Latest News

Featured
Featured

Gallery

Technology

Video

Games

Recent Posts

Monday, 5 June 2017

یسوع اور یہوی ربائی

یسوع اور یہودی ربائی
 دیسی پولوسیوں کے دجل وفریب کا پردہ چاک کرتی ،مستورتاریخی حقائق کوظاہرکرتی ایک چشم کشا تحریر
ازقلم عبداللہ غازیؔ
یسوع ایک ایسی مظلوم ہستی ہیں جنہیں ان کی قومی حیثیت 'یہودی"ہونے کی رو سے کم اور مشرک غیراقوام کی خودساختہ تشریحات کی روشنی میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔یہ رجحان دراصل یونانیت زدہ انجیل نویسوں کی فکری کاوشوں کا اثر ہے کہ وہ اپنے قاری کو یہ باورکرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ یسوع ہی عہدعتیق کا موعود"المسیح" ہے جبکہ یسوع کا "المسیح"ہونے کا پورا قضیہ خالصتاًیہودیت سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا یسوع کی درست تصویر اسی وقت واضح ہوسکتی ہے جب یسوع کا خآکہ ان یہودی توقعات کومدنظررکھتے ہوئے کھینچاجائے جویہودیوں کو موعود المسیح سے وابستہ تھیں۔قارئین بائبل عموما اس اہم پہلو کو نظرانداز کردیتے ہیں جس کے باعث انجیل نویسوں کے عہدعتیق کے کھینچ تان کر یسوع پر منطبق کیے گئے اقتباسات کی درست تشریحات اوریہودی توضیحات قارئین کی نظر سے اوجھل رہ جاتی ہے اور یوں وہ انجیل نویسوں کے تار عنکبوت سے بھی کمزور استدلات کو ہی حرف آخر سمجھ کر یہ نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں کہ یسوع ہی عہدعتیق کا موعود المسیح ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔عہدعتیق کی تشریح کرنے کا اولین حق کتاب مقدس کے امین اول یہود کو حاصل رہاہے لیکن اسی کتاب کی مسیحی توضیحات ایسی مضحکہ خیز اور غیرشرعی دعاویٰ پر مشتمل ہوتی ہے جوحقائق سے کوسوں دور اور یہودی مطالب ومعانی سے متضاد ہوتی ہیں جس سے کوئی معقول نتیجہ برآمد نہیں ہوتانتیجاً ایک یہودی یسوع کو بحیثیت المسیح قبول کرنے سے مجتنب ہی رہتاہے۔ اسی مسیحی روش کے سبب یہودی روزاول سے ہی یسوع کو بحیثیت یسوع رد کرتے چلے آرہے ہیں کیونکہ یسوع نے ایسا کچھ نہیں کیا جوکتاب مقدس کے مطابق داؤدی المسیح نے آکر کرنا تھا چنانچہ انہوں نے نہ صرف یسوع کو رد کیا بلکہ گمراہیت کا شکار ہوکر یسوع کا پیروکار بننے والے ہر یہودی کو اپنی چنیدہ جماعت میں سے نکال باہر کیا خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہی کیوں نہ ہو۔
انجیل نویسوں نے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ یہودیوں کی بڑی تعداد نے یسوع کو بحیثیت المسیح قبول کرلیا تھا جس میں یہودی ربیائی بھی شامل تھے۔اگر حقیقت حال ایسی ہی ہے تو پھر یسوع کو گرفتاری کے وقت پہچان کروانے کے لیے یہوداہ کو خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ایک طرف تو انجیل نویس بلند آہنگ صور پھونکتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "دیکھوجہاں اس کا پیروہواچلا" اوردوسری طرف یسوع کی غیرمعروفی کاحال یہ ہے کہ یسوع کی شناخت کے لیے بھی انہیں ایک فرد کو خریدنے کی ضرورت پڑ رہی تھی۔انجیل نویسوں کےاختراعی ایسے پیچیدہ تضادات عموما نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں کیونکہ انجیل نویس کا مقصود قارئین کوعلم الہیات سے متعلق زیادہ سے زیادہ دلچسپی کا مواد فراہم کرنا تھاتاکہ اس میں گم ہوکر ایک قاری اس تحریرکے تاریخی پس منظرسے واقف ہوکر درست حقائق کا ادراک نہ کرسکے۔عرصہ دراز بعد اناجیل میں کیے جانے والے تصرفات میں یسوع کو یہودیوں کے لیے بحیثیت المسیح قبول کرنے کےالتزام کی کوششیں بھی کی گئیں اور اس کے لیے ڈرامائی انداز میں بعض کرداروں کو اناجیل کے افسانوں میں لانا گیا جو اسٹیج پر آکر اپنا کردار اداکرنے کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں کہ تاریخ کی گرد جھاڑنے پر بھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ایسے افراد میں یوسف ارمتیائی ونیکودیمس نامی یہودی ربی وغیرہ شامل ہیں۔اناجیل میں ان لوگوں کی موجودگی خود اناجیل کا ایک مشکوک عنصر ہے جوکہ فی الوقت ہمارے لیےزیر بحث نہیں ہے۔انجیل نویسوں نے ان افراد کو ڈرامائی اندازمیں اس قضیہ میں شامل توکردیا مگر دیگر کئی جھول اس میں باقی رہ گئے۔جیساکہ نیکودیمس تو فریسی تھا اورانجیل نویسوں کے مطابق تو فریسی یسوع کے بدترین معاندین میں سے تھے تو پھر وہ کیسے یسوع کو قبول کرسکتا تھا؟؟ اناجیل کے مطابق فریسی یسوع کے سب سے زیادہ معتوب رہےاوریسوع جابجا ان پرکڑی تنقید اور شدید مخالفت کرتے رہے۔ یسوع کی طرف سے فریسی علماء کی اصلاح کے بجائے مخالفت ہونے کے باوجودایک فریسی ربائی کایسوع کو قبول کرنا ایک اچھنبے کی بات معلوم ہوتی ہے ۔نفس واقعہ کی صحت کے لیے اس امر کی تنقیح نہایت ضروری ہےنیز اگر اس واقعہ کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی یہ ایک افسانوی طرز کا کردار ہی معلوم ہوتا ہے جو مختصر سا رول اداکرکے رخصت ہوجاتا ہے۔ ۔نیکودیمس کے قبول مسیحیت جیسے اہم معاملے میں فقط انجیل نویسوں کے بیانا ت پر ہی اکتفا نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس تاریخی شواہد درکار ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں یہ سارا قضیہ ہی عدم اعتباری کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ بعدازاں یہ شخص ہمیں دو خفیف مقامات کے علاوہ اور کہیں نظر بھی نہیں آتا ہے جس سے انجیل نویسوں کےمخصوص عزائم کی عکاسی ہوتی ہے کہ کس ضرورت کے تحت اس کردار کادخول انجیلی افسانے میں کیا گیا۔ایسا ہی ایک افسانہ لوقاانجیل نویس مقدس پولس کے لیےبھی تراشتے ہیں جہاں وہ پولس کی ابتدائی تربیت بزرگ گملیل کے یہاں ہونا دکھاتے ہیں ۔اگرحقیقت فی نفسہ وہی ہے جو انجیل نویس باورکرانا چاہ رہا ہے تو پھر یہ صورتحال کافی پیچیدہ ہوجاتی ہے کیونکہ گملی ایل جیسا شرع کازبردست عالم ایسے مدرسوں میں تعلیم دیتا تھا جہاں شریعت کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔شریعت کی ابتدائی تعلیم کے تعلم وتعلیم سے اس کا کوئی سروکار نہیں تھا تو پھر کیسے پولس نے ابتدائی تعلیم گملی ایل کے قدموں میں بیٹھ کر حاصل کرلی؟؟جب تک ان امورکی قابل قبول توجیح نہیں ہوتی یہ معاملہ بھی انجیل نویسوں کی تضاد بیانی کی نذر ہوجاتاہے۔
انجیل نویسوں کی غیرمستندوقائع نگاری اور بےجادعاوی کے باعث یہ دعویٰ خاصا ناقابل قبول ہوجاتا ہے کہ یہودیوں نے بالخصوص ربائیوں نے یسوع کو بحیثیت المسیح قبول کیا۔یسوع کسی بھی ایسی یہودی توقعات پر پورے نہیں اترتے جو یہودیوں نے موعود المسیح سے لگا رکھی تھیں۔ایسا نہیں ہے کہ یہودیوں کو المسیح کا انتظاررسمی سا تھا،یوحنااصطباغی سے یہودی ربائیوں کےتین استفسار یہودی اضطراب کا غماز ہیں۔
المسیح سے وابستہ یہودی توقعات اس قدر شدید تھیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے خودکو یہودی معاشرے سے الگ کرکے روحانی وجسمانی مشقوں کے لیے بیاباں میں سکونت اختیار کرلی تھی تاکہ المسیح کی آمد پر اس کے عظیم الشان استقبال کی تیاری اوراس کے ساتھ مل کر بحالی اسرائیل کےلیے جنگ کی جائے۔تاریخ کے صفحات اس گروہ کو اسینی کے نام سے جانتے ہیں۔
انہی یہودی توقعات کا رنگ ہمیں انجیل میں بھی نظر آتا ہے جب فرشتہ مقدسہ مریم کو نویدیسوع سنانے کے لیے ظاہر ہوتا ہے اور مریم کو مخاطب کرکے کہتا ہے۔
 "تیرے بیٹاہوگااس کانام یسوع رکھنا۔وہ بزرگ ہوگااورخدائے تعالیٰ کا بیٹاکہلائے گااورخداوندخدااس کے باپ داؤدکا تخت اسے دے گا"۔ 
 لیکن اس پیشنگوئی کواگر یسوع کی عملی زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ اس کے برعکس نظرآتا ہے ۔یسوع اپنے جدامجدداؤد کے تخت پر تو قبضہ نہ کرسکے لیکن اس سے دستبرداری کا اعلان پیلاطوس کے بھرےدربار میں کردیا اوریہی اعلان انہیں صلیب پرلے گیاکیونکہ یہود کے لیے یہ بات سوہان روح سے کم نہ تھی کہ ان کا المسیح یہ کہے کہ"میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں"۔ اس موقع پر یسوع کی تصلیب کا چلاچلا کر مطالبہ کرنے والے یہی یہودی لوگ تھے جنہوں نے چند روز قبل یسوع کو بزعم خود اسرائیل کا مسیح موعود تسلیم کرکے کھجور کی ڈالیاں لہراتے ہوئے استقبال کیا تھا لیکن چنددن بعد ہی یہ الفت ومحبت اس قدر بغض وعناد میں بدل گئی کہ وہ یسوع کے لیے صلیب سے کم راضی نہیں ہورہے تھے حتی کہ انہوں نے یسوع کے خون کو اپنی اور اپنی اولاد کی گردنوں پر لے لیا۔یہود کے اس رویہ کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی کہ یسوع اُس یہودی معیار پر ہرگز پورے نہیں اترے جوداؤدی المسیح کا کتاب مقدس کی پیشنگوئیوں کے مطابق تھا۔
حیات یسوع اور کتاب مقدس میں موجودداؤدی المسیح کی پیشنگوئیوں میں بُعدالمشرقین کا تعلق ہےاوریسوع کی ذات میں ایسی کسی پیشنگوئی کی تکمیل نہیں ہوتی۔کتاب مقدس (یسعیاہ باب2) کے مطابق المسیح زمین پر آئے گا،اس کے زمانے میں سارے یہودی اسرائیل کی سرزمین کی طرف جمع ہونگے،اس وقت تمام قومیں پُرامن ہونگی،ہیکل کی دوبارہ سے تعمیرجدید کی جائے گی ،شریعت کو قائم کیا جائے گا،خدا کے لیے جنگ ہوگی جس میں اسرائیل کے خلاف آنے والی تمام اقوام تباہ ہوجائیں گی اوراسرائیل محفو ظ ہوجائے گا۔لیکن کیا ایسا ہوا؟عہدجدید کا مطالعہ سراسر اس کی نفی کرتا ہے کہ یسوع نے کتاب مقدس کے مطابق ایسا کچھ کیا ہو۔اسی طرح سے اگریرمیاہ33 کی روشنی میں ہی داؤدی مسیح کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تویہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ داؤدی المسیح داؤدکی نسل سے ہوگا،وہ ایسا بادشاہ ہوگا جو شریعت کے ساتھ حکومت کرے گا،وہ خدا کے لیے جنگ کرے گا، اسرائیل کی زمین کی حفاظت کرے گا،لاوی النسل کاہن اس کے زیرحکومت رہ کرقربانیاں چڑھائیں گے اور یہ بادشاہ ہمیشہ ان پر حکومت کرے گا۔
مذکورہ پیشنگوئی کی پہلی شق ہی یسوع کے خلاف جاتی ہے۔عالم مسیحیت یسوع کو بغیرباپ فقط کنواری مریم سے پیداتسلیم کرتی ہے جبکہ مقدسہ مریم تولاوی النسل تھیں بھربھلا کیسے یسوع کو داؤد کی نسل سے مانا جاسکتا ہے؟کتاب مقدس کے مطابق داؤدی المسیح کو شریعت کے ساتھ حکومت کرنا تھی جبکہ یسوع کی آمد سے تو مقدس پولس کے بقول شریعت ہی منسوخ ہوگئی حکومت کرنا تو پھر بھی ایک خواب ہی رہا جو کبھی حقیقت نہیں بن سکا۔اسی طرح سے پیشنگوئی کے مطابق المسیح نے آکر خداکے لیے جنگ کرنا تھی جبکہ یسوع ایسا کچھ نہیں کرتے بلکہ تلوار نکالنے والوں کو تلوار نکالنے پر ہلاک ہونے کامژدہ سنا کرداؤدی المسیح کے افعال کے برعکس تعلیم دیتے ہیں۔ پیشنگوئی کے اگلے حصے کے مطابق داؤدی المسیح نے اسرائیل کی حفاظت کرنا تھی جوکہ ہرگز نہیں ہوئی بلکہ الٹا رومیوں نے اسرائیل کی سلطنت ومذہبی مرکز ہیکل کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔یسوع کے حین حیات نہ ہی یسوع کی قیادت میں لاوی النسل کاہنوں نےمذبح پر قربانیاں چڑھائیں اور نہ ہی یسوع نے ان پر حکومت کی بلکہ مقدس پولس تو فرماتے ہیں کہ یسوع کی قربانی کے بعد تو کسی قربانی کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اس طرح کی بےشمار پیشنگوئیاں ہیں جن کا اطلاق یسوع کی عملی زندگی پر کیا جائے تو کوئی بھی غیرجانبدار ذی شعورشخص یسوع کو عہدعتیق کا موعود المسیح قرار نہیں دے سکتا۔
عہدجدید ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کرتا جس سے معلوم ہو کہ یسوع نے کسی پیشنگوئی کی تکمیل کی ہوجوکہ عہدعتیق کے عین مطابق ہو۔مسیحی یہ عذرلنگ پیش کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سب پیشنگوئیاں یسوع نے اپنی آمد ثانی پر پوری کرنی ہیں۔اس تلبیس کے ابطال کے لیے یہی کافی ہے کہ یہودی صحائف واعتقاد کے مطابق المسیح کا ایک ہی دورہوگا اورکتاب مقدس میں المسیح کی آمدثانی کا کوئی تصور موجود نہیں۔یسوع کی آمدثانی کا تصور مسیحیت میں بہت بعد کی اختراع ہے جسے یسوع کے مشن کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے تراشا گیا۔یہ تصور بھی یہودیوں کے لیے نیا تھا کیونکہ یہودی کسی بھی وقت اس عقیدے کے حامل نہیں رہے چنانچہ ایسے نت نئے عقائد ونظریات نے مسیحیت ویہودیت کے درمیان خلیج کاکام کیا۔ المسیح کے متعلق یہودیوں کامؤقف ہمیشہ یکساں ہی رہا حتی کہ یہودیوں نے ہراس شخص کو اپنی جماعت سےباہرنکال کیا جنہوں نے اس نئے مشرکانہ مذہب کے لیے نرم گوشہ رکھا۔ معززیہودی علماء کرام اور ربی کونسلز ان گمراہ افراد کو خارجی، بدعتی، مرتد، باغی اور غدار قرار دے دیتی رہیں۔ تاریخی اعتبار سے مروجہ یہودیت کے کچھ یہودی علماء نے گمراہ کن نظریات سے متاثر ہوکریسوع کو بطورمسیح ابن داؤد قبول کیا لیکن خدائے واحد کی برگزیدہ اور چنیدہ قوم کے جید علماء کرام اور ربیوں نے متفقہ فیصلے سے ایسے افراد کو یہودیت سے خارج اور بدعتی مشرک قرار دیا۔ان میں سے ایک ربی ڈینیل صیہون تھا۔ ربی ڈینیل 3 اگست 1883 کو پیدا ہوا۔ وہ ہولوکوسٹ کے زمانہ میں بلغاریہ میں یہودی کمیونٹی کا چیف ریبائی تھا، اسں نے مصائب کے زمانہ میں سینکڑوں یہودیوں کو کیمپوں میں پہنچنے میں مدد کی اور بعد ازاں انہیں اسرائیل میں بسنے کے مواقع بھی فراہم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا 1949 کو وہ اسرائیل میں آکر بس گیا جہاں وہ اپنے آخری دم تک مقیم رہا۔ ربی ڈینیل صیہون نے یوسف نجار سے پیدا ہونے والے یسوع کوالمسیح قبول کرلیا۔ اس صورت حال کے باعث انہیں تل ابیب کے مقام پر مند ر ہونے والی یہودی علماء کی مجلس نے ''خبطی'' قرار دے دیا بعد ازاں انکی ربانیکل اتھارٹی ( معلم کا اختیار و عہدہ) بھی منسوخ کردیا گیا اور انہیں خارجی اور غدار قرار دے دیا گیا۔ایک اعلیٰ پائے کے ربی کے گمراہ ہونے پر قوم کے معزز علماء وربائیوں کا یہ طرزعمل دوہزارسالہ تسلسل رکھتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے کسی بھی وقت اور کبھی بھی یسوع کو بحیثیت المسیح قبول نہیں کیاحتی کہ خود یسوع کے زمانے میں بھی لوگ اس معاملے میں متذبذب ہی رہے۔
اسی طرح ربی سام سٹیرن کامعاملہ ہے۔ ربی سٹیرن کا شمار یہودیوں کے فاضل علما میں ہوتا ہے ۔یہ اپنی تالمودی حکمت کیلئے مشہورتھا۔یہ دوسری جنگ عظیم کے وقت وارسا میں پیدا ہوا۔ تین سال کی عمر تک بنیادی بائبلی (یہودی) تعلیمات سے واقف ہوچکا تھا۔ اس نے بھی یسوع ابن یوسف کو بحیثیت مسیح قبول کیا۔ ماڈرن ڈے جوڈا ازم کےجیدعلماء کرام نے متفقہ طور پر سام سٹیزن کی رباینکل اتھارٹی کو منسوخ قرار دیکر اس سے قطع تعلق اختیار کرلیا اوراس کو بھی خوارجیوں کی فہرست میں شمار کرلیاگیا۔
دورجدیدکےبعض یہودی علماء یسوع کو اب بطور فریسی شرعی معلم تو قبول کرلیتے ہیں مگر یسوع کو بحیثیت المسیح قبول کرنےسے وہ شروع سے ہی منکر رہے ہیں ۔حال ہی میں وفات پانے والے یہودی علوم پر ہائی اتھارٹی اسکالر جیکب نوزنیئر اپنی معروف کتاب"A Rabbi talks with Jesis”میں لکھتے ہیں کہ"میں اس کتاب میں انتہائی واضح اور بغیر کسی جھجھک کے اس بات کی تصریح کرتا ہوں کہ اگر میں پہلی صدی عیسوی میں یسوع کے وقت ہوتا تومیں ہرگز یسوع کے شاگردوں میں شامل نہیں ہوتابلکہ ان سے شدید اختلاف کرتا۔کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں مضبوط دلائل،حقائق اور وجوہات کی بناء پر درست مؤقف پر ہوں"۔یسوع کے معاملے میں یہودی علماء دوہزارسال قبل یسوع کے مقدمہ کے وقت بھی متفق تھے اور آج بھی متفق ہیں اور ان کا یہ متفقہ فیصلہ کتاب مقدس کے عین مطابق ہے جو ان میں المسیح کے متعلق انہیں وہ توقعات وامیدیں برپاکرتی ہے جس کا عشرعشیر بھی یسوع عملی طورپرکرنے سے قاصر رہے۔یہی وجہ ہے کہ دوہزارسال سے یہودیوں میں یسوع کی مخالفت کا عنصر کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ ہی رہا ہے اور اس مادے کو مسیحیوں کی وہ تعذیبات وتکالیف بھی کم نہیں کرسکیں جواپنے دوراقتدار میں مسیحیوں نے ظلم کے پہاڑ توڑ کر یہودیوں کو پہنچائیں۔
خدائے تعالیٰ پوادرانہ تلبیسات وتشریحات سے ہٹ کر تاریخی تناظر میں اس تاریخی کتاب عہدجدید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔وماعلیناالاالبلاغ
 تحقیق وتحریر:عبداللہ غازیؔ
فیس بک پر یہ تحریر پڑھنے کے لیے کلک کریں

Saturday, 22 April 2017

مقدمہ یسوع کےتراشیدہ افسانے کا تاریخی وتحقیقی جائزہ


مقدمہ یسوع کےتراشیدہ افسانے کا تاریخی وتحقیقی جائزہ 
تحقیق : عبداللہ غازی ،
مقدس پولس کی منادی کے نتیجے میں مشرک اقوام  سے بڑی تعداد میں افراد مسیحیت داخل ہوئے جو کہ نہ ہی شریعت کے بکھیڑوں سے واقف تھے اور نہ ہی تاریخ کے اس یہودی پس منظر سے آگاہی رکھتے تھے جس دوران یسوع نے اپنی منادی کی . ان ناواقف مشرکین نے پولوسی نظریات پر مشتمل مسیحیت کو قبول کرکے یسوع سے متعلق ہر اُس تاریخی و الہامی سچائی کا انکار کیا جو پولوسی نظریات کے مخالف تھی. مشرکین مسیحیوں کے اس رویے کا محرک مقدس پولس کا "روح القدس یافتہ" وہ ارشاد َتھا جس میں وہ اپنے مخالفین اور ان کی تعلیمات پر کان دھرنے والوں پر لعنتی ہونے کا فتوی عائد کرتے ہیں. 
 "مَیں پِھر کہتا ہُوں کہ اُس خُوشخبری کے سِوا جو تُم نے قبُول کی تھی اگر کوئی تُمہیں اَور خُوشخبری سُناتا ہے تو ملعُون ہو۔"گلتیوں 1:9
عہد جدید میں شامل سب سے قدیم تحاریر پولس کے خطوط ہیں جن کا زمانہ تصنیف 40 تا 60 عیسوی بنتا ہے جبکہ اناجیل اربعہ کی تصنیفی تواریخ پہلی صدی عیسوی کے آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں چنانچہ یہ بالوثوق کہا جا سکتا ہے کہ جب اناجیل لکھی گئیں تو پولوسی نظریات مسیحیت میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے تھے. اناجیل بھی انہی پولوسی نظریات کی ترویج کے مقصد کے تحت اور یہود دشمنی کے عنصر کو مسیحی ایمانداروں میں پروان چڑھانے کے لیے وجود میں لائیں گئیں جنہیں عوام الناس کی جانب سے تقریبا دوسری صدی عیسوی کے آخر اور تیسری صدی کی ابتداء میں الہامی ہونے کی سند ملنا شروع ہوئی. اسی وجہ سے موجودہ تمام بڑی کلیسیائیں اور ان سے نکلی چھوٹی موٹی ذیلی جماعتیں انجیل نویسوں کے اس دعوے پر آنکھ بند کرکے یقین رکھتی ہیں کہ یسوع کے آخری صلیبی مقدمے میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انکو یہودیوں نے عدالت سے سزا دلوا کر مصلوب کروایا تھا. 
 
بہت کم اشخاص نے یہود دشمنی سے معمور انجیل نویسوں کے دعاوی کے برخلاف، اس بات کی تفہیم کے لیے سعی کی ہے کہ اصل حقائق تک پہنچا جائے یا اُس وقت کے حالات اور واقعات کو جاننے کی کوشش کی جائے کہ کیا انجیل نویسوں کا یہ دعوی درست ہے یا پھر یہ بھی مشرک مسیحیوں کا آل ابراہیم سے فقط حقد ہے.
زیر نظر مختصر سا مضمون بھی ایک ایسی ہی چھوٹی سی کوشش ہے تاکہ اندھی عقیدتوں پر سوال اٹھانے کی جرات پیدا کی جاسکے، بہت سے ایسے تاریخی حقائق کو سامنے لایا جا سکے جنہیں عمدا مستور کردیا گیا ہے اور جو باتیں مخفی رہی ہیں انہیں محققین کے سامنے لا کر اس مضمون پر روایتی تفسیر سے ہٹ کر تحقیق کا باب کھولا جاسکے۔
 
اناجیل کے کسی ذوعلم قاری پر یہ مخفی نہیں کہ یسوع نے کہیں بھی فصح کا برہ ہونے کا دعوٰی نہیں کیا بلکہ یہ دعوی بہت بعد میں ان سے منسوب کردیا گیا. اس دعوے کے موجد مقدس پولس اپنے خط میں لکھتے ہیں. 
ہمارا بھی فَسح یعنی مسِیح قُربان ہُؤا۔ پس آؤ ہم عِید کریں۔کرنتھیوں اول 5:7
 
اسی پولوسی نظریہ کو تقویت دینے کے لیے انجیل یوحنا کا نامعلوم مصنف یوحنا نبی کے منہ میں یہ الفاظ ڈال کر ان کا انتساب یسوع کی طرف کرتا ہے کہ " یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔" یوحنا1:29
 
عید فصح کے اس پورے معاملے کا تنقیحی پوسٹ مارٹم معروف یہودی ہائی اتھارٹی اسکالر ڈاکٹر ہیوجےشون فیلڈ اپنی بیسٹ سیلر بک Passover plot میں کر چکے ہیں. کامل استفادہ کے لیے وہاں سے رجوع کیا جا سکتا ہے. یہاں ہم صرف انہی مقامات پر بات کریں گے جن کے متعلق کچھ دیسی عیسائیوں نے دھوکہ دہی کی واردات کرتے ہوئے تاریخی حقائق کو یسوع کی مانند مصلوب کرنے کی کوشش کی ہے.
تاریخ سے واقف نہ ہونے کی بنا پر اکثر اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسیح کو سزا دینے میں یہودی عدالت سینہیڈرن کا ہاتھ تھا جبکہ سینہیڈرن کو 40 ق م میں ہیرودیس نے ختم کر دیا تھا اور 42 بعد از مسیح میں اگرپا اول نے دوبارہ اسکو قائم کیا۔۱؎یہ تاریخی واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ مسیح کی صلیبی موت میں یہودی عدالت ملوث نہیں تھی تاہم ہم مزید شہادتوں کو دیکھیں گے تاکہ تاریخی طور پر یہ پتا چلایا جا سکے کہ المسیح کی صلیبی موت کے پیچھے کون سے محرکات اور عوامل کار فرما تھے۔
یروشلم کی یہودی مذہبی شرعی عدالت جیسے عدالت عظمی یا سنہڈرین کہا جاتا ہے، 722 افراد پر مشتمل ہوتی تھی نیز عدالت کی کارروائی سننے کیلئے یروشلم اور اسرائیل کے دوسرے علاقوں کے مدارس کے قابل طالبعلم موجود ہوتے تھے
یروشلم کی یہودی مذہبی (شرعی) عدالت (عدالت عظمی) 722 افراد پر مشتمل ہوتی تھی نیز عدالت کی کارروائی سننے کیلئے یروشلم اور اسرائیل کے دوسرے علاقوں کے مدارس کے قابل طالبعلم موجود ہوتے تھے۔۲؎
 جبکہ اناجیل میں بیان کردہ واقعات کے مطابق سردار کاہن کیفا اور اسکے حامیوں نے مسیح کا مقدمہ رات کی تاریکی میں اپنے گھر پر سنا ۔
 
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرع کے پابند علماء و ربائی کیسے سنہڈرین کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے تھے اور انہیں روک ٹوک کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا؟ یہودی سنہڈرین تو رات کے وقت کوئی مقدمہ سن ہی نہیں سکتی تھی جبکہ انجیل کا مصنف اس مقدمہ کی کاروائی کو رات کے وقت دکھاتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نامعلوم انجیل نویس یہودی سنہڈرین کے قوانین سے یکسر ناواقف ہے.
مقدمہ یسوع میں کچھ بھی یہودی عدالت کے قانون کے مطابق نہ تھا جو کہ انجیل نویسوں کا یہودی شرعی قوانین سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مثلاً: یہودی عدالت میں تب تک کوئی مقدمہ پیش نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ کوتوال٣؎ کے پاس ملزم کے جرم کے مکمل ثبوت موجود نہ ہوں۔ یہ بھی ضروری تھا کہ ملزم کو قانون کا پتا ہو لا علمی کی صورت میں قانون کا ملزم پر اختیار نہیں رہتا. یعنی جو کوئی کسی شخص پر مدعی ہو اس پر لازم تھا کہ اس نے ملزم کو اس حوالہ سے انتباہ کر رکھا ہو کہ تمہارے اس فعل کیلئے عدالت سزا دے سکتی ہے۔٤؎
 
کسی ایک بھی انجیلی مصنف نے ایسا بیان نہیں دیا کہ اس قسم کی تحقیقات عمل میں لائی گئی ہوں کہ شرعی کوتوال کو مسیح کے خلاف ثبوت فراہم کئے گئے، مدعیوں نے مسیح کے خلاف شرع افعال پر انکو انتباہ دی ہو ۔معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انجیل نویسوں کے مقصود اس قضیہ میں زیادہ سے زیادہ یہود دشمنی کا رنگ بھرنا تھا جس کی تکمیل کی خاطر انہوں نے یہودی شرعی امور کا بھی لحاظ نہ رکھا وگرنہ یسوع کے بظاہر خلاف شرع چھوٹے چھوٹے معاملات پر نکتہ چینی کرنے والے شرع کے علماء اور فقیہ کیسے خلاف شریعت افعال کا ارتکاب کر کے خود کو الہی عذاب کا حقدار بنا سکتے تھے؟
المسیح کے خلاف یہودی عدالت میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا تھا کیونکہ یسوع کا مقدمہ دراصل سیاسی نوعیت کا تھا جسے بعد ازاں مذہبی لبادہ پہنا کر پیش کیا گیا. المسیح ہونے کا دعوی کرنا دراصل یہودی بادشاہ ہونے کا اعلان کرنا تھا اور علی الاعلان ایسا مشتہر کرنا رومی سلطنت کے عتاب کو دعوت دینا تھا. یسوع کا زمانہ (جو کہ 6ق م تا 33ق م) پر مشتمل ہے، یہ یکے بعد دیگرے اٹھنے والی یہودی شورشوں کا زمانہ ہے اور یہ بغاوتیں یسوع کی موت کے بعد بھی جاری رہیں یہاں تک کہ سقوط یروشلم کا سانحہ ہوگیا. رومی سلطنت نے جب سرکاری مذہب مسیحیت کو قرار دیا تو بعد کے لوگوں نے اس زمانے کو پرامن بنا کر پیش کردیا تاکہ رومی حکومت کی خوشنودی حاصل کی جا سکے. ایسی صورت حال میں کہ جب رومی جاسوس جگہ جگہ بکھرے ہوں، یہودی بادشاہ ہونے کا اعلان کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا یہی وجہ تھی کہ یسوع کا سارا کلام نہ صرف تمثیلی (Code Words) ہوتا تھا بلکہ وہ اپنے متعلقین کو بھی منع فرماتے تھے کہ کسی سے میرے متعلق ذکر مت کرنا. (متی 16:20)(مرقس 8:30) (لوقا 9:21)
 
یہی وجہ تھی کہ انجیل نویس کے مطابق جو مقدمہ پیش کیا گیا وہ یا تو سنی سنائی باتیں تھیں یا پھر یہ افواہوں پر تھا۔
یہ بات بھی اہم تھی کہ عدالت میں بیٹھا منصف غیر جانب دار ہونا چاہیے اگر کوئی منصف کسی بھی طور سے ملزم کے کیس کو بنانے، ثبوت فراہم کرنے یا اور کسی بھی طریقے سے شامل رہا ہو تو وہ فیصلہ دینے کے لیے نہیں بیٹھ سکتا۔٥؎اس کے برعکس انجیل میں بیان ہوا ہے کہ سردار کاہن نے یہودہ کو غداری پہ آمادہ کیا اور خود ہی گواہ کا کردار بھی ادا کرنا چاہا (متی 59:26). کوئی بھی یہودی عدالت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی تھی مگر اس کے باوجود انجیل نویس یہود دشمنی سے سرشار ہو کر ایک ایسے افسانے کو تراشتا ہے جس کا وقوع سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا.
اس کے علاوہ انجیلی بیان کے مطابق مسیح کا مقدمہ سردار کاہن کے گھر میں سنا گیا جو کہ عدالتی قانون کی عدولی ہے کیونکہ کوئی بھی مقدمہ ہیکل میں موجود تراشیدہ پتھر والے کمرے٦؎ (جو کہ عدالت کیلئے مخصوص تھا) ِہی سنا نہیں جا سکتا تھا۔٧؎ اس کے علاوہ مسیح یسوع کو رات کے وقت پکڑ کر انکا مقدمہ و فیصلہ کر دیا گیا جو کہ عدلتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھی کیونکہ کسی بھی مقدمے کی سنوائی و پیروی رات کو عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی۔ ( مشناہ سینہیڈرن 1:4)۔ اس کے علاوہ دوران مقدمہ ایک شخص نے المسیح کو تھپڑ مارا جو کے عدالتی کارروائی کے خلاف ہے اور کسی حقیقی عدالت میں اس شخص کو توہین عدالت کے جرم میں سزا ہو سکتی تھی
انجیل نویس یہودی قوانین سے ناواقفیت کی بناء پر یہ دعوی کرتا ہے کہ یسوع کا مقدمہ سنہڈرین کے بجائے کائفا کے گھر پر سنا گیا. ایسے فضول دعوے تاریخ کے ساتھ ساتھ انجیلی حقائق کے بھی خلاف ہیں. اگر اس دعوے کو مانا بھی جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سردار کاہن کو یہ اختیار کس نے دے دیا کہ وہ سنہڈرین کا انعقاد کسی لوکل کانفرنس کی طرح اپنے گھر پر کروا کر اور ملزم کو تھپڑ لگوا کر اس عدالت عظمی کے شرعی تقدس کی پامالی کرے؟ اگر سردار کاہن رومی سلطنت کے مفادات کی خاطر ایک باغی کو سزا دلانے کے لیے اتنا ہی اندھا ہوا جارہا تھا تو کیا باقی اراکین سنہڈرین کی عقل بھی ہوا ہو چکی تھی؟
کسی بھی عید سے پہلے یا عید والے دن مقدمے کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی تاکہ عید کا تقدس پامال نہ ہو اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یسوع کو عید فصح کے ایام میں گرفتار و مصلوب کیا گیا ۔علاوہ ازیں دو کاتبوں کی موجودگی بھی ضروری تھی جو تمام عدالتی کارروائی و دلائل کو درج کریں ( سینہیڈرن 36B) جب کہ یہ عید پر ممکن نہ تھا کیونکہ سبت پر یہودی مذہبی روایات کے مطابق لکھنا منع تھا ( مشناہ سبت 2:7)۔عید پر عدالتی کارروائی کو منعقد کرنا عید کی بے ادبی یا اسے نجس کرنا سمجھا جاتا تھا (مشناہ سینہیڈرن 1:4)۔کوئی بھی مقدمہ عید سے پہلے شنوائی میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔٨؎ مگر مقدمہ مسیح کی مد میں یہود دشمنی سے معمور ہوکر انجیل نویس نہ صرف عدالتی روایات و قوانین٩؎ کو توڑتا گیا بلکہ تحریری شرع کے قوانین کو بھی نام نہاد عدالتی کارروائی کے نام پر رسوا و پامال کیا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے فصح آتے ہی سارے یہودی اندھے گونگے بہرے ہو گئے تھے جو یسوع کی مصلوبیت سے قبل ہی شرعی قوانین کو سردار کاہن کے ہاتھوں مصلوب ہوتا دیکھ رہے تھے اور کسی کو اس پامالی شریعت پر لب کشائی کی جرات نہیں ہورہی تھی. بتیس سو سالہ یہودی تاریخ میں ایسے نرالے یہودی صرف اناجیل میں ہی پائے جاتے ہیں. ایسا ہرگز نہیں ہے کہ سردار کاہن کا مقام یہودی زعماء و عوام الناس میں صاحبِ اختیار کا تھا. اس متعلق معروف یہودی النسل کیتھولک اسکالر ہائم مکابی لکھتے ہیں. 
 "
وہ کاہن کو پیشوا یا روحانی رہنماء کی حیثیت نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو محض رسوماتی عامل سمجھتے تھے جن کا کام ہیکل کے اندر قربانیوں کا عمل جاری رکھنا اور ہیکل کی عمومی دیکھ بھال کرنا تھا۔ یہاں تک کہ سردار کاہن کو بھی محض ایک عامل سمجھتے تھے جس کے پاس مذہبی امور پر بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ "
پھر ہم پڑھتے ہیں کہ سردار کاہن نے کہا :
 ’’
اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تُم نے ابھی یہ کُفر سُنا ہے۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟‘‘( متی 65:26)
 
یہ کسی بھی یہودی عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے جواب میں باقی منصفین نے کہا کہ:
’’
اُنہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائِق ہے۔‘‘(57:26)
 
انجیل نویس کا یہودی علم الکلام سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت یہی قضیہ ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہاں انجیل نویس کہانت جیسے عظیم فرض منصبی کے قوانین سے بھی نابلد نظر آتا ہے. 
 
یہودی عدالتی کارروائی کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کبھی متفقہ فیصلہ نہیں ہوتا جیسا کہ مسیح یسوع کے مقدمہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سب ایک ہی زبان بول رہے تھے کہ یہ موت کا سزاوار ہے۔چونکہ یہودی عدالت میں وکیل نہیں ہوتا اس لیے منصف ہی دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ایک جو ملزم کے مفادات کا دفاع کرتا اور دوسرا گروہ استغاثہ کا کام کرتا ۔بالفرض اگر ملزم کو ایسی سہولت میسر نہ آئے اور اس کے خلاف فیصلہ متفق ہو جائے جیسا کہ یسوع مسیح کے مقدمہ میں ہوا تو ملزم کو فوری طوربری کر دیا جاتا ( تالمود سینہیڈرن 72:12a)کیونکہ اس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عدالتی کارروائی نہیں بلکہ سازش ہے۔ سو اگر مسیح یسوع کا مقدمہ کسی حقیقی’’ یہودی شرعی عدالت‘‘ میں ہوا ہوتا تو وہ اُس ہی وقت بری ہو جاتے جب سب نے انکے خلاف متفقہ فیصلہ دیا تھا۔
 
انجیل نویس یقیناً یہودی عدالتی قوانین سے ناواقف تھا بلکہ اسے کہانت سے متعلق قوانین سے بھی شناسائی نہ تھی.اس صورتحال کا مظہر ہمیں اس وقت نظر آتا ہے جب انجیل نویس کائفا سردار کاہن کی بدترین تصویر کشی کرتا ہے اور 
’’
اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔‘‘( متی 65:26)
 
جبکہ
توریت میں اس بات کا بیان ہے کہ:
 "
مُوسیٰ نے ہارُون اور اُس کے بیٹوں اِلیعزر اور اِتمر سے کہا کہ نہ تُمہارے سر کے بال بکھرنے پائیں اور نہ تُم اپنے کپڑے پھاڑنا"( احبار 6:10)
اور سردار کاہن کے لیے تو پابندی اور بھی سخت تھی:
 "
اور وہ جو اپنے بھائیوں کے درمِیان سردار کاہِن ہو جِس کے سر پر مَسح کرنے کا تیل ڈالا گیا اور جو پاک لِباس پہننے کے لِئے مخصُوص کِیا گیا وہ اپنے سر کے بال بِکھرنے نہ دے اور اپنے کپڑے نہ پھاڑے۔ وہ کِسی مُردہ کے پاس نہ جائے اور نہ اپنے باپ یا ماں کی خاطِر اپنے آپ کو نجس کرے۔"( احبار 10:21)
 
اس کے بعد انجیل نویس ایک اور افسانہ تراشتا ہے جہاں قاضی نے خود ملزم یعنی جناب مسیح سے پوچھا یعنی ان سے کہا گیا کہ وہ اقرار کر لیں۔ کسی بھی یہودی عدالت میں یہ ایک انتہائی سنگین غلطی ہے کیونکہ تالمود یہ بتاتی ہے کہ ’’کوئی شخص خود کو مجرم قرار نہیں دے سکتایا کسی شخص کی گواہی اپنے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔‘‘
 
اور سب سے شاندار ثبوت کہ یہ پوری عدالتی کارروائی کا افسانہ ہی صرف فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب المسیح کو پیلاطس کے حوالے کیا گیا تورات کی کارروائی کے بارے ایک حرف نہیں کہا گیا بلکہ حاکم کے سامنے مسیح یسوع پر صرف اور صرف بغاوت کا الزام لگایا گیا۔اور یہ بات نہیں کی گئی کہ المسیح نے کس مد میں کفر بولا ہے بلکہ رومی دربار میں صرف رومی حکومت اور قیصر کے خلاف بات کرنے کو بنیاد بنا کر صلیب کا مطالبہ کیا گیا جسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ رومی حکومت ریاستی باغیوں کو صلیب دیا کرتی تھی اور کسی بھی شخص کا المسیح ہونے کا ادعا دراصل حکومت وقت کے خلاف اعلان اور خود کو بادشاہ بنا کر پیش کرنا تھا. یسوع نے بھی یہی دعوی کیا مگر وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکے تو یہودیوں نے انکے دعوی کو کتاب مقدس کے خلاف پاکر انہیں بغاوت کے جرم میں حاکم وقت کے سامنے پیش کردیا. یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یسوع کی پیلاطس کے دربار میں پیشی کے موقع پر سردار کاہن پیش پیش تھا اور یہ سردار کاہن خود رومیوں کی طرف سے مقرر کردہ تھا جس کا کام یہودی حریت پسندوں سے رومی سلطنت کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا یہی وجہ تھی کہ سردار کاہن کی شخصیت ہی بار بار اس موقع پر سامنے آتی ہے.
یسوع پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ
آئیے یسوع پر لگائے گئے کچھ الزامات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی یہودی عقیدے کے مطابق انکی کچھ حیثیت ہے کہ ان الزامات کی بنا پر کسی شخص کو سزا دی جاسکتی تھی ۔؟
مسیح یسوع پر لگایا گیا ایک الزام متی 63:26 میں موجود ہے۔
 ’’
سردار کاہِن نے اُس سے کہا مَیں تُجھے زِندہ خُدا کی قَسم دیتا ہُوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یِسُوؔع نے اُس سے کہا تُو نے خُود کہہ دِیا بلکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِس کے بعد تُم اِبنِ آدم کو قادِرِ مُطلِق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔ اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تُم نے ابھی یہ کُفر سُنا ہے۔‘‘
 
اس آیت کے مطابق مسیح یسوع نے کفر کہا ہے، لیکن وہ کفر ہے کیا، کیا خدا کا بیٹا کہلانا کفر ہے؟ تو یہاں یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ "خدا کے بیٹے" کی اصطلاح ہر یہودی پر لاگو ہوتی ہے بلکہ استثنا 1:14 کے مطابق جناب موسی نے سب سے پہلے اس اصطلاح کو تمام اسرائیل کے لیےاستعمال کیا۔
’’
تُم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو‘‘استثنا 1:14
 
بنی اسرائیل میں ہر نیک بندے کے لیے’’ خدا کے بیٹے‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ سو اگر یسوع نے ایسا کہا بھی تو یہ کوئی خلافِ شرع بات نہ تھی جو عدالت کی نظر میں سزا کے لائق ہوتی. دراصل یہاں انجیل نویس نے بدترین یہودی نفرت و دشمنی کا رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے اور عبرانی بائبل میں موجود حقائق کو بری طرح سے پامال کیا ہے. یسوع نے قاضیوں کی موجودگی میں انتہائی حلیمی سے خود کو ابن آدم پکارا اور خود کو ابن آدم کہنے میں کسی بھی یہودی شرعی عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا تو پھر وہ کفر کہاں ہے جو انجیل نویس یہودی رہنما کیفا کے منہ میں ڈال کر پوری یہودی قوم کو یسوع کی تکذیب میں اول طور پر پیش کرتا ہے؟
کیا یہ کفر تھا کہ ابن آدم کبریا( یونانی dunamiss جس کا ترجمہ طاقت کیا گیا ہے) کے دائیں جانب ہو گا؟
کیفا نے خود سے اندازہ لگا لیا کہ یسوع اگر اپنے سیاسی مشن میں کامیاب ہوگیا تو پھر یہ اقتدار حاصل کرلے گا اور یہودی بجائے انکے( سردار کاہن کے گروہ کے) یسوع کو اپنا نمائندہ چن لیں گے جو انکے اختیارات کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا۔ 
 
لفظ "طاقت" ارامی زبان میں دو معنی رکھتا ہے ایک استعاراتی طور پر رب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا literal معنی رکھتا ہے یعنی اختیار والوں یا حکومت کے لیے. یہودیوں کے لیے یہ ایک کفر تھا کہ حکومت، طاقت و اختیار کو خدا کے علاوہ کسی سے منسوب کرے اور یسوع نے بھی وہی بات تمثیلی انداز میں کہی جس کے بعد سردار کاہن حق بجانب تھا کہ وہ یسوع پر کفر گوئی کا الزام عائد کرتا. رومی بت پرستوں کو تو یہودی محاورات و تماثیل سے کچھ واقفیت نہ تھی مگر کائفا تو خود شریعت کا عالم تھا اس نے فورا یسوع کی تمثیلی بات کو سمجھ لیا کہ جو کفر سنہڈرین میں ثابت نہ ہو سکا وہ یہاں سب کے سامنے ظاہر ہوگیا.تبھی اس نے سزا کا مطالبہ کردیا. باقی گریبان پھاڑنے اور چیخنے چلانے کا سارا افسانہ فضول اور یاوہ گوئی پر مشتمل ہے.
اس کے علاوہ ایک گواہ نے یہ الزام لگایا کہ اس نے کہا تھا کہ اس مقدس کو ڈھا دو تو میں تین دن میں اسے کھڑا کر دو گا. بظاہر تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جو یہودی عدالتی قوانین کے مطابق سزائے موت کی وجہ بنے لیکن یہودی تاریخ سے ادنی سی واقفیت یسوع کے اس ایک جملے کے پیچھے چھپے اصل مدعا کو سامنے لے آتی ہے. جب ہم یسوع کو بحیثیت فریسی ربائی دیکھتے ہیں تو یسوع کے کلام کی تفہیم کا درست ادراک بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ فریسی کون تھے اور وہ کس نظریات کے حامل تھے. یہ سب بحث یہاں نہیں کی جا سکتی ہے لہذا ہم یہاں مطمع نظر بات پر ہی کلام کریں گے. 
 
یسوع کے وقت میں موجود ہیکل رومیوں کا تعمیر کردہ تھا اور فریسی علماء کو یہ ہرگز برداشت نہیں تھا کیونکہ رومی بت پرستوں نے اپنا نشان عقاب کو ہیکل کے دروازے پر نصب کیا ہوا تھا جس کے نتیجے میں دخول ہیکل کے وقت ہر یہودی کواس کے نیچے سے گزرنا پڑتا تھا اور اس کے نیچے سے گزرنے کا مطلب رومی بت پرست بادشاہ کی حاکمیت کو قبول کرنا تھا جو کہ موحد اور حریت پسند یہودیوں کے لیے سوہانِ روح سے کم نہ تھا اسی وجہ سے فریسی علماء کا نظریہ یہ تھا کہ مسیح موعود نے آکر رومیوں کے بنائے ہیکل کو ڈھا دینا ہے اور اس کی جگہ نیا ہیکل تعمیر کرنا ہے. یسوع کا ہیکل ڈھانے کی بابت گفتگو کرنا دراصل اسی فریسی نظریہ کے مطابق یہودیوں کو تسلی دینا تھا لیکن یسوع کی اس بات کے ساتھ تین دن بعد کا دم چھلا اس وقت لگایا گیا جب پولوسی نظریات مسیحیت میں جڑ پکڑ گئے اور یسوع کا مردوں میں سے جی اٹھنے کا افسانہ مشرک اقوام میں عام ہوگیا. پیلاطس کے دربار میں یسوع کی مجرمانہ خاموشی ہرگز اسے ان الزامات سے بری نہیں کرتی جو کہ یہودی اس پر لگا رہے تھے بلکہ یہودی علم الکلام کے مطابق یہودی بالکل درست مؤقف پر تھے.
حاصلِ تحریر
 
الغرض یسوع پر لگائے گئے سارے الزامات مذہبی کے بجائے سیاسی تھے اور رومی قانون کی نظر میں بغاوت کے جرم کے مترادف تھے. یہی وجہ تھی کہ یہودیوں نے ایسے انسان کو صلیب پر چڑھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جس نے یہ کہہ کر ان کی آرزو و امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں. 
 
یاد رہے کہ انجیل نویس نے یسوع کی مصلوبیت کا مجرم اجتماعی طور پر تمام یہودی قوم کو قرار دیا ہے. انجیل نویس متی لکھتا ہے. 
سب لوگوں نے جواب میں کہا اِس کا خُون ہماری اور ہماری اَولاد کی گردن(متی 27:266)
انجیل نویس یسوع کے مقدمہ کے افسانے میں یہود دشمنی کا ایسا رنگ بھرتا ہے کہ یسوع کی مخالفت میں سارے یہودی کردار یکے بعد دیگرے ساتھ آتے ہیں گویا کہ اس کہانی کا مرکزی حصہ یہی ہو. اس مقام پر تمام معاصرین یسوع یہودیوں کی منظر کشی کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ کاہن اعظم، صدوقی، فریسی اپنے متبعین سمیت، انقلابی شدت پسند، ہیرودیئن اور کثیر تعداد یہودی سب یسوع کی دشمنی میں متحد نظر آتے ہیں. انجیل نویس کی یہود دشمن طبیعت اس بات کا بھی جواب نہیں دیتی کہ اس موقع پر وہ سارا مجمع کدھر غائب ہو گیا تھا جو یسوع کے یروشلم میں داخلے کے وقت کھجور کی شاخیں لہرا لہرا کر ان سے وفاداری کا عہد کررہا تھا؟
خیر اندیش
تحقیق: عبداللہ غازی 

۱؎ : بابلی تالمود،بابا بترا: ۳۔الف، جوئیش انسائیکلوپیڈیا مضمون ہیرودیس۔’’جوئش ہیسٹری‘‘گیریٹز،جلد نمبر ۲ ، باب نمبر ۴
۲؎: جوئش انسائیکلوپیڈیا مضمون سنہیڈرن
٣٣؎: عبرانی لفظ ہذان کا ترجمہ کوتوال کیا گیا ہے ۔ یہ شرعی عدالت کا انسپکٹر ( دروغہ ) تھا جسکی ذمہ داری ہوتی تھی کے ملزم کو ثبوت ملنے کے بعد تفتیش و تحقیق کرکے شرعی عدالت کے سامنے پیش کرے۔
٤؎ : سینہڈرن:۸ :ب، ۴۱ :الف، ۷۲:ب، ۸۰۰:ب/دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۶
٥٥؎:دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۷
٦؎ انگریزی لفظ ’’Hewn Chamber‘‘ کا ترجمہ
٧؎: سینہڈرن۸۶ب اور ۸۸۸ ب/ دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۸
٨؎: سینہیڈرن 1:4
٩٩؎ : تالمودی قوانین جنکو توراہ شبل پے کہا جاتا ہے ۔

Sunday, 29 January 2017

مسیحی سوالات مسلم جوابات


بائبل مقدس کے محرف ہونے کے متعلق اہل اسلام کے دعوے کے ساتھ ہی مسیحی برادری کی جانب سے عجیب طرح کے سوالات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جن کا جواب دینے پربھی مسیحی برادری اسے معقولی تسلیم نہیں کرتی۔اسی وجہ سے مضمون ہذا میں مسیحی برادری کو ان کے چند روایتی سوالات کا غیرروایتی جواب ان ہی کے گھر کی گواہی سے دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ حقیر سی کاوش کسی مسیحی بھائی کی آنکھیں کھول دے۔

مسیحی سوالات مسلم جوابات

تحریر:عبداللہ غازیؔ


سوال نمبر ١. کیا بائبل بدل گئی ہے؟
الجواب : جی ہاں بالکل بائبل بدل گئی ہے اور اس کا اقرار خود بائبل میں بھی موجود ہے. 
11.تُم کیونکر کہتے ہو کہ ہم تو دانِش مند ہیں اور خُداوند کی شرِیعت ہمارے پاس ہے؟ لیکن دیکھ لِکھنے والوں کے باطِل قلم نے بطالت پَیدا کی ہے۔یرمیاہ 8:8
22. خُداوند کی طرف سے بارِ نبُوّت کا ذِکر تُم کبھی نہ کرنا اِس لِئے کہ ہر ایک آدمی کی اپنی ہی باتیں اُس پر بار ہوں گی کیونکہ تُم نے زِندہ خُدا ربُّ الافواج ہمارے خُدا کے کلام کو بِگاڑ ڈالا ہے۔ یرمیاہ 23:36 
33. پادری جی ٹی مینلی لکھتے ہیں "بائبل میں ربانی اور انسانی عناصر ایک دوسرے سے جدا نہیں کئے جا سکتے. ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بات ربانی ہے اور یہ انسانی" (بحوالہ ہماری کتب مقدسہ، صفحہ 28) پادری صاحب واضح اقرار کررہے ہیں کہ بائبل میں الہامی کے ساتھ انسانی عنصر بھی موجود ہے. *
سوال نمبر ٢. کیا بائبل کو کوئی بدل سکتا ہے؟ 
 الجواب : جی ہاں بائبل میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے بلکہ نبی کی موجودگی میں ایسا ہوا ہے جب شاہ یہوداہ یہویاقیم نے وحی کا طومار جلایا اور بعد میں الہی ہدایت پر یرمیاہ نبی نے باروخ منشی سے اسے دوبارہ لکھوایا تو باروخ نے اس میں بہت سی باتوں کا اضافہ کردیا. 
 یَرمِیاؔہ نے دُوسرا طُومار لِیا اور بارُوؔک بِن نیرِؔیاہ مُنشی کو دِیا اور اُس نے اُس کِتاب کی سب باتیں جِسے شاہِ یہُوداؔہ یہویقِیم نے آگ میں جلایا تھا یَرمِیاؔہ کی زُبانی اُس میں لِکھِیں اور اُن کے سِوا وَیسی ہی اَور بُہت سی باتیں اُن میں بڑھا دی گئِیں۔ یرمیاہ 36:32
سوال نمبر ٣. بائبل کس نے بدلی؟ 
 الجواب : اوپر سوال میں اس کا جواب گزر چکا ہے کہ بائبل کس نے بدلی، اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
11. اگر بائبل میں تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا تو پھر تورات کی پانچویں کتاب تثنیہ شرع کے آخر میں موسی علیہ السلام کی وفات کا حال کیا موسی نے قبر سے اٹھ کر لکھا ہے؟ 
2. مرقس کی انجیل کے آخری 12 فقرات قدیم نسخوں میں کیوں غائب ہیں؟ گڈنیوزبائبل کے 19799 کے ایڈیشن کے فٹ نوٹ میں مرقس کی آخری بارہ آیات کے متعلق لکھا ہے. 
""Some manuscripts and ancient translations do not have this ending to the Gospel (verse 9-20) "
اسی طرح نیوانٹرنیشنل ورژن میں ان فقرات سے قبل کچھ اس طرح کا توضیحی نوٹ دیا گیا ہے. 
""The earliest manuscripts and some other ancient witnesses do not have Mark 16:9-20"
 اس طرح کے فٹ نوٹس جگہ جگہ ان دونوں بائبلز کے نسخ پر موجود ہیں جو کہ یونائیٹڈ بائبل سوسائٹی امریکہ کی طرف سے شائع کی گئی ہیں.
3. قدیم نسخہ واشنگٹن میں بھی مرقس کی آخری 122 آیات موجود نہیں (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 178، مطبوعہ 1952)*
44.کنگ جیمز ورژن کلام الہی ہے؟ گڈنیوزبائبل یا پھر نیوانٹرنیشنل ورژن؟ تینوں میں سے ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ . ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺗﺎﻭﯾﻞ نکالی جائے ﮐﮧ تینوں ہی کلام الہی ہیں ﺗﻮ ﭘﮭﺮ NIV اور GNB ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﯾﺎﺕ ﺣﺬﻑ کی ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﺸﮑﻮﮎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ان کو کس پیرائے میں رکھا جائے گا؟
سوال نمبر ٤. بائبل کب تبدیل کی گئی؟
 الجواب : جب یہ کتب زیر تحریر تھیں اسی وقت ان میں تغیر و تبدل کا عمل بھی جاری و ساری تھا. ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ان کی ساری زندگی اس کے تراجم و تحقیق کرنے میں کھپ گئی ہیں ﻭﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ وقعت باقی رہ جاتی ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﺸﻨﻞ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ DISCOVER THE BIBLE ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻣﻌﺘﺪﺑﮧ ﮐﻼﻡ ﻣﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻃﻤﻄﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ اور اس میں جابجا تحریف کا اقرار ببانگ دہل کیا گیا ہے. یہ کتاب ایک فرد کی نہیں بلکہ 18 چوٹی کے علماء نے مل کر لکھی ہے. 
11. ہر کلیسیاء کی خواہش ہوتی تھی کہ ہمارے پاس انجیل یا پولس کے خط کا اپنا نسخہ ہو. جب ان تحریروں کی نقول تیار کی گئیں تو نقل نویس جنہیں منشی کہا جاتا تھا وہ ان تحریروں کو پاک ناشتے خیال نہیں کرتے تھے. وہ فقط پولس یا پطرس کے کسی خط یا اپنے جیسے کسی مسیحی کی لکھی ہوئی انجیل کی نقل کررہے ہوتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سہواً غلطی کرنے کے علاوہ بعض اوقات ارادتاً تبدیلیاں بھی کر دیتے تھے رفتہ رفتہ دوسری صدی عیسوی میں مسیحی ان تحریروں کو پاک ناشتے سمجھنے لگے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 121) 
22. نئے عہد نامہ کی نقلیں تیار کرتے ہوئے نقل نویس بعض اوقات متن میں تصرفات کر دیتے تھے بعض اوقات تصرفات دانستہ یا ارادی ہوتے تھے تاکہ اسلوب بیان بہتر ہو جائے یا زبان قواعد گرائمر کے مطابق ہو جائے. دوسرے دانستہ تصرفات اس لیے کئے گئے کہ ایک انجیل کے متن کو دوسری انجیل کے متن کے مطابق یا پولس کے خط کے مندرجات کو اسی کے دوسرے خط کے مطابق بنا دیا جائے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 124)
33. کئی تصرفات غیر ارادی تھے، اس کا سبب پڑھنے میں غلطی یا ناقص یادداشت ہے. غلطی اس طرح ہو گئی کہ کبھی منشی کی نظر کسی ایک حرف، ایک لفظ یا کبھی پوری سطر سےاچٹ گئی اور ایک لفظ یا کئی لفظ سہواً نقل ہونے سے رہ گئے. کبھی یہ ہوا کہ متن کو غلط پڑھا اور غلط حرف یا غلط لفظ نقل کردیا یا کبھی غلطی سے کوئی لفظ یا چند الفاظ مکرر کر دیئے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 125)
سوال نمبر ٥. تورات اور زبور کب بدلیں؟ مسیح سے قبل یا بعد میں؟ 
الجواب : 
11. تورات و زبور میں اگر تبدیلی نہ ہوئی ہوتی تو انجیل جیسی کتاب کی ضرورت ہی نہ تھی. تورات کی غیر محرف موجودگی میں انجیل کی حیثیت کچھ باقی نہیں رہتی. 
2. کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت صفحہ 77 پر لکھا ہے کہ یہودی نوشتوں میں مندرج واقعات دراصل زبانی روایات ہیں جن کا انتقال صدیوں تک سینہ بسینہ ہوا اور اس کے بعد حتمی شکل میں لکھے گئے. معلوم ہوا کہ مروجہ تورات فقط بنی اسرائیل کی زبانی روایات ہیں کیونکہ انہدام ہیکل کے بعد تو یہود کے پاس تورات باقی ہی نہیں بچی تھی. 
33. یاد رہے کہ اس وقت کے یہودی علماء کے نزدیک مروجہ عبرانی بائبل میں شامل کتب کے علاوہ اور بھی بہت سی کتب مقدس متون کے طور پر رائج تھیں. یہودیوں نے جامنیہ کونسل منعقد کرکے اس بات کا فیصلہ کیا کہ کن کتب کو الہامی کتب میں رکھنا چاہیے اور کن کو خارج کر دینا چاہیے. کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت صفحہ 8 پر مرقوم ہے "100ء کے قریب کچھ یہودی علماء Jamnia کے مقام پر جمع ہوئے. اس موقع پر یہ بحث ہوئی کہ کون سی کتب یہودی نوشتوں میں شامل ہونی چاہئیں". معلوم ہوا کہ اس وقت بھی یہودی کتب مقدسہ تحریف کا شکار تھیں تبھی یسوع جیسے عظیم ربائی کی آمد کے باوجود وہ مقدس نوشتوں کی استنادی حیثیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہی رہے.
4. مروجہ زبور کی کتاب میں 1500 زبور شامل ہیں جن میں سے اکثریت کے مصنفین کا کچھ معلوم نہیں. ایف ایس خیر اللہ لکھتے ہیں. "زبور 90 تا150 ایسے زبوروں پر مشتمل ہے جس کے مصنف تقریباً سب ہی گمنام ہیں". (بحوالہ قاموس الکتاب، صفحہ 470) اگر زبور کی کتاب اصل الہام پر قائم ہے تو پھر ان ساٹھ زبوروں کو کیا کیا جائے جن کے مصنفین ہی گمنام ہیں ؟اگر یہ مجہول لوگوں کی تصنیف ہیں تو پھر یہ الہامی کیسے؟
سوال نمبر ٦. انجیل کتنے عرصے بعد بدلی گئی؟ 
 الجواب : یسوع کی اصل انجیل تو ان کے ساتھ ہی آسمان پر چلی گئی تھی. انکے مابعد یسوع کے مخلصین نے ان کی تعلیمات کو لکھ کر محفوظ کیا اس طرح سینکڑوں اناجیل معرض وجود آگئیں نتیجتاً مقدس پولس کو ان لوگوں پر ملعون ہونے کا فتوی صادر کرنا پڑا جنہوں نے پولس کی بنائی ہوئی انجیل کے علاوہ کسی اور انجیل پر ایمان رکھا. "اگر ہم یا آسمان سے کوئی فرشتہ سوائے اس انجیل کے جو ہم نے تمہیں سنائی ہے دوسری انجیل تمہیں سنائے تو وہ ملعون ہو" (غلاطیوں 1:8) 
 تیس سال بعد ہی یہودی بغاوت کے نتیجے میں رومیوں نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی نتیجتاً وہ کثیر مواد ضائع ہوگیا جو یسوع کی اصل تعلیمات پر مشتمل تھا اور یسوع کی لسان مبارک سے وہ انجیل جس کا ذکر مرقس بار بار اپنی کتاب میں کرتا ہے، سننے والے لوگ رومی عتاب کا شکار ہو کر ابدی نیند سو گئے. مروجہ اناجیل اسی تباہی کے بعد کے زمانے میں لکھی گئیں اور تقریباً تین سو سال تک یہ کتب کلیسیاء میں متنازع و مشکوک رہیں کہ آیا یہ کلام الہی ہیں بھی یا نہیں.
11. "ابتدائی کلیسیاء کے بزرگ اور کونسلیں اس بات پر بحث کرتی رہیں کہ نئے عہد نامہ کی کون سی تحریروں کو پاک سمجھنا اور وہی تعظیم دینا چاہیے جو یہودی نوشتوں کو حاصل ہے" (بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 8) 
22. رومی کلیساؤں میں بہت سی کتب گردش کرتی تھیں..... ضروری ہوا کہ کسی عمل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے کہ کون سی کتب مقدس ہیں. یہ طریقہ کار راتوں رات وضع نہیں کیا گیا بلکہ ان کتب کے لکھے جانے کے بعد بھی سینکڑوں سال لگ گئے تب کہیں جا کر فیصلہ ہوا کہ جو اتنی بہت سی تحریریں پڑھی جارہی ہیں ان میں سے کون سی پاک کتاب یعنی بائبل میں شامل ہونی چاہیے".(بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 9)
33." آج بہت سے مسیحی ان کتب سے ناواقف ہیں جنہیں ابتدائی مسیحیوں اپنے پاک نوشتوں کا حصہ مانتے تھے". (محولہ بالا، صفحہ 10)
 اگر یہ الہامی کتاب ہوتی تو یسوع کے سو سال بعد نہیں لکھی جاتی اور نہ ہی اس کی الہامی حیثیت چار سو سال تک مشکوک رہتی. یہ سب تو ٹھوس کلیسائی شواہد ہیں جن کا انکار فقط ہٹ دھرمی کی بناء پر ہی کیا جا سکتا ہے. 
44. مقدس پولس لکھتے ہیں "جب یہ خَط تُم میں پڑھ لِیا جائے تو اَیسا کرنا کہ لَودیکیہ کی کلِیسیا میں بھی پڑھا جائے اور اُس خَط کو جو لَودِیکیہ سے آئے تُم بھی پڑھنا" (کلسیوں 4:16) پولس کے حکم کے مطابق لودیکیہ کا خط آج کی کلیسیاء بطور الہام کیوں نہیں پڑھتی حالانکہ اس خط کو مقدس نوشتے کے طور پر پڑھنے کا حکم خود مقدس پولس نے دیا ہے. 
5. "کلیمنٹ کے خط کے متعلق کرنتھیوں کا بشپ ڈایونی سیئس 1700ء میں کہتا ہے کہ" قدیم زمانہ سے ہی اس خط کو گرجا میں پڑھے جانے کا دستور چلا آرہا ہے ". (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 216، مطبوع 1952)* اگر انجیل میں تحریف نہیں ہوئی تو قدیم کلیسیاء کے نزدیک مقدس و ملہم سمجھا جانے والا خط آج کی کلیسیاء کیوں نہیں قبول کرتی؟
سوال نمبر ٧. کیا بائبل بدل سکتی ہے؟
 الجواب : "ہمارے پاس یسوع مسیح کے بالکل صحیح الفاظ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں. ہمارے پاس اس کے الفاظ کے صرف یونانی ترجمے موجود ہیں جو اناجیل کے مصنفین نے استعمال کیے (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 118) اگر مسیحی دنیا یہ سمجھتی ہے ﮐﮧ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺁﺭﺍﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﻭ ﻓﺮﺍﻣﯿﻦ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﺍﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﻧﮯ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻄﺒﺎﺕ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ اور یونائیٹڈ بائبل سوسائٹی امریکہ جھوٹ بول رہی ہے ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺑﺼﻮﺭﺕِ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ. ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﮐﮯ ﺍﺻﻞ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ؟ یاد رہے کہ یسوع کی زبان آرامی تھی (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 198)
 عہد جدید کی آخری کتاب مکاشفہ کے آخر میں اس کتاب میں تبدیلی کرنے والے کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بائبل میں تبدیلی کی جا سکتی ہے تبھی تو اس کی سزا موجود ہے. جیسا کہ زنا کی سزا سنگسار کرنا ہے. اب اگر اس جرم کا احتمال موجود ہے تبھی تو اس کی سزا رکھی گئی ہے اسی طرح بائبل میں تبدیلی کا امکان تھا تبھی مکاشفہ میں سزا رکھی گئی ہے.
سوال نمبر ٨. کیا بائبل پوری کی پوری بدل گئی ہے؟ 
 الجواب : اصل بائبل بدلی ہی نہیں بلکہ مکمل مفقود ہو چکی ہے. مروجہ بائبل میں مشمولہ کتب کے لیے مسیحی علماء نے ایک نئی اصطلاح " Pseudepigrapha" وضع کی ہے جس کا مطلب ازمنہ قدیم میں مجہول تصنیف کا معروف شخصیت کی طرف انتساب ہے اور عہد جدید و قدیم میں شامل تمام کتب یہی استادی حیثیت رکھتی ہیں کہ یہ گمنام لوگوں کے اقلام سے صفحہ قرطاس پر رقم ہوئیں. 
11. "یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان اناجیل کے مصنفین کون کون تھے... امکان ہے کہ ان کے مصنفین مسیح کے وہ ابتدائی پیروکار تھے جنہوں نے یسوع کے پہلے شاگردوں میں سے کسی ایک سے یا زیادہ سے اس کے بارے میں تفصیل سے سنا". (کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 1733)
22. "اسفار خمسہ کو اپنی آخری شکل میں آتے آتے سینکڑوں سال کا عرصہ لگا اور یہ موسی (علیہ السلام) کے زمانے سے بہت بعد میں اس کی شکل میں آئے". (کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 26) اگر یہ موسی علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد موجودہ شکل میں آئے تو پہلے کس شکل میں تھے؟ ارتقاء کا یہ عمل کتاب میں تصرف و تغیر نہیں تو پھر کیا ہے؟ اگر یہ تحریف نہیں تو پھر شاید تحریف کا لفظ ہی لغت سے خارج کر دیا جائے. 
33. "متی کی انجیل کی نظر ثانی یونانی زبان میں کی گئی غالباً وہ متی نے خود کی یا اس کے کسی مددگار نے" (اطلاقی تفسیر برائے عہد جدید ، صفحہ 136) اگر متی کی انجیل مکمل الہامی ہے تو پھر نظر ثانی کی ضرورت کیوں؟ کیا خدا کے الہام کو بھی نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے؟ اور پھر یہ نظر ثانی کس نے کی؟ کس اختیار سے کی؟ اور کن مقاصد کے تحت کی؟ ان سب سوالوں کے مسیحی برادری کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ہے لیکن تحدی پر مبنی دعوی پھر بھی قائم ہے کہ بائبل خدا کا کلام ہے.
سوال نمبر ٩. بائبل (یعنی تورات زبور و انجیل) جو پہلے تھیں وہ کہاں ہیں؟ 
الجواب : 
11.یہ سوال ہی غلط اور کٹ حجتی پر مبنی ہے کیونکہ ان کتب کا امین یہودیوں و عیسائیوں کو بنایا گیا تھا نا کہ مسلمانوں کو لہذا مسیحیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل تورات زبور و انجیل سامنے لاکر مسلم نقادوں و معترضین کا منہ بند کر دیں. 
22. اگر تورات بحیثیت کلام خدا لا تبدیل ہے تو پھر تورات کی وہ الواح کدھر گئیں جو باری تعالٰی نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر موسی علیہ السلام کو دی تھیں؟ 
3. "6211 قبل مسیح میں ہیکل کی تعمیر نو کے دوران مزدوروں کو شریعت کی کتاب ملی تھی. یہ شریعت کی کتاب کہاں سے آئی؟ ہیکل کے ذخیرے میں کیسے پہنچی؟ (کس نے لکھی؟ از مقتبس) ممکن ہے کہ اسے موجودہ صورت میں ان کاتبوں اور مدیروں نے مرتب کیا ہو جو صدیوں بعد ہوئے (بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 314) ایک نامعلوم کتاب کو، جس کے مصنف کا ہی نہیں معلوم اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ آئی کدھر سے ہے، کلام الہی کا درجہ دینا کہاں کا انصاف ہے؟
44. مسیحیوں نے شروع سے ہی جان لیا تھا کہ ہمیں مقدس متون کے ایک ایسے مجموعے کی ضرورت ہے جو ہمارا اپنا ہو، جنہیں حوالے کے لئے استعمال کیا جا سکے جو عقائد سے متعلقہ فیصلوں میں ماخذ اور غیر متغیر حدود ہوں. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 169) محولہ سطر سے یہ مستنبط ہوا کہ مروجہ انجیل کلیسیاء کی پیداوار ہے نا کہ کلیسیاء کی بنیاد اس انجیل پر ہے اور جو چیز کلیسیاء نے پیدا ہی اپنی ضرورت کی وجہ سے کی ہے، اسے لاتبدیل کلام الہی بنا کر پیش کرنا قطعاً خوف خدا سے ماوراء عمل ہے اور امثال کی کتاب فرماتی ہے کہ "خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے".
 * جی ٹی مینلی صاحب کی یہ کتاب مسیحی سمنریز میں پڑھائی جاتی ہے لہذا یہ کوئی روایتی پادری کی کتاب نہیں ہے.
 * پادری برکت اللہ صاحب کی کتاب "صحت کتب مقدسہ" کے نئے ایڈیشن میں یہ سب حوالہ جات خارج کر دیئے گئے ہیں. راقم الحروف کے پاس اس کتاب کا 1952ء کا غیر محرف ایڈیشن موجود ہے جہاں یہ سب اقرار جرم موجود ہیں. یہ حال ہے ان مسیحیوں کی علمیت کا کہ جو پادری ساری زندگی یہ دہائی مچاتے دنیا سے چلا جاتا ہے کہ بائبل میں تحریف نہیں ہوئی اس کے مرنے کے بعد خود اس کی کتاب میں تحریف کردی جاتی ہے.

Wednesday, 4 January 2017

Jerusalem Church, Peter,Paul & James کلیسیائے یروشلم،پطرس،پولس اور یعقوب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کلیسیائے یروشلم،پطرس ،پولس اور یعقوب

مترجمین: صبا خان، عبداللہ غازیؔ

یہودی و مسیحی علمی حلقوں میں پروفیسر ہائم مکابی جیسے اسکالر کا نام تعارف کا محتاج نہیں، برطانیہ میں یہودی و مسیحی روایات پر انہیں اتھارٹی اسکالرز کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے حتی کہ ڈاکٹر ہیوجے شون فیلڈ جیسے چوٹی کے اسکالرز بھی ان کے علم کے متعلق لکھتے ہیں کہ "مجھے یقین ہے کہ ہائم مکابی کے مقدس پولس کے متعلق نظریات قابل فکر ہیں"۔ زیر نظر تحریر بھی ہائم مکابی کی کتاب The myth maker Paul and The Invention of Christianity کے باب Jerusalem Church, Peter, Paul & Jamesکا سلیس ترجمہ ہے جس میں انہوں نے یسوع کے مقدس پطرس کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اس کی تکمیل کی صورتحال کی غیرروایتی دلچسپ تصویر پیش کی ہے اور عہدجدید کے اس پہلو کا اس انداز سے جائزہ لے کر حقائق کو متعارف کروایا ہے جس سے اس سے قبل قارئین عہدجدید روشناس نہ تھے۔ اس طویل مضمون کا ترجمہ محترمہ صبا خان صاحبہ(جھنگ)اور بندہ ناچیز کی مشترکہ کاوش ہےاوراس ادنی سی کاوش کو میں اپنے محسن، مرشد اور مربی محترم جناب ظفر اقبال صاحب مدظلہ کی طرف منسوب کرتا ہوں جن کی رہنمائی اورمحبت و شفقت کے باعث ہم یہ ترجمہ کرنے اور آپ کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوئے۔ترجمہ کرتے ہوئے اگر کوئی غلطی آپ کے سامنےآئے تو ضرور نشاندہی کیجئے گا۔آپ کا مشکور ہوںگا۔
        آپ کا رفیق
       عبداللہ غازیؔ
اس تحریر کو پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

یقیناً ہم یہاں فریسی ازم کی ابتدائی کلیسیاء میں امتیازی حیثیت پر مزید توجہ دیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رکھیں گے کہ خود یسوع نے اس بارے میں کیا بتایا ہے؟
اعمال کی کتاب اس بات کی گواہ ہے کہ ابتدائی کلیسیاء خود بھی ایک نئے مذہب کے بجائے یہودیت ہی کی ایک شاخ کی حیثیت سے شناخت رکھتا تھا۔ اس کے جمیع ارکان مکمل سرگرم یہودی ہی تھے جو شریعت کے تمام قوانین بشمول ختنہ، خوراکی پاکیزگی کا نظام، سالانہ عبادتی تہواروں کی مکمل پاسداری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ قربانی ادا کرنے کی غرض سے کثرت سے ہیکل میں حاضر ہوتے (اعمال 2:46) اور ہیکل کے احاطے میں داخلے سے قبل غسل کرنے کی ہدایت کے ذریعے مذہبی ارکان کی پاکیزگی کے ضابطے پورے کرنے میں احتیاط برتتے ہوئے ہیکل کی رسومات کی بہت زیادہ تعظیم کرتے نظر آتے ہیں۔ درحقیقت ان کی ہیکل کی رسومات کی ادائیگی بالکل فریسیوں کی طرح دیگر سرگرم یہودیوں سے بہت اوپر جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب فقط اعمال کی کتاب کے متن سے ہی ظاہر نہیں ہے بلکہ کلیسیائی روایات میں بھی موجود ہے اور خصوصی طور پر یعقوب برادر یسوع کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو کہ ہیکل میں حاضر ہونے کے معاملات میں یروشلم چرچ کے سربراہ تھے۔ (Hegesippus, quoted by Eusebius, Ecclesiastical history, 2.23) کچھ علماء اس شہادت کو خلل ڈالتے ہوئے پاتے ہیں کہ یہ نتیجہ اعمال کی کتاب کی سادہ سی وضاحت میں شک ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ زوردار مثال ہے اس غیر تعصبانہ مظاہرہ کی جو عہد جدید کے نئے دور کے علماء میں بہت عام ہے۔ ایک مقدس تشکیک جو اپنے علم کے متعلق ان کے ذہن میں جگہ بنا چکی ہے جہاں متن کی قبولیت عیسائیت کے مقررہ عقائد کے خلاف چلتی ہے۔ مسیحی علماء متن کے بارے میں شکوک و شبہات میں جانے اور زیرِ بحث متن کی تاریخی حقیقت کو جھٹلانے کے لیے بھی تیار ہیں ۔ کبھی کبھی غیر مسیحی عالم عہد نامہ ِ جدید کے متن کو قبول کر لیتے ہیں اور یہ پچھلی نسلوں میں ہونے والی حیران کن تبدیلی ہے۔
ہیکل کے لیے عقیدت اور خلوص کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی تھا کہ ابتدائی کلیسیاء کے زعماء نے خود کو کبھی کاہن نہیں گردانا تھا، نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کی ایک نشانی نئی کہانت کی زیرِ نگرانی ادا کی جانے والی رسومات (ساکرامنٹ) بھی ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسیحیت میں عشائے ربانی کی بنیاد رکھی گئی اور اس رسم کا انتظام کرنے کے لیے ایک نئی کہانت کی بنیاد بھی رکھی گئی، جس کے نتیجہ میں مسیحیت یہودیت سے بالکل الگ ایک نیا مذہب بن گیا۔ لیکن ابتدائی کلیسیاء میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ اعمال کی کتاب اس کا ثبوت ہے کہ یروشلم کے چرچ میں عشائے ربانی کی رسم کا کوئی تصور نہ تھا۔ اور اعمال کی کتاب کے اس ثبوت کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے جو Didach( یروشلم چرچ کی ابتدائی دستاویز کا ایک بڑا حصہ) میں آیا ہے اور شراب اور روٹی کی ایک رسم کے بارے میں تفصیل فراہم کرتا ہے (یہ عشائے ربانی سے بالکل مختلف رسم ہے) لیکن اس میں شراب اور روٹی کو یسوع کے خون اور جسم سے تشبیہ نہیں دی جاتی تھی۔اور یوں جو رسم بیان کی گئی ہے وہ سادہ یہودی قدوش Qiddush ہی ہے جو کہ سبت یا تہوار کے کھانوں سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔ عشائے ربانی کا سب سے پہلا بیان پولس کے (cor.11.23.30 (کرنتھیوں کے نام خطوط میں آتا ہے۔ اور اس کے الفاظ اس بات کی واضح طور پر تشریح کرتے ہیں کہ اس نے عشائے ربانی کے بارے میں ہدایات یروشلم چرچ کی روایات سے نہیں لیں بلکہ آسمانی یسوع سے الہامی صورت میں براہِ راست گفتگو کر کے لی ہیں،جس الہام میں عشائے ربانی کا قیام یسوع کےزریعہ ان کے آخری کھانے کے وقت ہوا۔ پولس کا یہ غیر مادی صورت کا الہام مختصر انجیل کے لکھنے والوں نے یسوع کے آخری کھانے کے عنوان کے تحت بہت سے متضاد طریقوں سے بیان کیا ہے۔ انجیل کے آخری کھانے کے بارے میں سب سے طویل بیان یوحنا انجیل نویس کا ہے جس نے عشائے ربانی کے بارے میں سب کچھ حذف کر دیا ہے۔
مندرجہ بالا بحث کا واضح نتیجہ یہ ہے عشائے ربانی کی رسم تاریخی حقائق کے اعتبار سے یسوع کی قائم کردہ نہیں ہے اس لیے یسوع مسیحیت کو یہودیت سے الگ مذہب بنانے والے نہیں ہیں۔یسوع کے مطابق یہودی ہیکل کی رسمیں ہی، جو خاندانِ ہارون کے کاہنوں کی زیر نگرانی ادا کی جاتی تھیں، قابلِ عمل تھیں اور کسی نئی رسم کے زریعے ان کاہنوں کی کہانت یا ہیکل کو منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔( اس کوڑھی کو ہیکل میں شرع کے مطابق قربانی ادا کرنے کے لیے کہتا ہے جسے اس نے شفاء دی تھی ، متی 8:4'' جب انہوں نے عبادت گاہ کی اصلاح کی کوشش کی تو ہیکل سے صرافوں کا خاتمہ کیا ، ان کا یہ عمل فقط اس لیے تھا کہ وہ (صرافے) اس عمل سے خدا کے گھر کی بے حرمتی کر رہے تھے۔ اس سے یسوع کی ہیکل کے لیے احترام کے وضاحت ہوتی ہے نہ کہ بے ادبی کی، جیسا کہ اس واقعہ سے کچھ لوگوں نے محسوس کیا ہے۔)
عشائے ربانی کے مؤسس یسوع نہ تھے بلکہ پولس تھا اور یہ عمل اس الہام پر مبنی تھا جس میں آسمانی یسوع نے اسے اس رسم کے بارے میں ایک نئے مذہب کے بانی کے طور پر ہدایات دیں، اور پولس اپنے آپ کو یروشلم چرچ کے ان قائدین سے بدرجہا بہتر سمجھتا تھا جن کا زمینی یسوع کے ساتھ قریبی تعلق رہا تھا لیکن پولس کی طرح ان کو آسمانی یسوع سے مسلسل ہدایات نہیں ملتی تھیں۔ پال اپنے خط میں اپنے مقام کو واضح کرتا ہے لیکن اعمال کی کتاب بھی یروشلم چرچ اور پولوسی چرچ کے درمیان تسلسل کے تحفظ کے لیے مضطرب نظر آتی ہے، اور رسولوں کے ساتھ برابری دینے کے لیے پولس کے مقام کو گھٹاتی ہے اور رسولوں، خاص طور پر پطرس کی تصویر کشی ، یسوع کے ارادوں کو سمجھنے کی کمی پر آہستہ آہستہ قابو پانے والے اور پولس کے مقام تک ترقی پانے والے کے طور پر کرتی ہے۔
پطرس کی پولس کے مقام تک پہنچنے کی مبینہ تعلیم کی کلید پطرس کے خواب کی ایک قسط اعمال باب 10میں بیان ہوئی ہے جس میں وہ دیکھتا ہے کہ
جِس میں زمِین کے سب قِسم کے چَوپائے اور کِیڑے مکوڑے اور ہوا کے پرِندے ہیں۔ اور اُسے ایک آواز آئی کہ اَے پطرس اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔ مگر پطرس نے کہا اَے خُداوند! ہرگِز نہِیں کِیُونکہ مَیں نے کبھی کوئی حرام یا ناپاک چِیز نہِیں کھائی۔ پھِر دُوسری بار اُسے آواز آئی کہ جِن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہِیں حرام نہ کہہ۔
اعمال باب 10 فقرات 12 تا 15
اس کہانی کا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ غذا کے بارے میں قوانین ختم ہو گئے ہیں، کیونکہ اس بات کو تو بہت محتاط طریقہ سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ناپاک جانور مشرکوں کا استعارہ ہیں، جن کو بغیر امتیاز کے مسیحیت کی تحریک میں داخل کیا جانا ہے۔ بلکہ زیادہ دلچسپ امرتو وہ ہے جس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا ہے ، اور وہ یہ کہ پطرس ایک مکمل باعمل یہودی ہے، جس کا یسوع کے ساتھ تعلق ایسا مضبوط تھا کہ اس رابطہ نے اس کو پاک اور ناپاک جانوروں کے قوانین سے کبھی لاپرواہ ہونے نہیں دیا۔ اگر یسوع نے تورات کو منسوخ کر دیا تھا تو پطرس اس سے اتنا بے خبر کیسے رہا ؟ یا ( اگر اس کہانی کو غیر تاریخی سمجھا گیا ہے) اعمال کے لکھنے والے نے کیسے اس بات کو غیر اہم سمجھا ہے کہ اس مقام پر پطرس شریعت کی منسوخی کے کسی بھی عقیدے سے لاعلم ہے ؟ اگرچہ اعمال کا مصنف پطرس کے رویے میں بتدریج تبدیلی کو بیان کرنا چاہتا ہے ، لیکن وہ کسی بھی ایسی تبدیلی کو بیان کرنے کی جرات نہیں کرتا جو اس میں یسوع کے ساتھ تعلق کی وجہ سے آئی اور جس نے (ان کی سوچ کے) برخلاف اس کو ایک مکمل باعمل یہودی بنا دیا۔
لیکن کیا یسوع نے یہودیت کے غذا سے متعلق قوانین کو صراحتاْ منسوخ نہیں کیا؟ جب ان کا فریسی علماء کے ساتھ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے معاملے کے بارے میں تصادم ہوا(متی۔15 مرقس 7) انہوں نے کہا کہ نجاست اس سے آتی ہے جو منہ سے باہر آتا ہے نہ کہ اس سے جو منہ کے اندر جائے۔اور مرقس کی انجیل کے مصنف نے اس میں اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ اس طرح انہوں نے ہر کھانے کی چیز پر پاک ہونے کا حکم لگایا ہے (مرقس7،19)( یونانی کےاس، کسی قدر دقیق جملےkatharizon panta ta bromata'' کا یہ ترجمہ RV اور NEB اور دوسرے تراجم میں ملتا ہے، جو کہ چرچ کی روایات پر مشتمل ہے) یہ الفاظ متی کے اسی کے متوازی متن میں مفقود ہیں، اور زیادہ تر علماء اس کو مرقس کی انجیل کی تشریحاتی اشاعت تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس جملے کا NEB ترجمہ شاید غلط ہے. یسوع کا مذاکرہ اس کے بجائے یہ ترجمہ بتاتا ہے ۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جو بھی ہم کھاتے ہیں وہ پاک ہوتا ہے جو کہ جسمانی صفائی کے پچھلے موضوع کو تسلسل دیتا ہے اور خود یسوع کے ہی سابقہ خیالات کا خلاصہ ہے۔ اگر یہ ترجمہ درست ہے تو ان سب کے بعد یہ جملہ شاید بعد میں آنے والی تشریحی ادارتی اشاعت نہ ہو۔ تب اس متن کو اس بات کے ثبوت کے حوالے کے طور پر نہیں دیا جا سکتا کہ یسوع نے یہودیت کے غذا کے متعلق قوانین کو منسوخ کر دیا تھا۔ اور یہ کسی بھی صورت میں متعلقہ مواد کے ساتھ مطابقت کی کمی کی وجہ سے بھی مشکوک ہو سکتا ہے، اس لیے کہ یہ مضمون کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے بارے میں ہے نہ کہ خود طعام کے بارے میں۔ جو تشریح اس جملے کی کی گئی ہے وہ اس کے بعد صرف اسی بات کی گواہی دیتی ہے کہ پولس کے چرچ کے اراکین خود ہی تورات کے قوانین کومسترد کر کے اس کو یسوع کے ساتھ منسوب کرنے کے متمنی ہیں۔ پطرس کے خواب والا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع نے اس کو اپنے قواعد کے بارے میں کوئی ایسی ہدایات نہیں دیں، اور اس نے ہمیشہ غذا کے متعلق قوانین پر اس قدر احتیاط سے عمل جاری رکھا ہے کہ پطرس خواب میں بھی اس خیال سے خوفزدہ ہے کہ اس کو ان قوانین کی خلاف ورزی کا کہا جا رہا ہے۔
لیکن بلا شبہ تمام انجیلوں میں ایک مشہور واقعہ مذکور ہے جو اس دعویٰ کی مخالفت کرتا ہے کہ یسوع نے کسی نئے چرچ کی بنیاد نہیں رکھی، اور ان کا یہودیت، اس کے شعائر ِ مقدسہ، اور اس کی کہانت کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہ تھا؟ عیسائی کہانت کا مکمل شعبہ خاص طور پر پاپائیت، کی بنیاد اس واقعہ کی سند پر ہے (متی باب 16 فقرات 15 تا 19) جس میں یسوع پطرس کا تقرر ایسی چٹان کی مانند کرتے ہیں جس پر انہوں نے کلیسیاء کی بنیاد رکھی. پطرس ہارونی کاہن نہیں تھا اس لیے اس کے نامزد ہونے سے وہ سابقہ کہانت منسوخ ہو گئی جو موسی کے بھائی ہارون کی اولاد میں موروثیت کی طرز پر قائم تھی۔ درحقیقت یہ واقعہ عشائے ربانی کا ایسی رسم کے مثل ذکر نہیں کرتا جس نے اُن رسومات کی جگہ لے لی جو ہارونیوں کو تفویض کی گئی تھیں،لیکن یقینی طور پر یہ ایک نئی کہانت کا اعلان تھا جو موروثی نہیں بلکہ رسولی جانشینی کی بنیاد پر تھی۔
کچھ علماء کی رائے ہے کہ یہ واقعہ جعلی ہے جس کا مقصد رومی کلیسیاء کو پہلے پوپ پطرس کا قانونی جانشین ظاہر کرنا ہے۔ میں (مصنف) اسکے برخلاف یہ سمجھتا ہوں کہ اس واقعہ کو انتہائی مستند اور تاریخی بنیادوں پر بیان کیا گیا ہے۔ اس مضمون کی اہم وجہ اس بات کا اعتماد بھی ہے کیونکہ یہاں مکمل طور پر یہودی رنگ غالب ہے۔ اس میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہیں جو یہود دشمنی کو ظاہر کرتی ہے (وہ یہ کہ بظاہر یونانی کے بجائے عبرانی و آرامی محاوروں کو خصوصیت سے شامل کیا ہے) یہ انتہائی ناپسندیدہ امر ہے کہ یہ واقعہ غیر یہودی متصرفین کے ذریعے داخل کیا گیا ہو۔
اس کے باوجود اس مضمون کے ذریعے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ یسوع کسی مسیحی کلیسیاء کی بنیاد نہیں رکھ رہے تھے اور نہ ہی پطرس کو پہلا پوپ مقرر کررہے تھے۔
عہد جدید میں شامل ایک لفظ ecclesia کا ترجمہ عموما "کلیسیاء" کیا جاتا ہے. یہ لفظ ایک سے زائد مرتبہ عہد جدید میں مذکور ہے جہاں اس کے معنی "فرقہ" کے ہیں۔ بہت بعد میں مترجمین عہد جدید نے اس کا مخصوص ترجمہ کیا جو کہ مخصوص مسیحی تنظیم کے معنوں میں تھا. لیکن جب یسوع مقدس پطرس سے یہ کلمات (تُو پطرس ہے اور میں اِس پتھّر پراپنی کلیسیا بناؤں گا ) کہہ رہے تو ان کے مافی الضمیر ایسا کوئی مقصود معنی نہ تھا۔ ان الفاظ سے یسوع کا مطمع نظر کوئی نیا مذہب قائم کرنے کے بجائے عمومی معنوں میں فقط ایک مذہبی فرقے کی تشکیل تھی۔ چونکہ یہودیت میں بہت سے فرقوں کا وجود تھا جن کا یہودیت سے کسی خاص نوعیت کا تعلق نہ تھا۔ لہٰذا پاپائیت کے نظام کی تائید کے لیے مفسرین نے اس لفظ "کلیسیاء" کا ایسا معنی لوگوں کے ذہن میں منتقل کیا جو یسوع کے وقت میں ہرگز نہ تھا۔
لیکن یسوع کےمافی الضمیر "کلیسیاء" سے کیا مراد تھی؟ اور انہوں نے چٹان کی اصطلاح کیوں استعمال کی؟ یہ واضح طور پر قیادت سونپنے کا بیان ہے لیکن کیا یہودی تہذیب و روایات میں ہم ایسے کوئی تمثیل پا سکتے ہیں؟
بہرحال یہاں مزید ضروری اور پیچیدہ سوال ہے جو اس سارے واقعے کو انتہائی مشکوک بنا دیتا ہے۔ اگر یسوع یہاں تمثیلی انداز میں پطرس کا تقرر اس "کلیسیاء" کے سربراہ کے طور پر سے کررہے تھے تو ایسا کیوں ہے کہ ابتدا میں چرچ کی قیادت پطرس کے بجائے یعقوب برادر یسوع کو ملتی ہے؟ اس سوال کا جواب جہاں مکمل اولین کلیسیاء اور اس کا یسوع سے تعلق پر روشنی ڈالے گا وہیں یہ یسوع کے مقاصد اور اس کا یہودیت سے برتاؤ کی بھی وضاحت کرے گا.
وہ پورا واقعہ فقط متی کی انجیل (متی باب 16 فقرات 15 تا 19) میں ہی پایا جاتا ہے جہاں یسوع پطرس کا تقرر بطور چٹان کرتے ہیں.
اُس نے اُن سے کہا مگر تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ شمعُون پطرس نے جواب میں کہا تُو زِندہ خُدا کا بَیٹا مسِیح ہے۔ یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا مُبارک ہے تُو شمعُون بریوناہ کِیُونکہ یہ بات گوشت اور خُون نے نہِیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تُجھ پر ظاہِر کی ہے۔ اور مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ تُو پطرس ہے اور میں اِس پتھّر پراپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے۔ میں آسمان کی بادشاہی کی کُنجیاں تُجھے دُوں گا اور جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا۔
(متی باب 16 فقرات 15 تا 19)
اس واقعہ کا عبرانی بائبل میں موجود واقعہ سے موازنہ کافی معلومات فراہم کرتا ہے جہاں یسعیاہ نبی شنباہ کو نبوت کرتے ہیں کہ الیاقیم نامی ایک شخص عنقریب حزقیاہ بادشاہ کی جگہ مقرر ہوگا۔
اور اس روز میں اپنے بندے الیاقیم بن حلقیاہ کو بلاؤں گا اور تیری پوشاک پہناؤں گا اور تیرا کمربند اسے باندھوں گا اور تیرا عہد اس کے ہاتھ میں دوں گا اور وہ یروشلم کے باشندوں اور یہودہ کے گھرانے کا باپ ہوگا اور میں داؤد کے گھر کی کنجی اس کے کندھے پر رکھوں گا اور وہ کھولے گا تو کوئی بند نہ کرے گا اور وہ بند کرے گا تو کوئی نہ کھولے گا۔
یسعیاہ باب 22 فقرات 20 تا 23)
یہ پورا واقعہ پطرس کے انجیلی تقرر میں چند غیرمعمولی مشابہتیں ظاہر کرتا ہے جہاں چٹان ہونے کے بجائے الیاقیم کیل کی طرح مضبوط جگہ میں قائم ہے، لیکن مضبوطی کی تشبیہ یکساں ہے۔ "آسمان کی بادشاہت کی کنجیاں" دینے کے بجائے الیاقیم کو "داؤد کے گھرانے کی کنجیاں" دی گئیں۔ یہ آخری بیان مشابہت سے زیادہ ظاہر ہوسکتا ہے کیونکہ آسمان کی بادشاہت دراصل داؤد کے گھرانے کے متماثل ہی تھی۔ یسوع نے یہاں وہی اسلوب بیان استعمال کیا ہے جو وہ تمثیلی انداز میں آزاد اسرائیل کے لیے استعمال کرتے تھے، یسوع کو اسرائیل کی آزادی جو کہ درحقیقت خدا کی بادشاہت تھی، کی امید تھی کہ آزاد اسرائیل کی سرزمین رومی قانون کے زیرتسلط ہونے کے بجائے خدا کے قانون (خدا کی بادشاہی) کے ماتحت ہوگی۔ یسوع پطرس کو اس ملک کے بادشاہ کی حیثیت سے مقرر کررہے تھے جس کا سربراہ دوسرا داؤد ہوگا. یسوع خود بھی اپنے باپ داؤد کے تخت کا وارث ہونے کا جواز رکھتے تھے۔ یہ معاملہ وضاحت طلب ہے کہ یروشلم چرچ کے سربراہ یسوع کے جانشین پطرس کے بجائے یعقوب کیسے بن گئے؟ ایک بادشاہ کا جانشین وزیر اعظم کے بجائے اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، اگرچہ وزیراعظم بھی نئے بادشاہ کے ماتحت اپنی خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ نقطہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ یروشلم چرچ کی قیادت میں یعقوب کے بعد آنے والے بھی یسوع کے قریبی رشتہ دار ہی تھے۔ یسوع کی تحریک ایک نئے مذہب کے بجائے بادشاہی تحریک تھی جس کا مقصد قدیم یہودی بادشاہت کی بحالی تھا، یہودیت سے الگ تھلگ بطور نئے مذہب کے، مسیحیت کا بانی یسوع کے بجائے پولس تھا۔
الیاقیم اور پطرس کو دیئے گئے عہدوں کے درمیان مشابہت بہت نمایاں ہے. ایک طرف پطرس سے کہا گیا کہ " جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا۔ " تو دوسری طرف الیاقیم سے کہا گیا کہ" وہ کھولے گا تو کوئی بند نہ کرے گا اور وہ بند کرے گا تو کوئی نہ کھولے گا۔باندھنے کی اصطلاح ربائی تمثیلی بیان میں منع کرنے کے لیے اور کھولنا کا معنی اجازت دینا ہے۔ یہ ایک بےحد واضح سامی اصطلاح ہے جو اس قضیہ میں موجود ہے۔
یسوع کی کیا مراد تھی جب وہ پطرس سے کہہ رہے تھے کہ جو کچھ وہ زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھے گا اور جو کُچھ وہ زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا؟یہاں آسمان کی اصطلاح خدا کے ہم معنی میں نہیں ہے (جیسا کہ ایک عمومی ربائی بیان میں پیچھے آسمان کی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے) یہاں اس کا مطلب خدا کا گھر ہے. آسمان کی بادشاہت کی کنجیوں کا پطرس کو جانشین بنانے کے معنی مسیحی قارئین خلط مبحث کرتے ہوئے یہ اخذ کرتے ہیں کہ پطرس ایک نگہبان فرشتے کی حیثیت سے جنت کے دروازے پر یہ فیصلہ کرنے کے لیے مامور ہے کہ کون اس میں داخل ہوگا اور کسے رد کردیا جائے گا). لیکن یسوع پطرس کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار کیسے دے سکتے تھے کہ جس کو خدا کو بھی قبول کرنا پڑے؟ کیا یہ پطرس خدا سے بڑھ کر بلند مرتبت اور مافوق الفطرت ہستی ہے؟
ہم اس معاملے کو ربائی تصنیفات کی مدد سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ربائی تحریر یسوع کا پطرس کو عہدہ دینے کے معاملے سے تعلق رکھتی ہے مشہور ربی جوشوا بن حننیاہ جس نے اس تاریخ کے بارے میں جو انہوں نے اس سال کفارے کے دن کے لیے مقرر کی تھی، اس مسئلہ پر گملیل ثانی کی عدالت کے فیصلے سے شدید اختلاف کیا۔ (یہ اس دور میں ہوا جب وہاں کوئی خاص کلینڈر مقرر نہ تھا اور مہینوں کے آغاز کا فیصلہ چاند دیکھ کر کیا جاتا تھا)
ربی گملیل نے ربی جوشوا کو بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں کفارے کے دن اپنے ہرکاروں اور نذرانوں کے ساتھ میرے پاس آنے کے لیے مقرر کرتا ہوں۔ ربی عقیبہ، ربی جوشوا کے پاس گیا تو اسے حیران و پریشان پایا۔ اس نے اسے کہا :میں تمہیں کتاب مقدس سے سمجھا سکتا ہوں کہ جو کچھ گملیل نے فرمایا بالکل درست کہا ہے کیونکہ ایسا ہی لکھا ہے خداوند کی عیدیں جن کا اعلان تم کو مقدس مجمعوں کے لیے وقت مقرر پر کرنا ہوگا وہ یہ ہیں (احبار 23:4) خواہ ان کی آمد خاص موسموں میں ہو یا نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ ان کے علاوہ کوئی بھی عید محفوظ نہیں رہی ہے۔ ربی جوشوا اسکے بعد ربی دوسا بن ہرکیناس کے پاس کیا (جو پہلے ہی ربی گملیل کے فیصلوں سے اختلاف رکھتا تھا) اور اسے کہا : اگر ہم ربی گملیل کی عدالت کے فیصلوں کی شرعی حیثیت کی جانچ پڑتال کریں گے تو پھر ہمیں ہر اس عدالت کے فیصلوں کی شرعی حیثیت کی تفتیش کرنی پڑے گی جو موسی کے دور سے اب تک قائم ہوئی ہیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں اور اپنے نذرانے ساتھ لیے اور جبناہ کی طرف ربی گملیل سے ملنے اس وقت روانہ ہوا جو کہ اس کے حساب سے کفارے کا دن تھا۔ ربی گملیل نے کھڑے ہوکر اسکے سر کا بوسہ لیا اور کہا : سلامتی میں رہو میرے استاد، میرے شاگرد میرے استاد تم دانائی و حکمت میں ہو اور میرے شاگرد اس لیے کہ تم نے میری بات کو قبول کیا۔ (m. Roz. Hash. 2.9,Danby's translation )
یہاں ہم یہ نظریہ دیکھتے ہیں کہ خدا نے ربائی عدالت کا فیصلہ خارجی طور پر درست یا غلط ہونے کے امکان کے باوجود قبول کر لیا۔ جب یسوع نے پطرس کے بارے میں یہ اعلان کیا کہ جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا، تو یسوع کے مافی الضمیر مراد یہ نہیں تھی کہ پطرس کو انفرادی حیثیت سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے بلکہ اسے ربائی گملیل کی طرح ایسی عدالت کا سربراہ مقرر کرنا تھا جس کے فیصلے کثرت رائے سے منظور کیے جاتے تھے۔ عصرحاضر کا کثرت رائے کا جمہوری اصول تلمود کے واقعات میں بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس واقعے میں سب سے حیرت انگیز بات ربائی العزر کا شرعی عدالت کے فیصلوں سے انحراف کی کوشش اور اس کے رائے کے برخلاف کثرت رائے سے ہونے والے فیصلوں کی منسوخی کا خواہاں ہونا دراصل خدا کو اپنی مدد کے لیے پکارنا تھا۔ ایک ہاتف غیبی کی آواز آتی کہ ربائی العزر درست ہے۔ ندائے غیب خلاف قائدہ قانون تھا کیونکہ اکثریت رائے کا اصول خود خدا کی طرف سے قائم کیا گیا تھا جس کو کسی معقولی اختلاف کے بغیر منسوخ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس پورے قصے (جو کہ قرون وسطی میں ہونے والے مسیحی و یہودی مناظروں میں مسیحی دلیلیوں کی طرف سے ملعون قرار دیا گیا) کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا ہنسا اور کہا! میرے بچوں نے مجھے مات دے دی ہے۔ اس مبینہ کہانی کے مطابق خدا خوش تھا کہ انسانی عدالت میں اسکے خلاف اسکے حقوق کا حق جتایا ہے۔
اگرچہ انسانی عدالتوں کے فیصلوں میں انسانی اور مغالطہ انگیزی کا امکان موجود رہتا تھا مگر اسکے باوجود بھی یہ خدا کی طرف سے خاص معنوں میں سمجھے جاتے تھے کیونکہ کثرت رائے سے فیصلہ کرنے کا اختیار خدا کی طرف سے ہی دیا گیا تھا۔ اس طرح کے فیصلے غلط ہونے کے باعث بوقت ضرورت اعلی عدالتوں کی طرف سے بدل دیئے جاتے تھے۔ یہ ضابطہ دستور کی ربیانہ اور تخیل پروازی کی صورت ہے جس نے بعد میں مسیحی چرچ کے تیر بہدف نظریات کی ادھوری بنیاد فراہم کی. تاہم یہ بیسویں صدی تک عقیدہ نہ بن سکی۔
پس ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یسوع کے پطرس کے لیے کہے گئے الفاظ ربائی گملیل ثانی (اعمال میں مذکور گملیل کا پوتا) کی طرح ایک عہدے کی تقرری کے لیے تھے جو کہ اس مجلس کا سربراہ تھا جس میں قانون سازی کی جاتی تھی۔ ربائی گملیل نے بھی اسی عدالت کی صدارت کی جس کے فیصلے خدا کی طرف سے قبول کیے جاتے تھے "جو زمین پر باندھو گے آسمان پر بندھے گا اور جو زمین پر کھولو گے آسمان پر کھلے گا"۔ جب ربائی گملیل کی عدالت نے کفارے کے دن کی مخصوص تاریخ کے تعین کا فیصلہ کیا تو خدا نے بھی بظاہر اس کے غلط ہونے کے باوجود آسمان پر اپنے کلینڈر پر اسی تاریخ پر نشان لگا دیا۔
لہٰذا یسوع کی جانب سے پطرس کی تقرری نہ صرف ایک لسانیاتی (جیسا کہ کھولنے اور باندھنے کے عبرانی اصطلاحی لفظ جو کہ اجازت دینے اور منع کرنے کے معنی میں ہیں) نمایاں خصوصیت کو ظاہر کرتی اور اسے مستند بناتی ہیں بلکہ نظریاتی خصوصیت کو بھی ظاہر کرتی ہے (وہ تصور جس کے مطابق خدا بزرگوں کی انسانی مجلس کے فیصلوں کی پابندی کرنے کا ذمہ دار تھا) جو کہ پطرس کے واقعہ کو ربائی گملیل کی طرح قابل قبول بناتی ہے۔ یہودیوں کے مذہبی رجحانات میں صرف ربائی تحریک اور ان سے قبل فریسی تحریک میں ہی یہ جرات مندانہ تصور موجود تھا کہ خدا نے ان کو خطا پر مبنی فیصلے کرنے کا اختیار دیا تھا۔ وادی قمران کے صحائف جس یہودی فرقہ سے متعلق ہیں ان کے یہاں بھی ایسا کوئی تصور موجود نہیں تھا جیسا کہ ان کے لکھنے والوں کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ ربائی مشنا اور تلمود سے مختلف ہے اور فیصلہ کرنے یا ووٹ دینے کا کوئی ماحول اپنے اندر نہیں رکھتے بلکہ وہاں قابل توجیح خیالات کا اظہار مقصود ہے جسے ناقابل تغیر اور مذہبی قائدہ سمجھا جاتا تھا۔
ربائی العزر کے قصے کے بارے میں قرون وسطی کے مسیحیوں کی ملامت کچھ تبصروں کا تقاضہ کرتی ہے یہ واقعہ مسیحیوں کے اس الزام کی توثیق کرتا ہے جس میں ربیوں نے خود ہی صحائف کو منسوخ کرنے کے اپنے حق کو رد کردیا تھا۔ یہاں ربیوں کی اس طرح عکاسی ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے خود خدا کو ہی رد کردیا ہو۔ یہ بالکل کفر تھا اور عہد جدید کے اس بیان کی تصدیق ہے جس میں یسوع فریسیوں کو مجرم ٹھہراتے ہیں کہ " تُم نے اپنی رِوایَت کے سبب سے خُدا کے حُکم کو باطل کردیا ہے"۔ (متی 15:6)
اسکے باوجود عہد نامہ جدید میں نظر آتا ہے کہ فریسیوں اپنی دعاوی میں عاجزی رکھتے تھے کیونکہ یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ یسوع نے ایک خاص قسم کے اختیار کو اپنا کر تعلیم دی جس کے لوگ پہلے سے عادی نہ تھے۔ "
وہ اُن کے فقِیہوں کی طرح نہِیں بلکہ صاحبِ اِختیّار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا" (متی 7:29) یہاں ایک تضاد یہ ہے کہ فریسی پراعتماد ہوکر صحف کو منسوخ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اختیار کا دعوی کئے بغیر تعلیم دی۔ یہ غیر معقول بیان دراصل اس بات پر ایک خفیف عکس ڈالتا ہے۔ ربائیوں کی تحریک نے قانون سازی کا دعوی کیا یا اسلاف کے بنائے گئے قوانین کو بطور روایت منتقل کیا جن میں سے کچھ بظاہر اصل تعلیمات کے خلاف نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہیں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے حکم کو لغوی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ اسے زخمی کے زخموں کا زر سے ہرجانہ لینے کے معنی میں استعمال کیا جائے۔ اس وقت تک ان کے قوانین بعینہ انسانی سطح پر بنتے تھے اور اگر اتفاق رائے کا ثابت ہونا اکثریت رائے سے ناممکن ہوتا تو بحث و یقین کے ساتھ قبول کیے جاتے تھے۔ یہ اختیار کا طریقہ نہیں تھا اور وہ یہ اعتبار ظاہر کرتے تھے کہ ان کی غیر معتبر طریقہ کار کی روش خدا کی طرف سے منظور شدہ ہے۔ تاہم یہ غیر معمولی بات اتنی باریک تھی کہ مخالفین کی طرف سے اس انداز میں وقعت پا گئی کہ انہوں نے فریسیوں کو خدا کے خلاف اپنے اختیار سے منصوبہ بنانے والا قرار دے دیا۔ اس معاملے میں ان کے سب سے بڑے مخالف صدوقی تھے جنہوں نے روایات کی پیروی کرنے اور کتاب مقدس سے عنقا قوانین وضع کرنے پر فریسیوں پر شدید تنقید کی۔
لیکن یسوع یقیناً صدوقی نہیں تھے ان کا بظاہر صدوقی ہونا متاخرین علماء کی روایات کے خلاف ہے۔ یہ وہی روایات ہیں جو کتاب مقدس کے لغوی معنی پر زیادہ زور دیتیں، اس کی سزاؤں میں تخفیف کرتیں، خواتین کی حالت میں ارتقاء لاتیں اور ہر قسم کی جدت کو قائم کرتی ہیں جیسا کہ جوزفیس نے لغوی معنی کی طرف محتاج صدوقیوں کی سخت مزاجی کا فریسیوں کی رحمدلی کے ساتھ موازنہ کیا ہے (antiquities 13.10.294).
Videos

Recent Post