیم کیا ہے "
'انہوں نے میرے قوانین کوتسلیم کیا:تُم ملک مصر کے اعمال کونہیں دہراؤ گے جہاں تم سکونت پذیررہے اور نہ ہی ملک کنعان کے قوانین کی پیروی کروگے جس کومیں تم سے لیتاہوں'۔[8]
          لہٰذا جب بحیثیت اسرائیل ہم خداوند کو سنتے اور اس کی تسلیم کرتے ہیں –جس کی تصدیق وہ (خدا)خود تورات میں بھی کرتاہے- تو پھر وہ کیسے یہ کہاجاسکتاہے کہ اسرائیل خدا سے نہیں؟
          میری سوچ کاتسلسل لوگوں کے شوروغل بڑھ جانے سے ٹوٹ چکاتھا۔اس سے قبل کہ میں صورتحال سمجھتا اور اُس سے سوال کرکے اپنی ذہنی خلش دور کرتا،فقہاء سے اس کی گفتگو ایک جدال کی صورت اختیار کرچکی تھی  اورعنقریب کسی بھی قسم کاناخوشگوار واقعہ ہوسکتاتھا۔صورتحال انتہائی نازک تھی۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے انہیں روکوں؟ وہ اُسے مارنے کے لیے پتھر اُٹھا چکے تھے مگر وہ ،وہ تواپنی باتیں کہہ کر نجانے  کب کاکدھر نکل گیاتھا۔میں نے اُس کی تلاش میں ہیکل کے دروازے کارخ کیا جہاں پہنچ کر میں نے دور اسے جاتے ہوئے دیکھا۔وہ چھپ کر ہیکل سے نکل کر جاچکاتھا۔

[1] یوحناباب8فقرہ44تا47
[2] خروج13:3
[3] لوقا6:20
[4] یوحنا6:49
[5] یوحنا8:17
[6] متی5:17
[7] پیدائش17:1
[8]  (Sifra to Adhare MOT CXCIV:II.1)

Friday, 25 May 2018

کلیسائی دہ یکی۔ بائبل مقدس کی نظر میں

اس تحریرکوپی ڈی ایف میں حآصل کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔


کلیسائی دہ یکی ۔بائبل مقدس کی نظر میں
تحقیق وتحریر:عبداللہ غازیؔ
کیا کوئی آدمی خدا کو ٹھگے گا ؟ پر تم مجھ کو ٹھگتے ہو اورکہتے ہو ہم نے کس بات میں تجھے ٹھگا؟ دہ یکی اور ہدیہ میں ۔پس تم سخت ملعون ہوے کیونکہ تم نے بلکہ تمام قوم نے مجھے ٹھگا۔ پوری دہ یکی ذخیرہ خانہ میں لاو تا کہ میرے گھر میں خوراک ہو اور اسی سے میرا امتحان کرو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھول کر برکت برستا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس اس کے لے جگہ نہ رہے۔( ملاکی باب3فقرہ8تا10)
          پوادران اورمسیحی علماء کے لیے بائبل کاسب سے پسندیدہ ترین مقام ہے اور اس کی اہمیت میں اُس وقت مزیداضافہ ہوجاتاہے جب کوئی مسیحی ایماندار کم دہ یکی اداکرنے کی کوشش کرتاہے۔اس وقت بڑے زوروشور کے ساتھ اس کے سامنے اس مقام کی تلاوت کرکے اس سے زیادہ مال نکلوایاجاتاہےاور مسلسل اسے یہ باور کرایاجاتاہے کہ خداوندخوشی سے دینے والے کوعزیزرکھتاہے۔
          موجودہ چرچوں میں ان گنت مرتبہ پلپٹ سے یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ"خدانے تمہیں دہ یکی اداکرنے کاحکم دیاہے اوراگرتم یہ ادا نہیں کرتے ہوگویاتم خدا کولوٹ رہے ہواور خود کولعنت کے ماتحت رکھ رہے ہو"۔ایک مسیحی ایماندار کوپُرزورطریقے سے یہ باور کرایا جاتاہے کہ تمہاری دہ یکی اور نذرانے خدا کے لیے ضروری ہیں تاکہ خدا کاکام جاری رہے۔یعنی بظاہر معلوم ہوتاہے کہ خداکا صرف کام ہی یہی ہے کہ وہ پادریوں کے جتھے کو تنخواہیں دے اور ان کی روزی روٹی کے بندوبست کرنے میں لگارہے۔
          اس طرح کے اصرار کے ساتھ مسیحی ایمانداروں سے دراصل یہ منوایاجارہاہے کہ خداکے لوگوں کو اپنی ہفتہ وار آمدنی کادسواں حصہ دہ یکی اداکرنا ضروری قراردیاگیا ہے چنانچہ  جب مسیحی ایساکرتے ہیں توسمجھتےہیں کہ انہوں نے خدا کوراضی کرلیا ہے اوروہ امید رکھ سکتےہیں کہ خدا انہیں معاشی طورپر برکت دے گا۔لیکن جب وہ یہ اداکرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں توسمجھتے ہیں کہ وہ نافرمان ہیں اور لعنت کے ماتحت آنے والے ہیں۔
          یہاں دہ یکی سے متعلق چندسوالات پیداہوتے ہیں کہ بائبل کی اس کے متعلق کیاتعلیم دی ہے؟کیابائبل نے اس کےمتعلق وہی تعلیم دی ہے جوپادری  صاحبان دیتےہیں؟یاپھر کہیں اس بابت دی جانے والی تعلیمات بائبل  مقدس کے متضاد تونہیں ؟کیا مسیحی اس بات کے پابندہیں کہ وہ پادریوں کے پیٹ کاجہنم بھرنے کے لیے اپنی جیب سے رقومات اداکریں؟ان سوالات کے جوابات انتہائی چونکادینے والے ہیں۔
کیا دہ یکی بائبل کی تعلیم کے مطابق ہے؟
دہ یکی کاذکر یقینابائبل میں موجود ہے مگر اس کاتعلق مسیحیت کے بجائے یہودیت سے ہےاور یہ قدیم اسرائیل سے تعلق رکھتی ہے۔یہ دراصل اسرائیل کامذہبی ٹیکس تھا۔عہدجدید اور ابتدائی مسیحی کلسیاء میں دہ یکی کاکوئی تصور نہیں ملتااور نہ ہی رسولوں اور آبائے کلیساء نے کبھی دہ یکی اداکی اور نہ ہی اس کی ادائیگی کی کبھی تعلیم دی۔اکثرلوگ دہ یکی کے متعلق معمولی سابھی غوروفکر نہیں کرتے کہ دہ یکی کے متعلق بائبل کی تعلیمات کیا ہیں ؟اورآیاان تعلیمات کااطلاق ایک مسیحی پرہوتابھی ہے توکیسے؟
          دہ یکی کامطلب دسواں حصہ ہے۔یعنی اپنی محصلہ کل آمدنی کادسواں حصے خدا کے لیے دینا۔دہ یکی کی تین اقسام خدا نے اسرائیل کے لیے بطور ٹیکس رائج کی تھیں۔
1.  زمین کی پیدوارکادسواں حصہ لاویوں کے لیے جنہیں کنعان کی زمین میں سے کچھ بھی حصہ میں نہیں ملاتھا۔( احبار باب27فقرہ30تا33،گنتی باب18فقرہ21تا31)
2. یروشلم میں مذہبی تہواروں کے اہتمام کی اعانت کے لیے زمین کی پیداوارکاحصہ دینا۔اگرکسی خاندان کے لیے اسے یروشلم لانامشکل ہوتاتھاتو وہ اس کے بدلے رقم دے سکتاتھا۔( استثناء باب14فقرہ22تا27)
3.  وہ دہ یکی جوہرتین سال بعد مقامی لاویوں،بیواؤں،مسافروں اورغریبوں کے لیے جمع کی جاتی تھی۔( استثناءباب14فقرہ28تا29، استثناء باب26فقرہ12تا13)
یہ حقیقی بائبلی دہ یکی ہے جس کے مطابق خدا نے سالانہ 23.3فیصد سالانہ اداکرنے کاحکم دیاتھانہ کہ دس فیصد اور یہ دہ یکی زمین کی پیداوارپرمشتمل تھی جس میں زمین کابیج ،زمین کاپھل ،بھیڑ بکریاں اور گلے شامل تھا۔یہ سب پیسے کے بجائے زمین کی پیداوار تھی۔اسی طرز کا کچھ نظام  ہم دورجدیدکےٹیکس سسٹم کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آج کے دور میں بھی بہت سے ٹیکس سسٹم انہی مقاصد کے تحت چل رہے ہیں۔
 اسرائیلیوں کو اپنے قومی خدام(کاہن)، مقدس تہوار اور غرباء(مسافر،بیوائیں وغیرہ)کی مدد دہ یکی کے ذریعے کرنے کاحکم تھااوروہ دہ یکی اداکرکے اسی فریضہ کوسرانجام دیاکرتے تھے۔بائبل مقدس میں جابجا اس کاذکرآیاہے۔تورات میں مذکور ہے۔
"خدایتیموں اور بیواؤں کاانصاف کرتاہے اور پردیسی سے ایسی محبت رکھتا ہے کہ اسے کھانا اور کپڑا دیتاہے۔سوتم بھی پردیسیوں سے محبت رکھنا۔"( استثناء10:18)
تورات ہی میں ایک اور جگہ مذکورہے۔
پھر توخداوند اپنے خداکے آگے یوں کہناکہ میں نے تیرے احکام کے مطابق جو تونے مجھے دیئے مقدس چیزوں کو اپنے گھر سے نکالا اور ان کولاویوں اور مسافروں اور یتیموں اور بیواؤں کودے بھی دیااور میں نے تیرے کسی حکم کونہیں ٹالا اور نہ ان کوبھولا۔( استثناء26:13)
دہ یکی کی ادائیگی کاحکم چونکہ اسرائیل کو تھا لہٰذا ابتدائی  مسیحیوں  نے اس کی ادائیگی کو کبھی بھی ضروری نہ سمجھا۔اناجیل اربعہ سے اعمال کی کتاب تک،ہمیں ایساکوئی حوالہ نہیں ملتاجس سے اس حکم کاادراک ہوکہ دہ یکی یہودیوں کی طرح مسیحیوں پر بھی فرض ہے بلکہ اس کے برعکس مقدس پولس رسول فرماتے ہیں کہ  یسوع کی صلیبی موت کے ساتھ ہی حکموں کی دستاویز(احکام شرع)اوروہ سب احکامات جو یہودی سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی مصلوب ہوکردفن ہوگئے ہیں(کلسیوں2:14) ہذا اب ان احکام کوبروئے کار لاتے ہوئے مسیحیوں پر دہ یکی ادانہ کرنے پرمجرم ہونے کافتویٰ عائد نہیں کیاجاسکتاہے۔چنانچہ شروع سے ہی مسیحیوں کو یہودی مخالفت میں یہی تعلیم دی گئی کہ جس طرح وہ بیلوں او ربکروں کی قربانیاں نہیں کرسکتے اسی طرح انہیں  دہ یکی بھی نہیں اداکرنی چاہیے۔
دہ یکی بنیادی طورپر یہودیت سے تعلق رکھتی ہےمگرابتدائی صدی عیسوی میں کچھ بزرگ دہ یکی رضاکارانہ دیتے تھے اور دہ یکی کی یہ رقم صرف بیماروں،غریبوں،بیواؤں،مسافروں اور قیدیوں پر خرچ کی جاتی تھی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مقدس پولس کی تعلیمات پر کان نہیں دہرےتھے۔ان مقدسین کے برخلاف جبکہ آج اگر ہم دیکھیں تو غریب عوام کادہ یکی کے نام پر خون چوساجاتاہے اور یہ ساری رقم مذہبی پیشوائیت  ڈکار جاتی ہے۔
دہ یکی کاجواز گھڑنے کے لیے اکثرپادری بائبل مقدس کاایک مقام پرزورانداز سے بیان کرتے ہیں جہاں بزرگ ابراہیم ملک صدق کاہن کو دہ یکی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
"اور ملک صدق سالم کابادشاہ روٹی اور مے لایااور وہ خداتعالیٰ کاکاہن تھا۔اور اسس نے اس کو برکت دے کر کہا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے جو آسمان اور زمین کامالک ہے ابرام مبار ک ہو۔اور مبارک ہے خداتعالیٰ جس نے تیرے دشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کردیا۔تب ابرام نے سب کادسواں حصہ اس کو دیا۔اور سدوم کے بادشاہ نے ابرام سے کہاکہ آدمیوں کو مجھے دےدے اور مال اپنے لیے رکھ لیے۔پرابرام نے سدوم کے بادشاہ سےکہا کہ میں نے خداتعالیٰ آسمان اور زمین کے مالک کی قسم  کھائی ہے کہ میں نہ تو کوئی دھاگا،نہ جوتی کاتسمہ  نہ تیری اور کوئی چیز لوں تاکہ تویہ نہ کہہ سکے کہ میں نے ابرام کو دولتمند بنادیا۔سواس کے جوجوانوں نے کھالیااوران آدمیوں کے حصے کے جو میرے ساتھ گئے سوغانیراوراسکال اور ممرے اپنااپنا حصہ لے لیں۔"( پیدائش باب14فقرہ18تا24)
          اولاً تو یہ پورا واقعہ ہی مشکوک ہے مگر ابھی اس کی استنادی وتاریخی حیثیت زیربحث نہیں ہے لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم فقط اپنے موضوع پر ہی گفتگوکرکے حتمی نتائج کااستخراج کریں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس واقعہ میں بزرگ ابراہیم نے مکمل طورپر رضاکارانہ دہ یکی اداکی تھی۔انہیں کسی نے اس ادائیگی کی ترغیب نہیں دی اور نہ ہی زیادہ دینے پر اکسایا بلکہ انہوں نے بالرضاورغبت جومناسب سمجھا،پیش کردیا۔اس سے پتہ چلتاہے کہ بزرگ ابراہیم کی دہ یکی واجب نہ تھی او رنہ ہی خدانے اس کو ادا کرنے کاحکم دیاتھا۔نیز بزرگ ابراہیم نے دہ یکی غنیمت کے اُس مال سے ادا کی تھی جوایک زبردست لڑائی کے بعد ان کے ہاتھ لگاتھا۔ انہوں نے اپنی روزمرہ کی آمدنی یاجاگیر سے کبھی کوئی دہ یکی ادانہیں کی اورنہ ہی ایساکرنے کاکبھی حکم دیا۔ان کادہ یکی اداکرنا ایساہی تھا کہ جیسے کسی کاکوئی انعام نکل آئے اور وہ اس کاکچھ حصہ شکرکے طورپربخوشی خداکے راستے میں دےدے۔
ایک اورانتہائی اہم نقطہ یہ ہے کہ بزرگ ابراہیم نے اپنی ایک سوپچھترسالہ زندگی میں فقط ایک بار یہ دہ یکی اداکی۔ داخلی وخارجی شہادات سے بھی اس مقام کے علاوہ ان کی طرف سے کسی قسم کی کوئی دہ یکی کی ادائیگی کاثبوت نہیں ملتاہے۔ہمارے پاس ایسی کوئی گواہی نہیں کہ انہوں نے دوبارہ سے اپنے اس فعل کااعادہ کیاہو۔لہٰذااگر دہ یکی کی ادائیگی کو کسی نہ کسی درجے میں تسلیم کیاجائے تو فقط اتنا ہی ماناجاسکتاہے کہ جس طرح بزرگ ابراہیم نے زندگی میں صرف ایک بار دہ یکی اداکی،بالکل اسی طرح ایک مسیحی بھی زندگی میں فقط ایک بار دہ یکی اداکرنے کاپابند ہے۔
مسیحیوں پادریوں کی طرف سے ایک بات نہایت متعجب معلوم ہوتی ہے کہ وہ بزرگ ابراہیم کی طرف سے دہ یکی اداکیے جانے والے واقعہ کاتوبڑے شدومد سے بیان کرتے ہیں لیکن انہی بزرگ ابراہیم کودیئے جانے والےاہم ترین خدائی حکم "ختنہ"کونظرانداز کردیتے ہیں حالانکہ یہ ختنہ بزرگ ابراہیم کی وساطت سے خداکےعہد کی کلید ہے اور خدانے تورات میں نہایت تاکید سے اس حکم کی پاسداری کاحکم دیاتھا اور غیرمختونوں کوعہدسے خارج تک قراردیاتھا۔
تورات میں مرقوم ہے۔
"میراعہدجومیرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیسری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانو گے سویہ ہے کہ تم میں سے ہرایک فرزندنرینہ کاختنہ کیاجائے۔اورتم اپنے بدن کی کھلڑی کاختنہ کیاکرنا اوریہ اس عہدکانشان ہوگاجومیرے اور تمہارے درمیان ہے۔تمہارے یہاں پشت درپشت ہرلڑکے کاختنہ جب وہ آٹھ روزکاہوکیاجائے،خواہ وہ گھر میں پیداہوخواہ اسے کسی پردیسی سے خریدا ہوجوتیری نسل سے نہیں۔لازم ہے کہ تیرے خانہ زاد اور تیرے زرخرید کاختنہ کیاجائے اورمیراعہد تمہارے جسم میں ابدی عہد ہوگا۔اور وہ فرزند جس کاختنہ نہ ہواپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالاجائے کیونکہ اس نے میراعہد توڑا۔"( پیدائش باب17فقرہ10تا14)
یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ ختنہ کاانکارکرکے الہی احکام کے مطابق مسیحی حضرات بزرگ ابراہیم کے عہد سے ہی خارج  ہوگئے توپھروہ کیسے بزرگ ابراہیم کے کیے ہوئے عمل سے برکت حاصل کرسکتےہیں؟اگر وہ مقدس پولس کی تعلیم پر عمل پیراہوکر عہدکے نشان"ختنہ"کوترک کرچکے ہیں توپھر کلیسیاء میں مقدس ابراہیم کے نام پر دہ یکی وصول کرنے کاکوئی جواز باقی نہیں رہتاہے۔بصورت دیگر یہی سوال پیداہوتاہےکہ جب مقدس ابراہیم کی دہ یکی مسیحیت میں چل سکتی ہے توختنہ کیوں نہیں چل سکتا؟
یہ بات کہہ کر لوگوں کو ڈرایادھمکایاجاتاہے کہ ملاکی باب 3میں دہ یکی ادانہ کرنے پر خدا کی طرف سے وعید سنائی گئی ہیں  لیکن اگر اس مقام کاسیاق وسباق کے ساتھ مطالعہ کیاجائے تو بات واضح ہوجاتی ہےکہ یہاں براہ راست اسرائیل سے خطاب ہے جہاں لوگ موسیٰ کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی دہ یکی اور نذرانے اداکررہے تھے۔اس نظام میں رخنہ ڈالنے والوں کوملاکی کی کتاب چور قراردیتی ہے اور یہ بالکل اس اسلوب میں ہے کہ جیسے اگر آج امریکاکے لوگوں کی بڑی تعداد ٹیکس دینے سے انکار کردے توقانون کی نظر میں یقینا یہ چوری ہی شمار ہوگا۔
          اسی طرح خدانے دہ یکی بیت المال کی کوٹھریوں میں لانے کاحکم دیاتھا۔یہ بیت المال ہیکل کے دالان میں واقع تھے ۔یہ کمرے لاویوں،غریبوں،یتیموں اوربیواؤں کے لیے دہ یکی کی وصولی کے لیے مخصوص تھے (جوکہ پیداوارتھی نہ کہ روپیہ پیسہ)۔ملاکی کتاب  میں خدافرماتاہے۔
"اور میں عدالت کے لے تمہارے نزدیک آوں گا اور جادوگروں اور بدکاروں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کے خلاف اور ان کے خلاف بھی جو مزدوروں کو مزدوری نہیں دیتے اور بیواوں اور یتیموں پر ستم کرتے اور مسافروں کی حق تلفی کرتے یہاں اور مجھ سے نہیں ڈرتے "( ملاکی 3:5)
          اس فقرے سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ دہ یکی کے اصل حقدار،بیوائیں،یتیم اور مسافر ہیں اور اسرائیلی لوگ انہی تینوں قسم کے افراد سے دہ یکی روک لیا کرتے تھے چنانچہ خدانے ملاکی کی کتاب میں اسی جرم کوبیان کیاہے۔
          مسیحی دوستوں کو اس مقام  پرآکر سوچنا چاہیے کہ ہزاروں مرتبہ دہ یکی کے فضائل سناکر لاکھوں روپے کھرے کرنے والے مذہبی پیشواؤں نے کتنی بار اس مقام کو پلپٹ سے واضح کرنے اور تشریح کرنے کی کوشش کی ہے ؟آپ کبھی بھی چرچ میں بائبل کے اس مقام کے متعلق گفتگو نہیں سنیں گے کہ یہ قضیہ کس متعلق وارد ہواہےاور اس کاتاریخی اور بائبلی پس منظرکیاہے۔




دہ یکی کی ابتداء
          دوسری صدی عیسوی میں کچھ لوگوں نے یہ خیال پیش کیاکہ جس طرح دہ یکی کے ذریعے لاویوں کی اعانت کی جاتی تھی اسی طرح کلیسائی عملے کی امداد بھی دہ یکی کےذریعے کی جائے۔مگر یہ خیال نہایت ہی فرسودہ تھا کیونکہ پہلی صدی عیسوی میں ہیکل کی تباہی کے بعد لاویوں کی کہانت کانظام ختم ہوچکاتھا۔اور ابتدائی مسیحی افراد یہ سمجھتے تھے کہ اب ہر مسیحی اپنی ذات میں خود لاوی ہے لہٰذا اگر دہ یکی اداکرنااتنا ہی ضروری ہے تو مسیحیوں کوچاہیے کہ چرچ کودینے کے بجائے دہ یکی آپس میں ہی ایک دوسرے کودیں۔واقعہ تصلیب یسوع کے تین سوسال بعد کچھ مسیحی علماء نے اس بات کی حمایت شروع کی کہ دہ یکی کو ایک مسیحی عمل کے طور پر کلیسائی عملے کی معاونت کے لیے ضروری قرار دیاجائے لیکن یہ نظریات کلی طورپر مقبولیت نہ پاسکے ۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ آٹھویں صدی عیسوی تک دہ یکی کامروجہ نظام موجود نہ تھا۔ایک اسکالرکےمطابق ساتوی صدی تک بمشکل ہی دہ یکی کاذکر کہیں پایاجاتاہے۔
          مسیحی دہ یکی کانظام کوئی مذہبی انتظام نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکومت نظام تھاجوکہ ارتقائے زمانہ کے ساتھ حکومت سے چرچ کی طر ف منتقل ہوگیا۔تاریخ کے کسی قاری پر مخفی نہیں کہ ساتویں اورآٹھویں صدی میں زمینیں لیز پر دینے کاکاروبار یورپی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاتھا۔مغربی یورپ میں دسواں حصہ(دہ یکی)ایک روایتی کرایہ کی رقم تھی جو لیزپرزمین لینے کے سودے کے وقت زمیندار کوادا کی جاتی تھی۔جب چرچ کی ملکیت کی زمینیں یورپ میں پھیلیں تودسواں حصہ زمیندار سے چرچ کی طرف منتقل ہوگیااور لوگوں نے چرچ سے زمین لیز پر لیتے وقت اسے دسواں حصہ دیناشروع کردیاچنانچہ اس کے نتیجے میں پوادران اور کلیسائی ذمہ داران زمیندار(لینڈلارڈ)ہوتے چلے گئے اور دسواں حصہ  کلیسائی ٹیکس کی صورت میں منظرعام پر آیا۔یہ دس فیصد کرایہ کی ادائیگی کے نئے معانی تھے اور انہیں لاوی کی دہ یکی کے طورپر شناخت کیاگیا۔
          آٹھویں صدی سے یورپ کے مختلف علاقوں میں دس فیصدوصول کرناایک قانونی حیثیت اختیارکرچکاتھا اورجب دس فیصد کی ادائیگی کایہ سلسلہ دسویں صدی عیسوی تک پہنچاتو اس کی حیثیت بطور"زمین کاکرایہ"تقریبازائل ہوچکی تھی اور یہ اپنی اصل کھوکرچرچ کودی جانے والی ایک اخلاقی مالی حمایت بن گئی  جوکہ عہدجدید کی تعلیم تھی۔دسویں صدی کے بعد چرچ کے حکم سے یہ دسواں حصہ برائے کرایہِ زمین،ارتقاء پاکر ایک باقاعدہ شرعی مذہبی عمل بن چکاتھاجس سے انحراف اور انکار کی کسی میں جرات نہ تھی۔حکومتی چرچ کو دسواں حصہ لازم وملزوم قرار دےدیاگیاتھا اورکلیسائی عملہ(Clergy) پرزورانداز میں اس کامطالبہ کیاکرتااور حکومتی انتظامیہ اس مطالبہ پر جبراعمل درآمد کرواتی تھی۔اگرچہ آ ج اس کی وہ اہمیت نہیں ہے جتنی اس وقت تھی جب اس کی ادائیگی کو قانوناواجب قرار دےدیاگیاتھامگراس کی عدم ادائیگی کی صورت میں کلیساء میں ایک مسیحی کی کچھ اہمیت باقی نہیں رہتی ہے۔دہ یکی کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مسیحی کویقیناً مجرم قرار نہیں دیاجاسکتا مگر دہ یکی ادانہ کرکے ایک مسیحی کلیسیاء میں گناہگار کہااور سمجھاجاتاہے۔
          آج اگر کوئی مسیحی جوکلیساء میں معمولی ساعہدہ بھی رکھتاہو،اگر دہ یکی ادانہیں کرتاتواسے کلیسائی عہدے سے خارج کردیاجاتاہے۔میراایک واقف کارایک چرچ میں ایلڈر تھا۔وہ باقاعدگی سے دہ یکی اداکیاکرتاتھا مگر پھر اس نے سوچاکہ مجھے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر خدا کے لیے مال دیناچاہیے۔چنانچہ جب اس نے اپنی سوچ کوعملی جامہ پہنایا تو چرچ نے اسے ایلڈرکے عہدے سے خارج کردیااور اس کی وجہ یہ بتائی کہ چرچ کے لیےیہ جاننا  انتہائی ضروری ہے کہ دہ یکی کے ذریعے کون خدا کی مددکررہاہے اور کون نہیں کررہا۔
          آج کےمروجہ نظام کے برعکس تین صدیوں تک مشنریز کو تنخواہیں نہیں دی گئیں۔کانسٹنٹائن پہلا شخص تھا جس نے کلیسائی عملے کی باقاعدہ تنخواہیں جاری کرکے ایک ایسے مضرعمل کی بنیاد ڈالی جس کاعہدجدید اوریسوع دونوں سے ہی کوئی تعلق نہ تھا۔

ساری شیطانیت کی جڑ
          آج اگرایک مسیحی ایماندار اپنے ذاتی فیصلے اور اطمینان کے بغیر آنکھ بند کیے بلاچوں چراں پادری کے ہاتھ پر دہ یکی رکھتاہے تو کلیساء کی نظرمیں یہ عین ایمان اور بائبل کے مطابق ہے لیکن یہی دہ یکی اس مسیحی ایماندار کے لیے اُس وقت وبال جان بن جاتی ہے جب وہ اسے خداکاحکم جانتے ہوئے کسی بھی ناداراور مستحق مسیحی ایماندار کواداکردے۔مروجہ دہ یکی کی ادائیگی کاکلیسائی نظام جبری نظام ہےاوریہ جبر نہ صرف غریبوں پر ظلم ہے بلکہ سراسرانسانیت کے بھی خلاف ہے۔مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ کہہ کر دھتکار دیاجاتاہے کہ اگرتم دہ یکی ادانہیں کرتے توتم خدا کو دھوکہ دیتے ہو۔یسوع مسیح نے تو اپنی لسان مبارک سے غریبوں کوخوشخبری کی نویدسنائی(متی11:5، لوقا4:18، 7:22) مگر آج کے فریسی نمامذہبی پیشواؤں نے غریب مسیحیوں سے اس انجیل کوچھین لیاہے اور خوشخبری کے الفاظ میں دی جانے والی اس آزادی کوظلم بنادیاہے۔
مسیحیوں کی اکثریت یہ حقیقت فراموش کرچکی ہے کہ وہ دیکی جس کاحکم خدانے دیاتھا وہ فقط غریبوں کے فائدے کے لیے تھی نہ کہ انہیں نقصان پہچانے کے لیے۔خدائی تعلیمات کے برعکس دورجدیدمیں دہ یکی امیروں کے لیے خوشخبری بن چکی ہے۔ ایک شخص جومہینے میں ایک بھاری رقم کماتاہے اس کے لیے دہ یکی ایک معمولی سی رقم ہے جبکہ اپناخون پسینہ ایک کرکے چند پیسے کمانے والے مسیحیوں کے لیے دہ یکی اداکرنا نہایت ثقیل ہے۔اسی وجہ سے تو خدانے انہی لوگوں کودہ یکی اداکرنے کاحکم دیاتھاتاکہ وہ خداکے فضل سے ملنے والی اس رقم پر خداکاشکر اداکریں اور اس  کی طرف رجوع کریں۔دوسری طرف اگر یہ دیکھاجائے کہ امیروں کی طرف سےدہ یکی اداکرنے کے کیامعاشرتی نتائج حاصل ہوتے ہیں تو یہ پادریوں کی جیب گرم کرنے کے سواکچھ نہیں۔پوادران کو دہ یکی کی ادائیگی،ان کے ضمیر کو تھپکیاں دے دے کرسلادیتی ہے کہ خداتمہارے ساتھ ہے جبکہ اس کے طرزحیات پر یہ دہ یکی کچھ اثر نہیں ڈالتی  ۔دہ یکی کی ادائیگی نہ ہی اس میں غریبوں کے لیے تڑپ اجاگرکرتی ہے اور نہ اس میں فقراء اوریتیموں کی مددکرنے کادردپیداکرتی ہے۔مگرآج کے مسیحی مذہبی پیشوا ان دولتمندمسیحیوں کو یہ کہہ کر دھوکے میں مسلسل مبتلارکھتے ہیں کہ وہ تودرحقیقت خداکی فرمانبرداری کررہے ہیں کیونکہ وہ آمدنی کادسواں حصہ نذرکی تھالی میں دیتے ہیں۔
دہ یکی کی ادائیگی کے بارے میں ایک نظریہ توپوادران کاہے جس کابائبل سے دورکابھی تعلق نہیں ہے جبکہ دوسرا نظریہ بائبل کاہے جہاں یسوع ایک بیوہ کے سکے کی تمثیل بیان فرماتےہیں۔
ایک کنگال بیوہ کو بھی اُس میں دو دمڑِیاں ڈالتے دیکھا۔  اِس پر اُس نے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِس کنگال بیوہ نے سب سے زِیادہ ڈالا۔  کِیُونکہ اُن سب نے اپنے مال کی بہتات سے نذر کا چندہ ڈالا مکر اِس نے اپنی ناداری کی حالت میں جتنی روزی اُس کے پاس تھی سب ڈال دی۔( لوقاباب21فقرہ1تا4)

          بہت سے پادری اس بات کی شدیدخواہش رکھتے ہیں کہ انہیں لوگوں میں اس بات کی مناد ی کرنی چاہیے کہ"وہ دہ یکی اداکریں"اوراس منادی کامقصدیہ ہوتاہے کہ اپنی کلیسیاء کو یاددہانی کرائی جائے کہ ان کے پروگرامات اورخود ان کی معاونت میں دہ یکی کی کس قدراہمیت ہے۔اس منادی میں یہ پوادران لوگوں کے لیے معاشی برکات کے جھوٹے وعدے کرتے اورعدم ادائیگی کی صورت میں معاشی لعنت اور بدترین تباہی وبربادی کی دھمکیوں کااستعمال کرتے ہیں تاکہ دہ یکی کی ادائیگی کے حصول کوزیاد ہ سے زیاد ہ یقینی بنایاجاسکے۔اس طرح سے دورجدید کی مسیحی دہ یکی کسی لاٹری کے مساوی قرار دی جاسکتی ہے۔یہ بات کہی جاتی ہے کہ "دہ یکی اداکرو توخدا تمہیں بدلے میں مزیدرقم دے گا۔اگردہ یکی کاانکار کروگے توخداتمہیں سزادے گا


کلیسائی عملے کی تنخواہیں ازروئے بائبل
          کلیسائی عملے (Clergy)کی تنخواہیں مکمل طورپرعہدنامہ جدیدکی حقیقی روح کے خلاف ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی کلیساءمیں ایلڈرز کو تنخواہیں نہیں دی جاتی تھیں بلکہ وہ مختلف دنیاوی پیشوں کوذریعہ معاش بنائے ہوئے تھے۔یہ برگزیدہ لوگ کلیسائی جماعت سے کچھ لینے کے بجائے کلیساء کواپنی جیب سے دے کرخدمت کیاکرتے تھے۔یہی وہ مقدس نفوس تھے جو یسوع المسیح کی تعلیمات کی روح کے اصل وارثین تھے اور انہی کی راستبازی کی گواہی کتاب مقدس میں مقدس پولس رسول کی زبانی کچھ یوں دی گئی ہے۔
مَیں نے کِسی کی چاندی یا سونے یا کپڑے کا لالچ نہِیں کِیا۔ تُم آپ جانتے ہوکہ اِنہی ہاتھوں نے میری اور میرے ساتھِیوں کی حاجتیں رفع کِیں۔ مَیں نے تُم کو سب باتیں کر کے دِکھا دِیں کہ اِس طرح محِنت کر کے کمزوروں کو سنبھالنا اور خُداوند یِسُوع کی باتیں یاد رکھنا چاہِیے کہ اُس نے خُود کہا دینا لینے سے مُبارک ہے۔( اعمال باب20فقرہ33تا35)
          انجیل میں ہی دوسری جگہ مرقوم ہے کہ یسوع نے فرمایا کہ جوتم میں بڑاہوناچاہے وہ تمہاراخادم بنے(متی20:26)اس فرمان یسوع کی روشنی میں یہ بات نہایت ہی متعجب معلوم ہوتی ہے کہ خودکو خداوند کے خادم کہنے والے اس طرح سے غریبوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالیں۔ یہ کیسے خادم ہیں جو یسوع کے قول کی علی الاعلان مخالفت کرکےمخالف مسیح بننے کے بجائے خادم مسیحیت اور خادم انسانیت بن جاتے ہیں۔مسیحی عوام کے لیے بھی یہ عقل سے زیادہ عقیدت کامعاملہ ہے تبھی وہ ایسے انجیلی مقامات پر نہ ہی کوئی غوروخوض کرتے ہیں اور نہ ہی ان پوادان کی حقیقت سے  متعلق کسی خیرخواہانہ بات پر کان دھرتے ہیں۔
          پادریوں کو تنخواہیں دینے کاعمل نہ صرف انہیں خداکے باقی لوگوں سے رتبے میں بڑھاناہے بلکہ یہ قول یسوع کی بھی سراسر تکذیب کے مترادف ہے۔ یسوع فرماتے ہیں کہ تم کسی کو اپنا استادنہ کہوکیونکہ تمہارااستاد ایک ہی ہےاورتم سب بھائی ہواورزمین پر کسی کواپناباپ مت کہوکیونکہ تمہاراباپ ایک ہی ہے جوآسمانی ہے(متی23:8)جبکہ اس قول یسوع کے برعکس یہ پوادران خود کوانگریزی میں Fatherکہلواتے ہیں (واضح رہے کہ اردو میں فادر یاپاسٹر کے لیے مترادف لفظ پادری ہے جوکہ فارسی لفظ "پدر"سے ماخوذ ہے اور لغوی اعتبار سے پدر کے معانی بھی باپ یاوالد کے ہی ہیں۔)اوردہ یکی دینے کے بجائے دوسروں سے لے کر خود کو اوروں سے افضل گردانتے ہیں جبکہ یسوع نے واضح الفاظ میں سب کو برابرقراردیتے ہوئے فرمایاہے کہ "تم سب آپس میں بھائی ہو"۔
          اسی طرح سے یسوع نے کسی کواپنا استاد بنانے سے بھی منع فرمایاتھا۔ایسی رعونت ونخوت کی حامل مذہبی پیشوائیت سے وہ خود بیزار تھے  توپھر ان کے نام نہادمتبعین کیسے اسی تکبر کے حامل ہوکر ان کے وارث ہوسکتے ہیں۔ یسوع مسیح ایسے لوگوں سے اپنی بیزاریت صراحتاً ظاہر کرتے ہوئے اپنے شاگردوں کوتلقین فرماتے ہیں کہ "فقہیوں سے خبرداررہنا جو لمبے لمبے جامے پہن کر پھرنے کاشوق رکھتے ہیں اوربازاروں میں سلام اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں اور ضیافتوں میں صدرنشینی پسندکرتے ہیں۔وہ بیواؤں کے گھروں کو دبابیٹھتے ہیں اور دکھاوے کے لیے عبادت کو طول دیتے ہیں۔انہیں زیادہ سزاہوگی"( لوقا20:46)اگر یسوع کے ان مبارک اقوال کااطلاق آج کے پوادران پر کیاجائے تو کیاوہ اس کامصداق نظرنہیں آتے؟بس تھوڑے سے غوروخوض کی ضرورت ہے حقیقت خود ہی سامنے آجائے گی کہ انہی کے بارے میں یسوع نے فرمایاتھا کہ ایسے لوگوں  کوزیادہ سزاہوگی۔آج اگر ایک مسیحی ایماندار خود سے بڑھ کرکلیسیاء میں عبادات کرواناشروع کردے توایسے مذہبی پیشواؤں کی کیاحیثیت رہ جاتی ہے؟ان نام نہا دکاہنوں کوتوبائبل کے مطابق اپنی خدمات بلاعوض سرانجام دینی چاہیے لیکن یہ لوگ ایسا نہیں کرتے توعام مسیحیوں کوسوچنا چاہیے کہ کیاوہ زمین پر فقط پادری کومال دینے کے لیےآئے ہیں؟
          عصر حاضر کادہ یکی کانظام دراصل ایک خوش آمدانہ نظام ہے جس میں پادری ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتاہے کہ کہیں وہ بھاری دہ یکی اداکرنے والے ایمانداروں کوکھونہ دے۔یہ خوف اس پر ہمیشہ طاری رہتاہے اور یہی چیز اسے لوگوں کے سامنے خوش آمدی بنادیتی ہے ۔ایسے خوش آمدی اورلالچی افراد کو دہ یکی دیتے وقت مسیحیوں کو سوچناچاہیے کہ آیاوہ قول یسوع کے موافق کیا واقعی آسمان پر خزانہ جمع کررہے یافقط اپنے خون پسینے کی کمائی کاضیاع کررہے ہیں ؟خدائے واحد وبرترہمیں درست فہم نصیب فرمائے تاکہ اس کی بدولت اس سچائی کی معرفت حاصل کی جائے جس کے لیے یسوع نے فرمایاکہ تم سچائی سے واقف رہوتوسچائی ہی تمہیں آزاد کرے گا۔وماعلیناالاالبلاغ
کتابیات
1.      Bede, A History of the English Church and People. Translated by Leo Sherley-Price. New York: Dorset Press, 1985
2.      Benson, Warren, and Mark H. Senter III. The Complete Book of Youth Ministry. Chicago: Moody Press, 1987
3.      Bercot, David W. A Dictionary of Early Christian Beliefs. Peabody, MA: Hendrickson, 1998.
4.      Bernard, Thomas Dehaney. The Progress of Doctrine in the New Testament. New York: American TractSociety, 1907.
5.      Brunner, Emil. The Misunderstanding of the Church. London: Lutterworth Press, 1952.
6.      Chadwick, Owen. The Reformation. London: Penguin Books, 1964
7.      Clowney, Paul and Teresa Clowney. Exploring Churches. Grand Rapids: Eerdmans, 1982








Videos

Recent Post